عمران خان قوم کو معاف کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 23 / دسمبر / 2021
- 10350
خبر ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختون خوا کے انتخابات میں بدانتظامی اور تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی پر وزیر اعلیٰ محمود خان پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ ایک ملاقات میں وزیر اعلیٰ کے پی کے نے پارٹی چئیرمین کو پارٹی کی ناکامی کے بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کی اور عمران خان نے ان تمام پارٹی لیڈروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا جنہوں نے انتخابات میں پارٹی کے خلاف کام کیا۔
پاکستان میں برسر اقتدار پارٹی کے لئے بلدیاتی انتخابات میں شکست بہت بڑی ناکامی سمجھی جاتی ہے۔ تحریک انصاف گزشتہ آٹھ برس سے خیبر پختون خوا میں حکومت کررہی ہے ۔ مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی عمران خان کی خصوصی توجہ خیبر پختون خوا کی طرف مبذول رہی ہے اور متعدد فلاحی و امدادی منصوبوں میں سے اسی صوبے کو ترجیحی بنیاد پر وسائل فراہم کئے گئے ہیں۔، اس لئے وہاں بلدیاتی انتخابات کے پہلے دور میں تحریک انصاف کی شدید مخالف جمیعت علمائے اسلام (ف) نے خاص طور سے جیسے کامیابی حاصل کی ہے، اس کے بعد سے عمران خان اور حکمران جماعت شدید بدحواسی کا شکار ہیں۔ نچلے درجے کے پارٹی لیڈر تو یہ اعتراف کررہے ہیں کہ بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے پارٹی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن پارٹی چئیرمین اور وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پارٹی نے انتخابات میں کمزور امید وار کھڑے کئے تھے جس کی وجہ سے شکست ہوگئی۔
عمران خان کی طرف سے مہنگائی یا موجودہ حکومت سے عوام کی مایوسی کو بنیادی وجہ تسلیم کرنے سے انکارکے بعد سے پارٹی قیادت بھی اب تحریک انصاف کی صفوں میں انتشار اور ارکان اسمبلی کی طرف سے اپنی ہی پارٹی کے امیدواروں کے خلاف انتخابی مہم کو شکست کے اہم ترین عوامل قرار دے رہی ہے۔ تاہم یہ تحریک انصاف کا اندرونی معاملہ ہے۔ ایک ٹوئٹ میں جدید جمہوری نظام میں مقامی حکومتوں کے طریقہ کا رکی اہمیت پر زور دیتے ہوئے عمران خان نے اصرار کیا ہے کہ خیبر پختون خوا میں نتائج کی بحث میں یہ بنیادی اور اہم نکتہ فراموش کیا جارہا ہے کہ جدید جمہوری نظام میں بلدیاتی نظام کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ تحریک انصاف نے یہ انتخابات منعقد کرواکے ملک کو ایک ماڈرن بلدیاتی نظام کی طرف گامزن کیا ہے جس سے عوام کو براہ راست مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعظم کی یہ بات اس حد تو درست ہے کہ بلدیاتی انتخابات نہ صرف جمہوری اصلاحات کی طرف اہم قدم ثابت ہوں گے بلکہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت مالی و انتظامی اختیارات کی تقسیم کے اصول کی روشنی میں بھی یہ نظام کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم وزیر اعظم کا یہ دعویٰ گمراہ کن ہے کہ ان کی جمہوریت نوازی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف نے تو بلدیاتی انتخابات کی راہ میں روڑے اٹکانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے یہ اقدام کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ اس مجبوری کو جمہوریت پسندی کا علم بنانے سے حقائق کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کی معاشی ناکامی اور غیر حقیقی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے خود اس کے اپنے ارکان، لیڈر حتی کہ ووٹر شدید نالاں ہیں جس کا اظہار خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دیکھا بھی جاسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کرنا کہ تحریک انصاف کو عوام کی حمایت میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ پارٹی کی اندرونی لڑائی کی وجہ شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ، درحقیقت سچ سے منہ موڑنے کے مترادف ہے۔ یہ وہی رویہ ہے کہ سورج پوری آب تاب سے دمک رہا ہو لیکن کوئی شخص اصرار کرے کہ ابھی تو رات ہے، دن کا آغاز تو ابھی نہیں ہؤا۔
خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوران اگر پارٹی کے اسمبلی ارکان نے کھلم کھلا قیادت کے فیصلوں سے بغاوت کی اور مخالف امیدواروں کی حمایت میں سرگرم رہے تو یہ بھی اسی بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت زمینی حقائق سمجھنے اور عوامی پریشان کا ادراک کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ یہ سب وہی لیڈر ہیں جو چڑھتےسورج کی پوجا کرتے ہیں، اسی لئے انہوں نے 2018 کے انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کا دامن تھاما تھا یا اقتدار ملنے کے بعد دھیرے دھیرے اس کی صفوں میں شامل ہوگئے تھے۔ اگر یہ عناصر اب تحریک انصاف کے نام اور علامت کو اپنے سیاسی مستقبل کی ضمانت نہیں سمجھتے تو عمران خان کے لئے یہ قابل فہم اشارہ ہونا چاہئے۔ انہیں وزیر اعلیٰ محمود خان پر غصہ نکالنے اور غلط فیصلوں یا نچلے درجے کی قیادت کو ناکامی کا سبب بتانے کی بجائے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ تو بلدیاتی انتخابات ہیں، ملکی حالات اور حکومتی بے عملی کی صورت حال برقرار رہی تو آئیندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کو میدان میں اتارنے کے لئے امیدوار تلاش کرنا مشکل ہوجائے گا۔
عمران خان خود کو مغربی جمہوری روایات کے ماہر کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن اسی سانس میں آزادی رائے، سیکولر نظام حکومت اور باہمی احترام کی مغربی روایات سے انکار کرکے یہ بھی واضح کردیتے ہیں کہ انہیں ان بنیادی اصولوں سے ہی آگاہی نہیں ہے جن پر مغربی یا ماڈرن جمہوری نظام استوار ہے۔ وہ عقلی اور سائینٹیفک رویہ پر زور دینے کی بجائے روحانی طاقت یا انفرادی عزم جیسے غیر واضح اور مبہم نعروں کی بنیاد پر پاکستانی قوم کو ناکامی سے کامیابی کا راستہ تلاش کرنے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ اسی حوالے سے وہ کبھی مدینہ ریاست کا خود ساختہ تصور پیش کرتے ہیں اور کبھی اخلاقیات کو مادی ترقی کی بنیاد بتا کر بالی وڈ اور ہالی وڈ کو مسائل کی جڑ بتاتے ہیں اور قوم کو ترک ڈراموں کا ناظر بناکر ایک کامیاب ریاست کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔ ملک کا وزیر اعظم اگر اس تصوراتی دنیا سے باہر قدم رکھنے پر تیار نہیں ہو گا تو اس سے دست بستہ یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ وہ قوم پر رحم کریں اور کامیابی کے ناقابل عمل اور دور از کار نسخوں سے ’ترقی کے سفر پر گامزن ہونے‘ کا تصور عام کرنے کی بجائے ، تعلیم، تحقیق و جستجو اور محنت کی ضرورت پر زور دیں۔
ایک دہائی کے لگ بھگ اقتدار میں رہنے والی کسی بھی سیاسی پارٹی کو انتخابات میں مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغربی جمہوری ممالک سے ایسی متعدد مثالیں تلاش کی جاسکتی ہیں کہ کوئی لیڈر یا پارٹی اگر طویل عرصہ تک برسر اقتدار رہے تو عوام محض تبدیلی کے لئے کسی دوسری جماعت کو کامیاب کروانے کے لئے ووٹ دیتے ہیں۔ اقتدار میں رہنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت ایک تو کسی نہ کسی سطح پر عوام کو مایوس کرنے کا سبب بنتی ہے تو دوسری طرف اس کی قیادت امور مملکت دیکھتے ہوئے، پارٹی کے نظام اور رابطہ مہم کے طریقہ کار پر پوری توجہ مبذول نہیں کرپاتی۔ اس لئے مقبول اور کامیابی سے حکومت چلانے والی پارٹیوں کو بھی لگ بھگ ایک دہائی کے بعد مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے جگہ خالی کرنا پڑتی ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس کارکردگی کے نام پر بے بنیاد نعروں اور قیاس آرائیوں کے سوا کوئی متاع نہیں ہے۔
