پی ٹی آئی کو بڑا سیاسی دھچکہ
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 24 / دسمبر / 2021
- 4280
خیبر پختونخواہ کے17اضلاع میں پہلے مرحلہ کے تحت ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات عملی طور پر حکمران جماعت تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہوئے ہیں۔خیبر پختونخواہ جسے عمومی طور پر تمام صوبوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کا بڑا سیاسی گڑھ سمجھا جاتا تھا وہاں ان کی بڑی سیاسی شکست نے اس بیانیہ کو تقویت دی ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کھورہی ہے۔
تحریک انصاف کا خیال تھا کہ وہ مجموعی طور پر 60فیصد انتخابی معرکہ اپنے نام کرلے گی اور 40فیصد ان کے سیاسی مخالفین جیت سکتے ہیں۔لیکن ان انتخابات کے نتائج نے تحریک انصاف کی مقبولیت پر یقینا سوالات پیدا کیے ہیں او ران کے مخالفین کے بیانیہ کی کامیابی نے عملی طورپر حکمران جماعت کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ بالخصوص پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کی انتخابی یا اقتدار کی عملی سیاست میں واپسی خود بہت سے نئے سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 18جنوری کو دیگر 18اضلاع میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے نتائج بھی یہ ہی کچھ ہوں گے یا تحریک انصاف ان حالیہ نتائج کے برعکس کچھ نیا کرسکے گی۔ کیونکہ اگر دوسرے مرحلے کے نتائج بھی پہلے مرحلے کے نتائج کی طرح ہی سامنے آتے ہیں تو تحریک انصاف کی سیاسی ساکھ اور زیاد ہ متاثر ہوگی۔ عام انتخابات 2023سے قبل خیبر پختونخواہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں تحریک انصاف کی شکست کا ایک بڑا اثر عام انتخابات کی سیاست پر بھی پڑسکتا ہے۔ اگرچہ عام انتخابات کا ماحول مقامی انتخابات سے مختلف ہوتا ہے مگر رائے عامہ میں مقامی انتخابات کے نتائج یقینی طور پر اپنا اثر پیدا کریں گے۔اس لیے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں ہمیں تحریک انصاف کے حامیوں ا ور مخالفین میں ایک بڑی سیاسی جنگ دیکھنے کو ملے گی اور دیکھنا ہوگا کہ اس حتمی مقابلے میں کون کس پر سیاسی برتری حاصل کرتا ہے۔ تحریک انصاف اگر واقعی دوسرے مرحلے میں برتری دکھاتی ہے تو پہلے مرحلہ کی شکست کا اثر کم ہوگا وگرنہ ان کے لیے اور زیادہ سیاسی مسائل پیدا ہوں گے۔
اب دلچسپ پہلو جس کا تجزیہ کیا جانا چاہیے کہ تحریک انصاف کی شکست کی کیا وجوہات ہیں۔ اول یک عمومی رائے مہنگائی، معاشی بدحالی اور گورننس سے جڑے مسائل ہیں او رلوگ واقعی حکومتی کارکردگی سے نالاں نظر آتے ہیں۔ اس کھیل میں صحت کارڈ اور احساس پروگرام بھی اپنا نتیجہ نہیں دے سکے۔ دوئم مقامی انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم میں واضح اختلافات دیکھنے کو ملے او رکہیں حلقوں میں تحریک انصاف کا مقابلہ تحریک انصاف کے درمیان ہوا او راس کا نتیجہ جے یو آئی یا دیگر جماعتوں کے حق میں ہوا۔پی ٹی آئی کے صوبائی وزیروں، مشیروں اور ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ یا پارٹی کارکنوں کے مقابلے میں محض اپنے خونی رشتوں، رشتہ داروں کو ٹکٹ جاری کیے جس کا شدید ردعمل پی ٹی آئی ووٹروں کی جانب سے شکست کی صورت میں دیا گیا۔کئی مقامات پر پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے پی ٹی آئی مخالف امیدواروں کی حمایت کی او رپارٹی مفاد کو نقصان پہنچایا۔سوئم پی ٹی آئی کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ نظرانداز جماعت کی تنظیم سازی کو دی گئی او ربظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم سمیت ان کی سیاسی قیادت کی پارٹی معاملات کو درست کرنے میں سنجیدگی یا کوششیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔چہارم ارکان قومی و صوبائی اسمبلی ممبران کا عام ووٹروں یا پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ کوئی موثر رابطہ کاری نہ تھی اور ایک بڑی خلیج دیکھنے کو ملی جس کا نتیجہ بہت سے حلقوں میں کم ٹرن آوٹ ی صورت میں ملا اور نقصان پی ٹی آئی کا ہوا۔پنجم وزیر اعلی خیبر پختونخواہ بھی صورتحال کے براہ راست ذمہ دار ہیں او روزیر اعظم کی جانب سے کمزور وزیر اعلی کی تقرری بھی بظاہر ان کی شکست کے چند بڑے عوامل میں سے ایک ہے۔
