امداد کی فراہمی کے لئے امریکہ کی طالبان کے ساتھ محدود لین دین کی اجازت

  • جمعرات 23 / دسمبر / 2021
  • 3630

امریکہ نے طالبان کے ساتھ سرکاری طور پرکاروبار کے لئے کچھ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد افغانستان کے لیے امدادی اشیا کی رسد جاری کرنا ہے تاکہ  انسانی بحران کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی جانب سے تجویز کردہ 60 لاکھ ڈالر کی ادائیگیوں کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ خبر رساں ادارے، رائٹرز نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اقوام متحدہ اس بات کا خواہاں ہے کہ آئندہ سال سے طالبان کے زیر سرپرستی وزارت داخلہ کے  اس عملے کو ماہانہ تنخواہوں کے مد میں اعانت کی سہولت فراہم کی جائے جو عالمی ادارے کی تنصیبات کی نگرانی کرتے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اس بات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے کہ آیا کوئی نیا لائسنس جاری ہو گا جس کے مطابق طالبان پر عائد امریکی پابندیوں کے باوجود اقوام متحدہ ایسی ادائیگیاں کر سکے گا۔ کئی برسوں سے طالبان کو دہشت گرد گروپ قرار دینے کے بعد امریکہ نے اثاثے منجمد کرنے اور امریکیوں کو لین دین سے روکنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

بدھ کے روز امریکی محکمہ خزانہ نے جنرل لائسنس جاری کیا جس کا مقصد افغانستان کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی رسد جاری کرنے میں نرمی برتنا ہے۔ اس طرح اب امریکی اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنان اور اقوام متحدہ کے اہل کار سرکاری کاموں کے لیے لین دین کر سکتے ہیں۔

تیسرے لائسنس کے ذریعے کچھ سرگرمیوں کے لیے جن میں انسانی ہمدردی منصوبے شامل ہیں، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو امریکی پابندیوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے جو طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ کام کرنے سے متعلق ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر اہل کار نے کہا ہے کہ افغانستان کی معیشت کو مزید سکڑنے سے بچانے کے لیے طالبان کو اقدام کرنا ہو گا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لگ بھگ دو کروڑ 30 لاکھ لوگ،جو کہ کُل آبادی کا 55 فی صد بنتے ہیں، انھیں شدید سطح پر خوراک کی قلت درپیش ہے۔ تقریباً 90 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں قحط کی صورت حال کا خطرہ لاحق ہے، ایسے میں جب موسم سرما مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

ایک بیان میں امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا ہے کہ امداد کی سطح بڑھانے کے کام میں ہم اپنے ساتھیوں کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے، تاکہ اس ضرورت کے وقت درکار ضروری امداد فراہم کی جا سکے۔

دوسری جانب اس بحران کے حل میں مدد دینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں عطیہ دہندگان، اعانتی گروپوں اور مالیاتی اداروں کو استثنیٰ دیا گیا ہے تاکہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کر سکیں جب کہ اقوام متحدہ کی جانب سے طالبان رہنماؤں اور متعلقہ اداروں کے اثاثے منجمد کیے گئے تھے۔