بلدیاتی انتخابات میں شکست کے بعد تحریک انصاف کی تمام تنظیمیں تحلیل

  • جمعہ 24 / دسمبر / 2021
  • 4560

وفاقی وزیر اطلاعات فودا چوہدری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں میرٹ کے برعکس خاندانوں میں ٹکٹ دینے کی شکایات پر تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے  کہا کہ پاکستان میں ایک ہزار سے 1200 ٹکٹ دیے جاتے ہیں اور تحریک انصاف کے سوا کسی اور جماعت کی یہ حیثیت ہی نہیں ہے کہ وہ اتنے ٹکٹ دے سکے یا اتنے لوگ کھڑے کر سکے۔ پیپلز پارٹی صرف اندرون سندھ اور مسلم لیگ(ن) پنجاب کی پارٹی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی گرتی ہے یا تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہوتی ہے تو دراصل پاکستان کی سیاست متاثر ہوتی ہے اور پھر آپ پارٹیوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیں گے۔ آج پارٹی اجلاس میں خیبرپختونخوا کے حالیہ انتخابات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ محمود خان، پرویز خٹک اور دیگر اکابرین سے بات چیت کی اور اس میں دیگر ملکی قیادت بھی شریک ہوئی۔

وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں پارٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے حالانکہ ولیج کونسل کے انتخابات میں تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جماعت ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جس طرح سے ٹکٹ ایوارڈ ہوئے وہ مایوس کن ہے۔ پی ٹی آئی خاندانی سیاست والی جماعت نہیں ہے، جہاں پر کسی کا میرٹ ہر ٹکٹ بنتا ہے وہ دینا چاہیے۔ لیکن اگر زبردستی پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ(ن) کا کلچر پی ٹی آئی میں آ گیا تو پھر ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔

فواد چودری نے کہا کہ وزیر اعظم نے میرٹ کے برعکس خاندانوں میں ٹکٹ دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور تنظیم کی کمزوری پر بھی گفتگو ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں جس طریقے سے تنظیموں کو حصہ لینا چاہیے یا جس طرح سے تحریک انصاف کو ایک بڑی جماعت کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے، وہ نظر نہیں آیا۔ لہٰذا آج وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کی قومی قیادت سے مشاورت کے بعد تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحریک انصاف کے چیف آرگنائزرز سمیت تمام عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور ایک نئی آئینی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں پارٹی کی تمام بڑی قیادت شامل ہو گی۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ اگر کسی رشتے دار کو ٹکٹ کا معاملہ ہوگا تو مقامی قیادت اس کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ وفاق میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی جائے گی اور وہ یہ فیصلہ کریں گے کہ ٹکٹ دینا ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی مرکزی قیادت سمیت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت پر مبنی کمیٹی نئے آئین پر اپنا کام کررہی ہے اور یہی کمیٹی نئی تنظیم کا نیا ڈھانچہ بھی متعارف کرائے گی ۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں وزیر اعلیٰ محمود خان کو ذمے داری دی گئی ہے کہ ایک طریقہ کار بنائیں اور اس طریقہ کار کو وزیر اعظم کی منظوری حاصل ہو گی۔