کرسمس اور ہیپی نیو ایئر سےخوف کیوں؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 24 / دسمبر / 2021
- 10470
ہر سال جب ’ہیپی نیو ایئر‘ اور ’میری کرسمس‘ کی تقریبات کا پوری دنیا میں آغاز ہوتاہے تو ہمارے یہاں عجیب وغریب نوعیت کی فکری و نظری کنفیوژن پیدا کر دی جاتی ہے۔ درویش کے بہت سےلبرل ہیومن فورم سے وابستہ دوست بھی یہ پوچھنے لگتے ہیں کہ سر کیا ان تہواروں کو منانا جائز ہے؟
حالانکہ وہ باقی ہر طرح کے فیشن اور شرارتی و رنگین کام کریں گے مگر ان تہواروں پر مذہبیت، جائز اور ناجائز کے سوالات کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ مباحث ہمیشہ سے ہیں لیکن جب سے انٹرنیٹ کی ہوشربا ایجاد ہوئی ہے اور سوشل میڈیا نے اس قدر طاقت پکڑی ہے تو پروپیگنڈا وار بھی اسی ریشو سے بڑھی ہے۔ ہر شدت پسند نظریے کو یہ خطرہ ہے کہ کہیں میری بھیڑیں کسی دوسرے مخالف کیمپ میں نہ چلی جائیں یا دیگر بننےوالے مختلف گروپوں کی صورت آزاد نہ ہو جائیں۔
جو قدیمی عقیدہ یا نظریہ جتنا زیادہ طاقتور یا جابر رہا ہے اس کے ماننے والوں پر اس کی گرفت اتنی ہی مضبوط ہے۔ اس لئے اپنے لوگوں کے ادھر ادھر کھسکنے کی تشویش بھی انہی میں زیادہ ہے۔ حالانکہ اگر ہم وسعت نگاہی اوروسیع المشربی سے کام لیں تو اکیسویں صدی کا انسان گلوبل ویلیج کا باسی اور وسیع انسانی برادری کا شہری ہے، جسے مختلف النوع قومی، مذہبی، نسلی، جنسی، یا لسانی تنگناؤں کا اسیر بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔ اگرہم ایسے کر رہے ہیں یا اس طرح سوچتے ہیں تو بالآخر شکست ، مایوسی اور ناکامی ہمارا مقدر ہوگی کیونکہ ہم فطرت اور اس کے بدیہی تقاضوں سے لڑ رہے ہیں۔
انسان پیدائشی طور پر آزادی پسند اور من موجی ہے۔ وہ پابندیاں ایک حد تک ہی برداشت کرتا ہے۔ الایہ کہ جہالت پر مبنی جنونی نظریاتی پروپیگنڈے سے اس کی آزاد شعوری صلاحیتوں کو جکڑ لیا جائے یا ان فطری صلاحیتوں کو عقیدے کے دباؤ میں مسخ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کے پجاری و بیوپاری اور جکڑ بندیوں کے سوداگر بالعموم انسانی حقوق اور آزادیوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ ان کا جب بھی بس چلتا ہے وہ سب سے پہلے حریت فکر اور آزادی اظہار پر حملہ آور ہوتےہیں۔ زیادہ یا بولڈ سوالات بھی انہیں برداشت نہیں ہوتے۔ یوں وہ بچوں کو یہ سمجھانے میں کوشاں رہتےہیں کہ ایسے سوالات مت اٹھائیں جن سے ان کے ایمان میں خلل آجائے۔
بظاہر یہ کہیں گے کہ جہالت بڑی بری چیز ہے۔ عقل و فہم سے کام لو، سوچو، غور کرو، قدرت نے تمہیں شعور بخشا ہے اس سے کام کیوں نہیں لیتے ہو۔ لیکن بالفعل یہ سب دعوے نمائشی ہوتے ہیں۔ جونہی آپ نے شعورسے کام لیتے ہوئے ان کے طے کردہ مقدسات پر سوالات اٹھائےتو پھر دھیرے دھیرے پینترا بدلنے لگے گا ، دبے دبے الفاظ میں آپ کو یہ کہتے سنائی دیں گے یہ کہ کچھ باتوں میں زیادہ کرید نہیں کرتے۔ کچھ مقدس حقائق ہیں جو طے شدہ ہیں ان کو متنازع نہیں بناتے۔ فلاں مسئلے کو زیادہ نہیں اٹھاتے۔ اے لوگو! زیادہ سوالات اٹھانے سے اجتناب کرو، کہیں ایسے نہ ہو کہ آپ کا ایمان ضائع ہو جائے اور آپ کو خبر بھی نہ ہو۔