نعرے بازی کا ایک بھونڈا مظاہرہ وزیر اعظم نے آج لاہور میں ٹیکنالوجی زون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس منصوبہ کا آغاز سابقہ دور حکومت میں ہوچکا تھا جس کا ازسر نو افتتاح کرتے ہوئے عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے سر اس کامیابی کا سہرا باندھنے کی پوری کوشش کی۔ اس سیاسی طمع یا ضرورت کو بھی نظر انداز کیا جاسکتاہے بشرطیکہ وزیر اعظم ملکی معاشی صورت حال میں بہتری کے لئے کوئی عملی منصوبہ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ منگل کو کابینہ کے اجلاس میں منی بجٹ کی منظوری نہیں دی جاسکی کیوں کہ حکومت کو اندیشہ ہے کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر نئے ٹیکس لگانے اور سٹیٹ بنک کو خود مختاری جیسے معاملات سے اس کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوگی۔ ایک طرف حکومت کی مالی حکمت عملی کا یہ عالم ہے تو دوسری طرف وزیر اعظم ملکی مسائل کی وجہ ڈالروں میں کمی جیسے عذر میں تلاش کرنے کے مشن پر کاربند ہیں۔ آج کی تقریر میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں برآمدات بڑھانے کے لیے درآمدات بڑھانی پڑتی ہیں جس سے ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوجاتی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پیدا ہوتا ہے اور ہمیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس جانا پڑتا ہے‘۔
جب کوئی لیڈر ایسی کمزور اور بچگانہ عذر خواہی کرنے لگے تو جان لینا چاہئے کہ وہ معاشی میکینزم اور ملکی سیاسی پالیسیوں کے ساتھ اس کے تال میل کی بنیادی اہمیت سے ہی آگاہ نہیں ہے۔ ایف بی آر کے سابق چئیرمین شبر زیدی نے گزشتہ دنوں ملکی سیاسی و معاشی پالیسی میں بُعد کی اسی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی معیشت کو دیوالیہ قرار دیا تھا۔ عمران خان سال بھر پہلے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کو سابقہ حکومتوں کی بدعنوانی کا ثمر قرار دیتے تھے کیوں کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ابتدائی دور میں معاشی سرگرمی کم ہونے کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگیا تھا۔ عمران خان اسے اپنی کامیاب اقتصادی پالیسی قرار دیتے ہوئے، اس کا تعلق سیاسی مخالفین کی بدعنوانی سے جوڑتے رہے۔ اب ان کے اپنے دور حکومت میں یہی خسارہ بڑھنے لگا ہے تو وزیر اعظم کا جواب ہے کہ ’ملک ترقی کرنے لگتا ہے تو ڈالر ختم ہوجاتے ہیں‘۔ اسی لئے متعدد بار وزیر اعظم سے گزارش کی جاچکی ہے کہ وہ اردو کے محاورے’ پہلے تولو پھر بولو ‘ کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں ۔ لیکن اپنی تیزرفتار طبع کی وجہ سے انہیں بولنے سے فرصت ملے تو سوچنے پر بھی توجہ دیں۔
ان ہی حالات کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے عمران خان کو ملک کے لئے ایسا بوجھ قرار دیاہے جس کے باعث ملک ڈوبنے کا خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ’ عمران خان کادھڑن تختہ ہونے والا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کے ہاتھ ان کے گریبان پر ہوں گے‘۔ اپوزیشن لیڈر کے اس بیان کو خیبر پختون خوا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کی روشنی میں دیکھا جائے تو عمران خان کا سیاسی زوال نوشتہ دیوار دکھائی دیتا ہے۔