مہنگائی کم کرکے دکھاؤں گا: ترک صدر

  • سوموار 20 / دسمبر / 2021
  • 3250

ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت ان دنوں مہنگائی اور ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی گراوٹ کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے۔ تاہم صدر اردوان نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ وہ ملک میں مہنگائی کی شرح چار فی صد تک لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں ایسا کر چکے ہیں۔ اردوان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ترکی میں مہنگائی کی شرح 21 فی صد تک پہنچ چکی ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی لیرا کی قدر بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔

اتوار کو نشر ہونے والی تقریر میں اپنی معاشی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی سے لیرا کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن یہ معاشی خود مختاری کی جنگ میں کامیاب پالیسی ہے۔ حکومت کی معاشی حکمتِ عملی سے سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ جب کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

البتہ بہت سے معاشی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر اردوان اسی معاشی پالیسی پر عمل پیرا رہے تو ملک میں اگلے برس افراطِ زر کی شرح 30 فی صد سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ رواں برس لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 55 فی صد کمی دیکھی گئی ہے جب کہ گزشتہ 30 روز کے دوران لیرا کی قدر میں 37 فی صد گراوٹ ہو چکی ہے۔

صدر اردوان نے معیشت سے متعلق اپنے غیر روایتی بیانیے کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ شرح سود میں اضافے سے مہنگائی بڑھتی ہے، لہذٰا یہ شرح کم رکھنے کے ثمرات جلد سامنے آئیں گے اور مہنگائی کم ہو گی۔ خیال رہے کہ 2011 میں اردوان وزیرِ اعظم تھے تو اس وقت افراطِ زر کی شرح چار فی صد تھی۔ البتہ 2017 کے بعد اس میں مسلسل اضافہ ہوا اور محض نومبر میں اس میں تین اعشاریہ پانچ فی صد اضافہ ہوا۔

ترکی میں اپوزیشن جماعتیں ملک میں فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ البتہ 20 برس سے اقتدار پر براجمان اردوان نے ان مطالبات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات اپنے وقت یعنی 2023 میں ہی ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر استنبول سمیت ترکی کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مہنگائی کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ترک عوام کی اکثریت نے جمعرات کو اردوان کی جانب سے کم سے کم اُجرت میں 50 فی صد اضافے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ناکافی قرار دیا ہے۔

ترک صدر کا اپنے خطاب کے دوران مزید کہنا تھا کہ ترک معیشت پر 'غیر معقول' حملوں کی وجہ سے ملک کو اس صورتِ حال کا سامنا ہے۔ البتہ اُنہوں نے سرمایے کی بیرونِ ملک منتقلی روکنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان  کا کہنا تھا کہ کرنسی کی قدر میں کمی کرنے کا ہتھیار ترکی پر آزمایا گیا، لیکن جب کرنسی اور قیمتیں مستحکم ہوں گی تو ایک بار پھر جدید ترکی کے دروازے کھلتے دیکھیں گے۔

ترک صدر کے اصرار پر مرکزی بینک ستمبر سے اب تک شرح سود میں 500 بیسز پوائنٹ کی کمی کر چکا ہے۔ اردوان کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے برآمدات بڑھنے کے  علاوہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ہفتے کو ترکی کے سب سے بڑے بزنس گروپ 'تس ایڈ' ںے مطالبہ کیا کہ حکومت شرح سود کم رکھنے کی معاشی پالیسی ترک کر کے روایتی اکنامک سائنس کی طرف لوٹ آئے۔

اتوار کو اپنے خطاب میں ترک صدر نے 'تس ایڈ' کے اس مطالبے کو حکومت پر حملے کے مترادف قرار دیا۔