جناح کو سالگرہ کا تحفہ
- تحریر اختر چوہدری
- جمعہ 24 / دسمبر / 2021
- 7350
25 دسمبر قائدِ اعظم کی سالگرہ ہے۔ اقبال درست کہتے تھے کہ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔ کئی دہائیوں سے ہندی مسلمان اپنے حالت کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں تھا اور بہت لوگوں نے اپنے تائیں کوشش بھی کی۔ لیکن بالآخرجناح وہ شخص تھے جنہوں نے کھیل کو سمجھا، کھیل کے میدان کو سمجھا، اس کے اصولوں کو سمجھا اور بالآخر میدان مار لیا۔
بنگلہ دیش اور پاکستان کے مسلمان اس دیدہ ور کے احسانمند ہیں۔ آج جب ہم جناح کی سالگرہ منا رہے ہیں تو ان کو کیا تحفہ دیا جا سکتا ہے؟ چند افکار حاضرِ خدمت ہیں۔ بپت سے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ناہل افراد کو مختلف اور اہم، ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ یہ سلسلہ اب ساری قوم کے تمام شعبوں اور تمام سطحوں پرمحیط ہو گیا ہے۔ قائد اعظم کو سالگرہ کا ایک تحفہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس مسئلہ پر غور کریں اور اس کو حل کرنے کی کوشش شروع کریں۔ فرض کریں آپ کرکٹ کی ٹیم کے مینیجر یا کپتان ہوں تو مجھے یقین ہے کہ آپ کا ہدف ہر آنے والے مقابلہ کو جیتنا ہوگا۔ اب اگر ہدف ہر آنے والے مقابلہ کو جیتنا ہوتو سوال یہ کہ آپ جب اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کا انتخاب کریں تو اس انتخاب کا معیار کیا رکھیں گے؟
مجھے یقین ہے کہ آ پ یہ دیکھیں گے کہ ہر امیدوار کھلاڑی اپنے فن میں ماہر ہو۔ جن کا انتخاب اس لیے کیا جائے کہ وہ بیٹسمین ہوں گے، وہ کمال کے بیٹسمین ہوں۔ جن کا انتخاب اس لیے ہو کہ کہ وہ باؤلر ہوں گے، تو ان کا باکمال باؤلر ہونا لازم ہے۔ ہر کھلاڑی کا ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند ہونا لازم ہے کیونکہ کرکٹ کے میدان میں ہر کھلاڑی کو دوڑنا بھاگنا ہوتا ہے۔ اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ آپ یہ دیکھیں گے کہ ہر کھلاڑی اس دباؤ کا سامنا کرنے کا اہل ہو اور ایک ٹیم پلئیر ہو۔ کیونکہ آ پ کا ہدف ایک ٹیم کو میدان میں اتارنا ہے، نہ کہ گیارہ افراد کو جو اپنے ہی مدار کے گرد گھومتے ہوں۔ ایسے میں وہ کتنے ہی اچھے بالر یا بیٹسمین ہوں، گیارہ افراد کا ہجوم سوائے شکست کے کچھ حاصل نہ کر سکے گا۔ نکتہ یہ ہے کہ مقابلے جیتنے کا حدف پورا کرنے کے لیے آپ اہلیت اور قابلیت کو پیمانہ بنا کر ٹیم کے اراکین کا انتخاب کریں گے۔ صرف انہی کھلاڑیوں کا انتخاب کیا جائے گا جواہل ہوں۔
اب ایسے میں کوئی آپ سے کہے کہ میں کرکٹ تو اچھا نہیں کھیلتا لیکن میں بہت مالدار ہوں، میں بہت اچھا مصور ہوں، میرا باپ سٹیٹ بنک کا گورنر ہے، یا میری والدہ واپڈا کی چئیر پرسن ہیں، تو مجھے اپنی ٹیم میں منتخب کرلیں، تو کیا آپ ایسا کریں گےَ؟ بلکہ بہتر سوال یہ کہ کیا اگر آپ ان افراد کو اس لیے منتخب کر لیں کہ کسی کا باپ سٹیٹ بنک کا گورنر ہے یا کسی کی ماں واپڈا کی چئیرپرسن ہے، تو کیا آپ کی ٹیم کرکٹ کے مقابلے جیت سکے گی؟ ہر گز نہیں۔ جب بھی کسی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اہلیت کے معیار سے ہٹ کر منتخب کیا جائے تو وہ ٹیم اپنا ہدف کبھی پورا نہیں کر سکتی۔ میں نے کرکٹ کی ٹیم کی مثال اس لیے دی کہ اس سے مجھے اپنا نکتہ واضح کرنے، اور آپ کو میری بات سمجھنے میں آسانی رہے گی۔
ہر فرد دیکھ سکتا ہے کہ اگر کرکٹ ٹیم کا مینیجر یا کپتان معیار پر کھلاڑی منتخب نہیں کرتا تو وہ ٹیم کبھی کوئی مقابلہ نہیں جیت سکتی۔ ایک ان پڑھ بھی اس اصول سے واقف ہے۔ کھیل کا نتیجہ چند گھنٹوں میں سامنے آ جاتا ہے۔ قوموں کے معاملہ میں نتیجہ سامنے آنے میں وقت لگتا ہے لیکن اصول یہی ہے۔ اہلیت کا اصول ملکوں اور قوموں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
قوم ایک ٹیم ہوتی ہے۔ لوگوں کو مختلف اہداف دیے جاتے ہیں۔ کسی نے بائیسیکل کو پنکچر لگانا ہوتا ہے، کسی نے بچوں کو تعلیم دینا ہوتی ہے۔ کسی نے قومی بنک کی قیادت کرنا ہوتی ہے اور کسی کو ڈاک لوگوں کے گھر پہنچانا ہوتی ہے۔ ہر فرد کا کام اہم ہوتا ہےاور وہ کام صرف اسی صورت میں درست انداز میں طے پاتا ہے جب کرنے والے میں اس کی صلاحیت ہو۔ لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہر منصب پر صرف اہل افراد کو متعین کیا جائے۔ قیادت پر جدید تحقیق اور تاریخی تجربات انہیں اصولوں کی تائید کرتے ہیں۔
جناح کے پاکستان کی تعمیر اور ترقی کا بنیادی تقاضہ بھی یہی ہےکہ منصب پراسی فرد کو فائز کیا جائے جو اس کا اہل ہو۔ وہ منصب ٹیکسی ڈرائیور کا ہو یا وزیرِ خزانہ کا، کسی سرجن کا ہو یا سائکل کو پنکچر لگانے کا، سفارت کار کا ہو یا درزی کا۔ اگر ہم مقابلہ جیتنا چاہتے ہیں تو انتخاب کے اس اصول سے رتّی بھی انحراف کی گنجائش نہیں۔ قائدِ اعظم زندہ باد!