کیا پنجاب میں پیپلز پارٹی کی واپسی ممکن ہے؟
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 19 / دسمبر / 2021
- 4340
پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سیاسی واپسی ایک بڑا چیلنج ہے۔ کیونکہ 1988کے انتخابات کے بعد عملی طور پر پیپلزپارٹی پنجاب میں سیاسی واپسی کی جدوجہد کررہی ہے۔ اس وقت لاہو رمیں ایک حالیہ ضمنی انتخاب این اے 133کے نتائج نے پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ ن کے مقابلے میں ایک بڑا سیاسی ریلیف دیا ہے۔
اگرچہ پیپلزپارٹی یہ انتخاب ہار گئی ہے لیکن 32313ووٹ لے کر اس نے دوبارہ پنجاب کی انتخابی سیاست میں ایک بڑی سیاسی انگڑائی لی ہے۔اسی طرح کئی انتخابات کے بعد پہلی باردو بڑے سیاسی حریفوں یعنی مسلم لیگ ن او رپیپلزپارٹی کا براہ راست سیاسی مقابلہ ہوا ہے۔کیونکہ پی ٹی آئی ایک تکنیکی غلطی کی بنیاد پر اس حلقہ انتخاب سے باہر ہوگئی تھی۔حالیہ خانیوال کے ضمنی انتخاب میں پیپلزپارٹی کا پندرہ ہزار ووٹ حاصل کرنا بھی ان کے لیے یقینا امید کی نئی کرن کہی جاسکتی ہے۔اس کامیابی کو بنیاد بنا کر پیپلز پارٹی کی سیاسی قیادت، ان کے حامی دانشور، ووٹرز او رکچھ سیاسی پنڈتوں کے بقول پنجاب میں پیپلزپارٹی کی سیاسی واپسی کا عمل شروع ہوگیا ہے او روہ ایک متبادل قیادت کے طور پر اگلے عام انتخابات میں اپنے سیاسی مخالفین کو ایک بڑا سرپرائز دے سکتی ہے۔
پنجاب کی عملی سیاست کو اگر آج کے حالات میں دیکھیں تو اس میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے لیے بڑے طاقت ور فریق کے طور پر موجود ہیں۔ 2018کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں تیسری بڑی قوت کے طور پر تحریک لبیک نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کو منوایا اور پیپلز پارٹی چوتھے نمبر پر آسکی۔ایک تجزیہ یہ بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر این اے 133میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں تحریک انصاف کا امیدوار بھی میدان میں ہوتا تو کیا پیپلزپارٹی کے لیے یہ ہی نتیجہ نکلتا جو اب سامنے آیا ہے تو جواب نفی میں ہوتا۔ پیپلزپارٹی کو یقینی طور جو اس حلقہ میں سیاسی فائدہ ہوا وہ تحریک انصاف کی عدم موجودگی کا ہی تھا او راس عدم موجودگی نے عملی طور پر پیپلزپارٹی کو براہ راست مسلم لیگ ن کے مدمقابل کھڑا کردیا ہے۔
پیپلزپارٹی کی پنجاب سیاست میں بحالی کو محض این اے133کے انتخابی نتیجہ کی بنیاد پر دیکھ کر مستقبل کی منظرکشی کرنا ایک غلط تجزیہ ہوگا۔یہ دیکھنا ہوگا جہاں بھی مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، تحریک لبیک، جماعت اسلامی او رمسلم لیگ ق ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی وہاں پیپلزپارٹی سیاسی میدان میں کہاں کھڑی ہوگی۔ اس وقت بھی مجموعی طور پر مسلم لیگ ن، تحریک انصاف او رتحریک لبیک اپنی سیاسی طور پر پنجاب کی سیاست میں مستحکم نظر آتی ہیں۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کے لیے اپنی جگہ کی تلاش کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔پیپلزپارٹی کی پنجاب میں انتخابی سیاست میں عدم موجودگی یا غیر اہمیت کی ایک بڑی وجہ خود پیپلزپارٹی کی داخلی سیاست بھی ہے۔ پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن کے باہمی سیاسی رومانس او رایک دوسرے کے لیے پنجاب اور سندھ کے سیاسی میدان کو کھلا چھوڑنے کی پالیسی نے بھی ان کو سیاسی طور پر تنہا کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کو پنجاب میں انتخابی سیاست میں جگہ بنانے کے لیے مسلم لیگ ن او رتحریک انصاف سمیت تحریک لبیک کو بھی سیاسی طو رپر بڑا چیلنج یا مزاحمت دینا ہوگی۔ کیونکہ یہ تینوں سیاسی قوتیں آسانی سے پیپلزپارٹی کو سیاسی میدان میں جگہ نہیں دیں گی۔ اسی طرح اگر پیپلزپارٹی نے پنجاب میں ان دونوں بڑی جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی اتحاد بنانا ہے تو اس میں ان کے ساتھ کون کھڑا ہوگا یہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔پنجاب کی شہری سیاست میں مسلم لیگ ن او رتحریک انصاف کو آسان فریق سمجھنا یا یہ سمجھنا کہ یہ جماعتیں اپنی سیاسی سطح پر مقبولیت کھوچکی ہیں ایک درست تجزیہ نہیں ہوگا۔پیپلزپارٹی کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس شہری سیاست میں بحالی یا بالخصوص نوجوانوں کی سطح پر ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں۔پیپلزپارٹی کافی برسوں سے پنجاب کی سیاست میں جنوبی پنجاب کا کارڈ کھیلتی رہی ہے۔لیکن اب نئی صورتحال میں کیا وہ جنوبی پنجاب میں خود کو بحال کرسکے گی اس کا بدارومدار انتخابات سے قبل مقامی سیاسی جوڑ توڑ اور اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مرضی کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہوسکے گا۔
