مشیر خزانہ شوکت ترین خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہوگئے
- سوموار 20 / دسمبر / 2021
- 4300
مشیر خزانہ شوکت ترین خیبر پختونخوا سے سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ سینیٹر ایوب آفریدی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد مشیر خزانہ شوکت ترین کے لیے سینیٹر بننے کی راہ ہموار ہوگئی تھی۔
خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی نشست پر الیکشن میں صبح 9 سے شام چار بجے تک پولنگ ہوئی اور کُل 122 ووٹ کاسٹ کیے گئے جس میں سے 9 ووٹ مسترد ہوئے۔
113 ووٹوں میں سے 87 ووٹ لے کر شوکت ترین سینیٹر منتخب ہو گئے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار شوکت امیرزادہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیدواروں ظاہر شاہ کو 13، 13 ووٹ ملے۔
شوکت ترین نے سینیٹر منتخب ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پہلی مرتبہ سینیٹر نہیں بنا بلکہ اس سے پہلے بھی بن چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں بطور وزیر خزانہ ہر مہینے صوبے میں آیا کروں گا اور خیبر پختونخوا کے جو بھی مالی اور اقتصادی مسائل ہیں ان کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
شوکت ترین نے کہا کہ خیبر پختونخوا میرے دل کے بہت قریب ہے کیونکہ انہوں نے بہت صعوبتیں جھیلی ہیں، 30سال تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان سے بہت زیادتی ہوئی ہے۔ ہم یہاں کامیاب پروگرام لائیں گے جس کے تحت نوجوانوں کو زراعت کے لیے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔ یہ اگلے تین چار سال کے لیے 1.4کھرب روپے کا منصوبہ ہے اور 40لاکھ گھرانوں کو قرض دیں گے۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں دنیا بھر میں دوگنی ہو گئی ہیں، اسی طرح خوردنی تیل، کوئلہ، اسٹیل کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں اور اس طرح دیگر چیزوں کے بھی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ امریکا اور بھارت میں بھی مہنگائی ہوئی ہے لیکن اگلے چند مہینوں میں یہ قیمتیں نیچے آئیں گی اور مقامی سطح پر موجود اشیا کی قیمتیں تو ہم نے پہلے ہی سنبھالی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم گندم، گھی اور دیگر اشیا پر سبسڈی دے رہے ہیں لیکن ہمیں لوگوں کی آمدن بڑھانی ہے اور اس سلسلے میں خوشخبری یہ ہے کہ ہماری معیشت پانچ سے چھ فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے اور جب آمدن بڑھے گی تو مہنگائی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں نے دعویٰ نہیں کیا کہ ہم چار چاند لگا دیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ ہم معیشت کو آہستہ آہستہ ٹھیک کریں گے، پچھلی دفعہ چار فیصد شرح نمو تھی۔ اس دفعہ پانچ فیصد کریں گے، یہ ایک سال میں 10فیصد تک نہیں پہنچ سکتی۔
خیال رہے کہ حکومت مشیر خزانہ شوکت ترین کو پنجاب یا خیبر پختونخوا سے بطور سینیٹر منتخب کروانا چاہتی تھی۔ تاکہ مارکیٹ میں تسلسل و استحکام برقرار رہے اور وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پروگرام کی بحالی سے متعلق امور میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔
18 اکتوبر کو سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو وزیر اعظم عمران خان کا مشیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہوں نے 17 اپریل 2021 کو وفاقی وزیر خزانہ کا حلف اٹھایا تھا۔ رکنِ پارلیمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں 6 ماہ کے لیے وفاقی وزیر خزانہ کا منصب تفویض کیا گیا تھا۔
یہ مدت مکمل ہونے کے بعد شوکت ترین کو وزیر اعظم کا مشیر خزانہ مقرر کردیا گیا تھا تاہم بطور مشیر خزانہ وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور ایکنک سمیت کمیٹیوں کی سربراہی کے مجاز نہیں ہیں۔