ڈالرز کی کمی سے خسارہ بڑھتا ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے: وزیر اعظم
- جمعرات 23 / دسمبر / 2021
- 4050
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں برآمدات بڑھانے کے لیے درآمدات بڑھانی پڑتی ہیں جس سے ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوجاتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے اور ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑتا ہے۔
لاہور میں خصوصی ٹیکنالوجی زون، ٹیکنا پولس کے منصوبے کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور ہائر ایجوکیشن کے وزیر نے 800 ایکٹر ویران زمین کو دنیا کے مستقبل کے لیے استعمال کیا۔ بڑی ٹیک کمپنیوں کا ٹرن اوور ایک ہزار ارب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران جب دیگر کمپنیاں نقصان میں تھیں تو ٹیکنالوجی کمپنوں کی آمدنی دگنی ہوگئی تھی۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ دنیا اب ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے اور ہم اس میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے لیے آئیڈیل حالات ہیں کیونکہ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں 60 فیصد سے زائد شہری 30 سال سے کم عمر ہیں اور ہم تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہمارے ہمسائے ملک بھارت نے 15، 20 سال قبل آئی ٹی کی دنیا میں قدم رکھا اور ہم سے پہلے آئی ٹی میں ترقی کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ٹی پارکس اور ٹیکنا پولس کا مقصد یہ کہ ہم آئی ٹی سیکٹر کی مدد کریں انہیں ٹیکس میں چھوٹ دیں، ان کی رکاوٹیں کم کریں اور کاروبار میں آسانی پر عمل درآمد کریں، ان کی مدد کرنے سے ہمارا ملازمتوں کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہوگا۔ بدقسمتی سے ہم نے اپنے ملک میں کبھی برآمد پر زور نہیں دیا۔ 1960 میں پاکستان کی برآمدات کے مقابلے میں اب ہماری برآمدات کیا ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں برآمدات بڑھانے کے لیے درآمدات بڑھانی پڑتی ہیں اس سے ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوجاتی ہے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے اور ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اس مسلسل سائیکل سے ہم تب ہی نکل سکتے ہیں جب ہم اپنے ملک کی برآمدات پر زور دیں گے۔ جب تک ملک میں دولت نہیں آئے گی خوشحالی نہیں آسکتی۔ ہمارا ہمسایہ چین 40 سال قبل کہاں تھا اور اب کہاں ہے۔ چین نے دو بڑے کام کیے ہیں، چین نے منصوبہ بندی کے تحت کرپشن کو ختم کیا۔ جب اعلیٰ سطح پر کرپشن بڑھتی ہے تو جو دولت اداروں اور عوام پر لگنی چاہیے وہ ملک سے باہر نکل جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چینی صدر شی چن پنگ نے سب سے پہلے اپنے وزارتی سطح کے لوگوں کو جیل میں ڈالا اور 70 فیصد عوام کو غربت سے نکالا اور اپنی برآمدات بڑھائیں۔ آج جو وہ دنیا کے اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں یہ ان کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اس بات پر زور دینے کی ضرورت ہے کہ اپنے ملک کی برآمدات کس طرح بڑھائی جائے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ یہاں اللہ نے 12 موسم دیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کے بحران کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کورونا کے باعث عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافہ ہوا اور جب ہم نے درآمدات کی تو ہمیں اضافی رقم ادا کرنی پڑی۔ ہمارے پاس سرسبز سرزمین ہے اور پھر بھی باہر سے پام آئل درآمد کر رہے ہیں۔ ہم پام آئل کیوں نہیں بنا سکتے، ہمیں سب سے پہلے منصوبہ بندی کرنی ہے کہ کس طرح اپنے پاس ڈالرز میں اضافہ کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے سب سے بڑا اثاثہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں لیکن ہم نے ابھی تک کوئی ایسا میکانزم نہیں بنایا کہ کوئی یہاں آکر کام کرے۔ چین نے بھی سب سے پہلے اپنے بیرون ملک مقیم افراد سے سرمایہ کاری شروع کی۔ ٹیکنالوجی فرم کے افتتاح کا مقصد یہ ہے کہ جو ہمارے ملک کی فرمز باہر بیٹھی ہیں وہ یہاں آکر سرمایہ کاری کریں۔ پاکستان کو ترقی دیں اور نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کر سکیں، ٹیکنالوجی زون ایسی صنعت ہے جو ملک میں سارے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ختم کر سکتی ہے۔
ہم نے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں ٹیک زون شروع کیا ہے، اسلام آباد میں ٹیک زون کا آغاز کیا ہے، کراچی کی مارکیٹ بہت بڑی ہے وہاں بھی ٹیک زون شروع کرنے جارہے ہیں۔
قبل ازیں سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ٹیک کمپنی کے تحت مختلف کلسٹرز، وینچرز کیپیٹل، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک، گلوبل ٹیک کمپنی کے یونٹ بھی بنائے جائیں گے۔ سافٹ ویئر ہاؤسز، انکیوبیٹر، انوویٹرز بھی بنائے جائیں گے جبکہ دنیا کی چوٹی کی کمپنیاں گوگل، ایمیزون سمیت ماسٹر کارڈ اور ویزا بھی اس دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