دراصل پیپلزپارٹی پنجا ب میں جو دوبارہ سرگرم ہوئی ہے اس کاایک سیاسی پس منظر ہے۔پیپلزپارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت دو منظر نامے ہیں۔اول مسلم لیگ ن او راسٹیبلیشمنٹ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے او ر اس سرد جنگ کے نتیجہ میں مسلم لیگ ن کی اقتدار کی سیاست میں واپسی فی الحال مشکل ہے۔دوئم وہ سمجھتی ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ اور عمران خان کے درمیان بھی معاملات بہت بہتر نہیں او ران کو نئے انتخابات میں فری ہینڈ نہیں مل سکے گا۔ اسی لیے آصف علی زرداری اسی صورتحال کو اپنے لیے سیاسی جگہ بنا کر خود کو اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے ایک متبادل قوت کے طور پر پیش کررہے ہیں۔آصف زرادی کی اس وقت جو حکمت عملی نظر آتی ہے وہ پورے پنجاب کی سیاست نہیں بلکہ وہ فی الحال جنوبی پنجاب کی سیاست میں بڑے خاندانوں کو یا الیکٹ ایبلزکو بنیاد بنا کر اگلے انتخابات میں اپنی انتخابی سیاست کا میدان سجانا چاہتے ہیں۔اس کے لیے ان کو نہ صرف مضبوط سیاسی خاندانوں کی حمایت درکار ہے بلکہ یہ لوگ انتخابی سیاست میں پیسے بھی خرچ کرسکیں۔
پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں وہ اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت لینے میں کامیاب ہوسکتی ہے او را س کے نتیجہ میں معقول تعداد میں نشستیں حاصل کرسکتے ہیں۔ان کی یہ بھی کوشش ہے کہ انتخابات سے قبل جو تحریک انصاف میں دھڑے بندی ہوگی اس کا فائدہ اٹھانا اور مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر انتخابی حکمت عملی کو ترتیب دے کر کچھ کرنے کے خواہش مند ہیں۔کیونکہ زرادی سمجھتے ہیں کہ ان کی سیاسی واپسی کسی نظریاتی سیاست، عوامی لہر او رپارٹی کو بہت زیادہ منظم کرنے کی بجائے ایک انتظامی و سیاسی حکمت عملی کے تحت ہوسکتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان کی سیاسی حکمت عملی میں مسلم لیگ ن بھی ٹارگٹ بن گئی ہے۔مسلم لیگ ن کا خیال تھا کہ وہ محض اینٹی عمران کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرکے اپنی سیاسی برتری قائم کرسکتی ہے۔ لیکن اب صورتحال ایک طرف اینٹی عمران خان ووٹ ہوگا تو دوسری طرف ان اینٹی عمران خان ووٹوں میں پارٹیوں کی بنیاد پر سیاسی تقسیم بھی ہوگی۔پیپلزپارٹی بھی چاہے گی کہ اسے مسلم لیگ ن کے ساتھ دو طرفہ طور پر اینٹی عمران خان او راینٹی نواز شریف ووٹ ملے۔
پیپلز پارٹی البتہ یہ اپنا تشخص قائم کرنے کی کوشش کرے گی کہ اسے لبرل یا پروگریسوطبقہ کا ووٹ ملے او رجو لوگ بھی انتہا پسندی کے خلاف ہیں وہ پیپلزپارٹی کا انتخاب کریں۔لیکن اس کے لیے اسے بہت محنت کرنا ہوگی۔کیونکہ پیپلزپارٹی کے بارے میں یہ تاثر بہت مضبوط ہے کہ وہ اس وقت اسٹیبلیشمنٹ کے لیے سہولت کا ر کا کردار ادا کررہی ہے تو جو لو گ اینٹی اسٹیبلیشمنٹ بیانیہ رکھتے ہیں ان کی چوائس بھی پیپلزپارٹی نہیں ہوگی۔ خود مسلم لیگ ن بھی اسی بیانیہ کو پیپلزپارٹی کے خلاف پیش کرے گی کہ تحریک انصاف کی طرح یہ بھی اسٹیبلیشمنٹ کی بی ٹیم ہے اور ہم ہی حقیقی جمہوریت کے لیے لڑرہے ہیں۔ حالانکہ شہباز شریف کا بیانیہ بھی وہی ہے جو پیپلزپارٹی کا ہے کہ ہمیں اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی بجائے مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔
پیپلزپارٹی کی ساری حکمت عملی کو دیکھیں تو اس میں ان کی واحد امید عوام یا ووٹ سے زیادہ اسٹیبلیشمنٹ کے اندر خود کو قبولیت کے طور پر پیش کرنا ہے۔کیونکہ پیپلزپارٹی یا زرداری کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ ہمیں طاقت کے مراکز کے اندر ہی اپنے سیاسی کارڈ کھیل کر سیاسی یا اقتدار کا راستہ تلاش کرنا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ طاقت کے کھیل میں چاروں فریق جن میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی او رتحریک لبیک کس حد تک اپنے لیے اقتدار کے کھیل میں حصہ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
فی الحال پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا ماحول بن رہا ہے۔عام انتخابات سے قبل پیپلزپارٹی کا بڑا امتحان مقامی حکومتوں کے انتخاب میں ایک معقول نمائیندگی لینا ہے۔ کیا پیپلزپارٹی عام انتخابات سے قبل مقامی انتخابات میں اپنا سیاسی اثر دکھا سکے گی؟ یہ ایک مشکل سوال ہے او را س کا جواب بھی بدستور مبہم ہے۔