جے یو آئی کی جیت سے انتہا پسندی بڑھے گی: فواد چوہدری
- منگل 21 / دسمبر / 2021
- 5260
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے امید ظاہر کی ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکن خیبرپختون خوا کے بلدیاتی الیکشن میں شکست سے سبق سیکھ کر اپنے آپ کو منظم کریں گے۔
فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بینکوں کی کارفنانسنگ میں 44 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان سالانہ 40 ہزار گاڑیاں بنا رہا ہے اسے سالانہ 5 لاکھ تک لے جانا چاہتے ہیں۔ تمام فصلوں نے ریکارڈپیداواردکھائی ہے۔ مشکلا ت کی وجہ یہ ہے کہ نوازشریف اورزرداری دور میں لئے گئے 55 ارب ڈالر کے قرضےہم نے واپس کرنےہیں۔ اب معیشت کے تمام اشارےاب مثبت اورمستحکم ہیں۔ بجلی اور ڈیزل کی کھپت میں کئی گنااضافہ ہواہے، گزشتہ تین سال میں مزید ڈیڑھ لاکھ نئی کمپنیاں بنی ہیں۔ ملک میں مہنگائی ہے تو گاڑیوں کی فروخت میں کیوں اضافہ ہورہا ہے؟
فواد چودھری نے مریم نواز،فضل الرحمان اور آصف زرداری کو سیاسی بوناقرار دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اور پی پی کی لوگوں میں توسیاست ہے نہیں اسی تنخواہ پرکام کریں گے۔ مریم نوازنےہمیشہ بونگی ہی ماری ہے۔فضل الرحمان کا اقتدارمیں آنابدقسمتی کی بات ہے۔ کےپی میں جےیوآئی کے جیتنےپرمجھےمایوسی ہوئی ہے۔ ہماری غلطیوں کی وجہ سے جے یو آئی جیت گئی، ٹی ایل پی اور جےیوآئی اقتدارمیں آئیں تو ملک مزیدنیچےجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی گفتگوسےلگتاہےانہیں ڈیل نہیں ملی۔ امیدپوری ہوتی نظرآتی ہےتوفوراپالش لےکرپہنچ جاتےہیں، ڈیل کی امیدپوری نہ ہوتوجلسوں میں الزامات لگاتےہیں۔
فواد چودھری نے مزید کہا کہ سیاسی بونےعمران خان پرتنقیدکرکےاپناقدبڑاکرنےکی کوشش کرتےہیں۔ تحریک انصاف کے ورکرزکافرض ہے عمران خان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ تحریک انصاف کے 3 ارکان آپس میں الیکشن لڑیں گے تو پھر شکست ہی ہوگی۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب ایک حلقے میں ایک ہی پارٹی کے تین، تین اور چار، چار امیدوار الیکشن لڑنا شروع کردیں گے تو الیکشن ہار جائیں گے اور یہاں پر بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منیجمنٹ کے مسائل کی وجہ سے کے پی میں الیکشن ہارے ہیں لیکن ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ صرف پی ٹی آئی ہی ملک گیر جماعت ہے۔ باقی مقامی جماعتیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر جعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) جیسی جماعت پی ٹی آئی کا متبادل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کے عوام اور پی ٹی آئی کے لوگوں کو زیادہ سنجیدگی سے سوچنا ہے۔ اگر پی ٹی آئی ملک میں نہیں ہوگی تو کوئی قومی جماعت نہیں ہوگی۔
یہ مذہبی شدت پسند جماعتیں ہیں جیسے جمعیت علمائے اسلام ہے، انہوں نے 2002 میں خیبرپختونخوا میں تعلیم اور فنانس کو تباہ کردیا تھا۔ بڑی بدقسمتی ہے کہ ہماری غلطیوں کی وجہ سے ایک ایسی سیاسی جماعت وہاں پر سامنے آئی ہے جس کو اصولی طور پر ختم ہونا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ادھر دیکھتے ہیں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا ابھرنا یا جمعیت علمائے اسلام کا جیتنا تو اس سے پاکستان نیچے چلا جائے گا۔ جےیو آئی کی کامیابی پر ذاتی طور پر مجھے مایوسی ہوئی ہے کیونکہ اس طرح کی جماعتیں وہ رجعت پسند معاشرے کی علامت ہیں اور اس چیز کی علامت ہیں کہ پاکستان میں سب کچھ صحیح نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک معاشرے میں اگر ایسے لوگوں کو اقتدار ملتا ہے جو خواتین کے حقوق اور آزادیوں کے خلاف ہیں اور مذہبی طور پر متشدد پالیسیوں کے حامی ہیں، ان کو اقتدار ملنا کسی بھی معاشرے کے لیے حوصلہ کن بات تو نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا اقتدار میں آنا بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بغیر پاکستان کی سیاست ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔ مجھےامید ہے پی ٹی آئی کے کارکنان اور لیڈر شپ اس صورت حال سے سبق سیکھےگی اور اپنے آپ کو منظم کرے گی۔