پھر اس سے اگلا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے جس میں نظریہ جبر سے عقیدت کو مقدس عشق کے روپ میں پیش کرتے ہوئے عقل و شعور پر لعن طعن شروع کر دی جاتی ہے۔ عقل عیار ہے، عقل مکار ہے، سو بھیس بنا لیتی ہیں۔ زیادہ سیانے نہ بنو ، زیادہ پڑھ جانے والا گمراہ ہو جاتا ہے، پھر عقل و عشق میں باہمی بحثیں کرواتے ہوئے عشق والوں کو پاس اور عقل والوں کو فیل کر دیا جاتا ہے۔ بالآخر وہ مرحلہ آتاہے جہاں خرد تمام تر جہل قرار پاتی ہے۔ کیونکہ وہ ان نام نہاد مقدسات سے ٹکراتی ہے۔ پنڈتوں اور مولویوں سے شروع ہو جائیں، آتما اور پرماتما سے ہوتے ہوئے تصوف و رہبانیت کے تمام سلسلوں تک چلے جائیں، انسانی آزادیوں اور حقوق کو کچلنے والے آدرش یوں حاوی دکھائی دیں گے کہ موتو قبل الموت۔
یہ درست ہے کہ غرور و تکبر ایسی غیر انسانی و غیر اخلاقی اپروچیں ہیں جنہیں خودی کے نام پر پھیلایا گیا ہے۔ صوفیا جب یہ کہتے ہیں کہ مرنے سے پہلے مر جاؤ تو ان کا مدعا درحقیقت غرورو تکبر کومارنے سے ہوتاہے لیکن اس کا مطلب کہیں یہ ہرگز نہیں کہ آپ انسانی وقار اور عزت نفس پر حملہ آور ہو جائیں۔ یا اپنے نظریے یا عقیدے سے ہٹ کر رہنے والے پرامن انسانوں کو منافرت بھری نظروں سے محض اس لئے دیکھیں کہ وہ آپ کی سوچ یا عقیدہ پر یقین نہیں رکھتے۔ پچھلی پانچ ہزار سالہ انسانی تاریخ میں انسانوں پر یہی جبر ماورائی یا بالائی حوالوں سے رو ا رکھا گیا ہے۔ اسی کے مظاہر ہمیں انسانی سوسائٹی کی مختلف النوع پاکٹس میں آج بھی درپیش ہیں۔
آج کے مہذب انسان کو ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ ان تمامتر تنگناؤں کو خیر باد کہتے ہوئے پوری انسانیت سے محبت کرنا سیکھے، یہ سمجھ لے کہ تاریخی طور پر یہ جو قلب و نظر یا دل و دماغ کی کشمکش بیان کی جاتی ہے۔ یہ سب درحقیقت استعارتاً یا محاورتاً ہے بلکہ ماورائی قوتوں کے حقائق بھی کچھ اسی نوعیت کے ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ انسانی دماغ و شعور اس کے تمام تر جسد خاکی کی اصل ہے۔ سارے نظریات و تفکرات اسی کے کرشمے ہیں۔ کوئی واردات قلبی ہےیا کرامت و معجزہ روحانی ہے سب درحقیقت شعور انسانی کی تخلیق و اثر آفرینی ہے۔ شعور یا دماغ کی اس قدر لہریں اور تہیں ہیں کہ تمام فلسفہ و الہیات اور سائنٹیفک ترقی و ایجادات اسی کے مظاہر ہیں۔ جسے ہم عشق و عقیدت گردانتے ہیں اس کی اول و آخر کسوٹی بھی اس کمپیوٹر کی تہوں میں پنہاں ہے۔
لہٰذا اے عزیز دوستو! تمامتر تعصبات، تنگناؤں اور منافرتوں سے اوپر اٹھتے ہوئے انسانیت کی طرف آگے بڑھو یہ عہد کر لو کہ ہم نے کسی کا دل نہیں دکھانا، کسی کے ساتھ کسی بھی نوع کی زیادتی نہیں کرنی، ایسے تمام مذاہب، نظریات یا تہوار جو ہمیں وسیع تر انسانی برادری سے کاٹتے نہیں جوڑتے ہیں، وہ سب ہمارے اپنے ہیں۔ جو ہمیں دوسروں سے الگ تھلگ کرتے ہیں یا بنی نوع آدم سے غیریت دلاتےہیں، وہ ہمارے اپنے ہو ہی نہیں سکتے۔ ہم نے ان سے فاصلہ کرنا ہے۔
اکیسویں صدی کے اس گلوبل ویلیج میں ہم نے نفرتوں کی جگہ محبتیں بانٹنی ہیں اور پوری دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کیلیے یہ پیغام دینا ہے کہ:
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
تو اخوت کا بیان ہو جا، محبت کی زباں ہو جا