وزیر راعظم عمران خان نے اس حالیہ شکست کو تسلیم بھی کیا او راپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا جو اچھا پہلو ہے۔لیکن کیا ہمیشہ وہ غلطیوں کا ہی اعتراف کرکے خود کو بچاسکیں گے یا وہ بروقت درست فیصلے کرنے کا ادرا ک، غلطیوں کو تواتر کے ساتھ نہ دہرانا اور پارٹی کے معاملات میں کڑی نگرانی و جوابدہی کا نظام قائم کرسکیں گے۔ حالیہ شکست میں جو لوگ بھی ذمہ دارہیں کیا ان کو جوابدہ بنایا جائے اور جو بھی پارٹی کے ارکان اسمبلی ٹکٹوں کی تقسیم میں خاندانی اقراپروری میں ملوث پائے گئے او رمیرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں ان کا احتساب ہوسکے گا۔کیا اگلے مراحل میں ٹکٹوں کی تقسیم اور ارکان اسمبلی کی حد سے زیادہ سیاسی مداخلت کو بھی وزیر اعظم یا صوبائی وزیر اعلی روک سکیں گے۔کیونکہ ووٹ کو دیکھیں تو مجموعی طور پر پی ٹی آئی کی برتری موجود ہے البتہ نشستوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے او راس کی بڑی وجہ پی ٹی آئی کے ایک سے زیادہ امیدوار تھے،لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر دوسرے مرحلے کے نتائج بھی پہلے مرحلے سے مختلف نہیں ہوں گے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف نے مشکل حالات میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فیصلہ کیا وگرنہ موجودہ حالات واقعی ان کے لیے سیاسی طور پر سازگار نہیں تھے۔ بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کا خیبرپختونخواہ، اسلام آباد او رپنجاب میں میئر و ڈپٹی میئر کے براہ راست انتخابات کا فیصلہ پارٹی کی مجموعی قیادت کی خواہش کے برعکس تھا۔ عام انتخابات سے قبل خیبر پختونخواہ، اسلام آباد او رپنجاب میں مقامی سطح پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کا فیصلہ چیلنج ہی ہے۔کیونکہ اگر ان انتخابات میں جس میں پنجاب بھی شامل ہے نتائج پی ٹی آئی کے برعکس ہی نکلتے ہیں تو عام انتخابات سے قبل یہ پارٹی کے لیے بڑا سیاسی دھچکہ ثابت ہوگا۔ اگرچہ ان انتخابات کی ایک وجہ الیکشن کمیشن اور اعلی عدالتیں بھی ہیں جو بروقت انتخابات چاہتی ہیں۔ اس لیے یہ دباؤمحض پی ٹی آئی حکومت پر ہی نہیں بلکہ سندھ میں موجود پیپلزپارٹی پر بھی ہے جو عملی طور پر مردم شماری کو بنیاد بنا کر انتخاب سے فرار کا راستہ چاہتی تھی، مگر الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔پی ٹی آئی کا ایک بڑا چیلنج پنجا ب میں مقامی حکومتوں کے انعقاد کا ہے۔ جہاں مسلم لیگ ن طاقت بھی رکھتی ہے اور یہاں براہ راست میئر کے انتخابات سے جو بڑی سیاسی جنگ دیکھنے کو ملے گی وہ بھی پی ٹی آئی کو نئی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔
ہمارے حکمرانی کے نظام کا المیہ یہ ہے کہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے وہ پارٹی معاملات سے خود کو لاتعلق کرلیتا ہے او راس کی عدم دلچسپی ہی عملی طور پر پارٹی کو کمزو رکرنے کا سبب بنتی ہے۔ پی ٹی آئی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے اردگرد زیادہ تر غیر سیاسی لوگوں کا ہی غلبہ ہے او روہ وزیراعظم کو بہت سے معاملات میں اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ یہ قصور محض ان غیر سیاسی لوگوں کا ہی نہیں بلکہ خود عملی طور پر وزیر اعظم بھی اس صورتحال کے ذمہ دارہیں جو غیر سیاسی لوگوں کو سیاسی لوگوں کے مقابلے میں اپنی طاقت سمجھتے ہیں۔اب دیکھنا ہوگا کہ عام انتخابات سے قبل پی ٹی آئی اپنی داخلی سیاست میں کوئی بڑی سرجری سیاسی او رانتظامی بنیادوں پر کرسکے گی؟
تحریک انصاف کو عملی طو رپر ایک طرف اپنی گورننس کے معاملات کو غیرمعمولی انداز سے نمٹنا ہوگا او رزیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف دے کر اپنی حکمرانی کی اچھی مثالیں قائم کرنا ہوں گی۔ دوسرا اسے فوری طور پر اپنی پارٹی کے داخلی اختلافات او رموجود گروپ بندیوں کا کوئی سیاسی علاج ہی تلاش کرنا ہوگا۔اس کے لیے فوری طور پر سیاسی افراد پر مشتمل کمیٹی کو قائم کرکے ہی تنظیمی اختلافا ت کو کم کیا جاسکتا ہے۔پی ٹی آئی کے پاس وقت کم ہے او رمقابلہ واقعی ان کے لیے سخت ہے۔ کیونکہ حزب اختلاف کی جماعتیں یقینی طو رپر حکمران جماعت کی داخلی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاکر ان پر سیاسی برتری کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔اس لیے ایک طرف چیلنج سیاسی مخالفین کے مقابلے میں اپنی سیاسی برتری کو قائم کرنا اور دوسری طرف پارٹی معاملات میں موجو د بے چینی، غیر یقینی صورتحال، پارٹی قیادت یا ارکان اسمبلی کی ووٹروں اورکارکنوں سے لاتعلقی کو ختم کرنا ہے۔
کیا واقعی تحریک انصاف اس چیلنج سے نمٹ کر آگے بڑھ سکے گی او رکیا جو حالیہ سیاسی دھچکہ لگا ہے اس کی سیاسی تلافی کرسکے گی۔یہ ہی تحریک انصاف کا اصل امتحان ہے اور دیکھنا ہوگا کہ وہ اس امتحان میں کس حد تک سرخرو ہوتی ہے۔