بھارت میں مسلمانوں پر اس طرح مظالم ہورہے ہیں جیسے فرعون نے بنی اسرائیل پر ڈھائے تھے: فاروق عبداللہ
- جمعہ 24 / دسمبر / 2021
- 3990
مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں لاوا پک رہا ہے، مجھے یقین ہے اللہ ایک اور موسیٰ پیدا کرے گا جو اس قوم کو بچائے گا، مجھے اس بات پر پورا اعتماد ہے اور بہت جلد ایسا ہوگا۔
بھارتی نشریاتی ادارے ’دی وائر‘ کو انٹرویو دیتے ہوئ وہ متعدد مواقع پر جذباتی اور آبدیدہ ہوگئے۔ میزبان نے سوال کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں رواں سال پرتشدد کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ شہریوں اور پولیس کی ہلاکت اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں۔
اس پر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب وزیر داخلہ نے دفعہ 370 ختم کی تو کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب تک جو ہوتا آیا ہے اس کا ذمہ دار یہ آرٹیکل ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آج ہم اقتدار میں نہیں وہ اقتدار میں ہیں، کیا وہ کشمیر میں زندگی معمول پر لے آئے ہیں۔ کیا زیادہ نوکریاں پیدا ہوگئیں؟ کیا لوگ زیادہ بھارتی ہوگئے ہیں، کیا تشدد میں کمی آئی ہے؟
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان کے مقابلے میں زمینی صورتحال بالکل برعکس ہے۔ میزبان نے سوال کیا سری نگر جو پہلے خاصا پُر امن ہوتا تھا اچانک پر تشدد کارروائیوں کا گڑھ کیوں بن گیا ہے؟ سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر نے جواب دیا کہ ایسا اس وجہ سے ہے کیوں وہ دیکھتے ہیں کہ قوم میں کیا ہورہا ہے۔ لوگوں میں کس طرح تقسیم پیدا ہورہی ہے، قتل و غارت گری کی جارہی، ہمیں کس طرح بتایا جارہا ہے کہ آپ کیا کھاسکتے ہیں، کیا پہن سکتے ہیں، کہاں عبادت کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ لوگ اس کا احساس نہیں کرتے؟ یہ گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں۔ انہوں نے اسے بات سے اتفاق کیا کہ سری نگر میں پر تشدد کارروائیوں کا براہِ راست تعلق بھارت میں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے ہے۔ انہوں نے کہا دلت تو ہندو ہیں ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے ان کی بیٹیوں کو ریپ اور قتل کیا جارہا ہے۔ کیا یہ بھارت ہے، کیا یہ شائننگ انڈیا ہے؟
مقبوضہ کشمیر کے کشمیری کیا محسوس کررہے ہیں؟ کا جواب دیتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ بدقسمتی سے جو کچھ ہورہا ہے اس پر وہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیں قوم سے دور دھکیلا جارہا ہے۔ قوم یہ نہیں دیکھ رہی کہ ان کے درد، آلام کیا ہے جو انہیں سب سے زیادہ تکلیف پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے آپ کو مسترد شدہ محسوس کرتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کے لیے آواز اٹھانے والا نہیں، انہیں کونے سے لگادیا گیا ہے۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک لاوا پھٹنے والا ہے، آج کوئی پاکستانی آکر ہمارے لیے نہیں لڑے گا۔ یہ کشمیری نوجوان ہیں جو خود اپنے لیے کھڑے ہورہے ہیں۔ جنہیں معلوم ہے کہ وہ ایک روز میں ہی مارے جائیں گے لیکن اس کے باوجود کھڑے ہیں، کیوں؟ کیوں کہ انہیں کسی قسم کی کوئی امید نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خبردار کررہا ہوں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں آپ کب تک فوجیوں، پولیس، بی ایس ایف، مسلح افواج سے مغلوب رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں کو ہر روز تکالیف اٹھاتے دیکھ رہا ہوں، ہمارا میڈیا سچائی سے کچھ نہیں لکھ رہا۔ کوئی بھی اخبار اٹھا کر دیکھ لیں کوئی سچی خبر نہیں کیوں کہ اگر کوئی سچ لکھے گا وہ پولیس اسٹیشن میں ہوگا۔ اس پر چارج شیٹ لگائی جائے گی اور وہ جیل میں ہوگا۔
سوال کیا گیا کہ بی جے پی کی جانب سے طنز کا نشانہ بننے، ہجوم کے ہاتھوں تشدد کا شکار مسلمان آج بھارت میں کیسا محسوس کررہے ہیں۔ آج مودی کے بھارت میں مسلمان ہونا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جو مسلمان اللہ پر یقین رکھتا ہے وہ خوفزدہ نہیں ہوتا۔ میں خوفزدہ نہیں ہوں، وہی عزت دیتا ہے وہی ذلت دیتا ہے۔ یہ بھارت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اللہ نے کہا ہے میری رسی مضبوطی سے تھامے رکھو اور میں نے اللہ کی رسی مضبوطی سے تھامی ہوئی ہے کہ وہ ہمیں ان مصائب سے نکالے گا، ایک موسیٰ پیدا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ فرعون نے اپنے آپ کو خدا سمجھ لیا تھا۔ اسے معلوم ہوا کہ ایک لڑکا پیدا ہوگا جو اس کے اقتدار کا خاتمہ کرے گا تو اس نے بنی اسرائیل پر اسی طرح مظالم ڈھانے شروع کیے جیسے آج مسلمانوں پر ڈھائے جارہے ہیں۔ لیکن موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے اور فرعون کے گھر میں ہی پرورش پائی۔
انہوں نے کہا کہ موسیٰ نے فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچایا تو اس نے سرکشی کی جس پر وہ اپنی قوم کو وہاں سے نکال کر لے گئے اور فرعون کو اللہ نے غرق کردیا۔ مجھے یقین ہے اللہ ایک اور موسیٰ پیدا کرے جو آکر اس قوم کو بچائے گا۔ مجھے اس بات پر پورا اعتماد ہے اور بہت جلد ایسا ہوگا۔