جب طالبان سرحد ہی تسلیم نہیں کرتے تو پاکستان آگے کیوں بڑھ رہا ہے: رضا ربانی

  • جمعہ 24 / دسمبر / 2021
  • 4590

سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ طالبان نے افواج پاکستان کو افغان سرحد پر باڑ لگانے سے روک دیا۔ وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں۔

چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ جب تک صحیح جڑ کو پکڑ کر اس کے حل کے لیے کوشاں نہیں ہوگی ایسے واقعات مستقبل میں بھی سامنے آتے رہیں گے۔ جب ریاست کو ضرورت ہو تو پارلیمان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم طالبان کی حمایت تو کر رہے ہیں لیکن کوئی یہ بات نہیں کرتا کہ افغانستان میں طالبان کی موجودگی پر ریاست کی پالیسی افغانستان کی طرف درست ہے یا نہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ کیا وزیر خارجہ ایوان میں آکر بتانا پسند کریں گے کہ افغان سرحد پر باڑ لگانے سے افواج پاکستان کو روک دیا گیا، وہ سرحد کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تو ہم آگے کیوں بڑھ رہے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے گروپ افغانستان میں دوبارہ فعال ہو رہے ہیں جس سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوگا۔

یاد رہے کہ افغان وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا تھا کہ طالبان فورسز نے اتوار کے روز پاکستانی فوج کو مشرقی صوبے ننگرہار کے ساتھ بقول ان کے ’غیر قانونی‘ سرحدی باڑ لگانے سے روک دیا۔

ٹی ٹی پی کے ساتھ جنگ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ ریاست کو بتانا ہوگا کہ کن شرائط پر جنگ بندی کی بات کر رہے ہیں۔ ریاست کے اداروں اور بالخصوص پارلیمنٹ کو جان بوجھ کر غیر فعال بنایا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں 6 نکاتی معاہدے کی تفصیلات بتائی گئی تھیں جس میں کہا گیا کہ ان کا 25 اکتوبر 2021 کو ’اسلامی امارات افغانستان (آئی ای اے) کی حمایت سے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ ہوا تھا۔

رضا ربانی نے کہا کہ ریاست مزید خفیہ معاہدوں کی متحمل نہیں ہو سکتی، نیشنل ایکشن پلان پر پارلیمنٹ میں دوبارہ بحث کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضیاالحق کی آمریت میں جو لوگ متبادل بیانیے کو جنم دیتے تھے، ریاستی پالیسی کے تحت اس سوچ کو ختم کیا گیا۔ پاکستان کی ریاست کا مطلب حکومتی اور فوجی بیورکریسی ہے، پارلیمان میں بیٹھے لوگ نہیں ہیں۔ اپنے سیاسی ایجنڈا کو آگے بڑھانے کے لیے ریاست نے مذہب کا استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ثقافت عربی ثقافت نہیں ہے، میری ثقافت وادی سندھ کی ثقافت ہے۔ میں نے ایک ایسے معاشرے میں جنم لیا جہاں ایک استاد کو یونیورسٹی میں آزادی حاصل نہیں ہوتی۔ عوام کو سیاسی اختلاف کا حق حاصل نہیں، اگر جج اس کے خلاف فیصلہ لکھتا ہے تو ریاست اس کو نشانہ بناتی ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ لوگوں کو لاپتا کردیا جاتا ہے، ریاست انہیں ایسی جگہ چھپا دیتی ہے جہاں ان کا سراغ ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ انتہا پسند گروپوں نے کراچی، لاہور، پشاور، سوات، مالاکنڈ میں متبادل عدالتیں بنائیں لیکن ریاست خاموش رہی۔ عسکری گروپوں نے ریاست کے حق کو پارہ پارہ کردیا لیکن ریاست خاموش تماشائی بن کر کھڑی رہی۔ جب ایسی ریاست ہو تو آپ کیسے کہیں گے کہ عسکریت پسندی آگے نہیں بڑھے گی۔

سینیٹ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والے سینیٹر شوکت ترین نے حلف اٹھا لیا۔ وہ 20 دسمبر کو سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

بعد ازاں سینیٹ میں سانحہ سیالکوٹ سے متعلق قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سینیٹ کا ایک وفد سری لنکا کا دورہ کرے گا اور پریانتھا کمارا کے خاندان سے ملاقات کرے گا۔ وفد ان کے اہل خانہ کو سینیٹ کی قرارداد پیش کرے گا۔