کے پی کے الیکشن: انجام کا آغاز

خیبر پختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات پر شور میں کسی کو یہ احساس نہیں کہ یہ الیکشن جدید نظام کا نکتہ آغاز ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کی بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع نتائج پر اٹھنے والے تنقیدی شور شرابے کا جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ 

الیکشن نتائج آنے پر شام ڈھلے چند صوبائی وزرا نے مہنگائی کو اس اپ سیٹ کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ تاہم اگلے دن وجوہات کا سارا اصرار امیدواروں کے غلط چناؤ اور پارٹی کے اندرونی اختلافات پر مرکوز ہو گیا۔ یعنی پی ٹی آئی کی دانست میں عوام تو حکومت سے خوش باش تھے، دھڑا دھڑ ووٹ ڈالنے کو تیار بیٹھے تھے لیکن پارٹی کے غلط فیصلوں نے انہیں بد دل کردیا۔ اس بد دلی میں انہیں ہر گز یاد نہ رہا کہ حکومت نےصحت کارڈ ، احساس پروگرام ، روزگار بڑھانے اور مہنگائی کنٹرول رکھنے کے جتن کرکے ان کی کتنی خدمت کر رکھی ہے۔ سب خدمات فراموش کرتے ہوئے اپنا غصہ بہ یک جنبش مہر انہوں نے ووٹ پرچی پر مخالف  کے کھاتے میں ڈال دیا۔ 

اقتدار بڑی ظالم شے ہے۔ اس کا چسکہ، عادت اور مجبوری جس اہم ترین  رابطے کو منقطع کرتی ہے، وہ ہے زمینی حقائق۔ اقتدار کے ایوانوں سے ہر چہ بادا باد دکھائی دیتا ہے۔ جو ملاقاتی شرف باریابی پاتا ہے وہ بھی ہر چہ بادا باد کی آنکھوں دیکھی گواہی پیش کرتا ہے۔ ایک کے بعد ایک جب سب یہی گواہی دیتے اور حضور کے اقبال کی مزید بلندی اور سرفرازی کے لئے دعاگوئی کرتے ہوئے رخصت لیتے ہیں تو اقتدار  کے مسند نشیں کو یقین کامل ہوجاتا ہے کہ اتنے اچھے دن اس ملک اور قوم پر نہ آئے نہ آئیں گے۔ یہ یقین دل کے اندر کہیں یہ گمان بھی بٹھا دیتا ہے اس ملک اور قوم پر آئے ان اچھے دنوں کو مخالفین نظر لگانے کے درپئے ہیں۔ ظاہر ہے حاکم وقت کی مہربانیاں اور کامیابیاں ان سے ہضم نہیں ہو رہیں۔ 

اس رویے کو خود پسندی کہئے یا خود انکاری مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس رویے کی بو باس اس قدر رچی بسی ہوتی ہے کہ  اور کوئی مہک مشکل ہی سے سانس لے سکتی ہے۔ پی ٹی آئی  کو جو کچھ صوبائی  بلدیاتی کے پہلے مرحلے کے نتائج سے معلوم ہوا،  عوام کو اس کا نتیجے کا کافی دیر سے اندازہ ہو رہا تھا۔ ہو سکتا ہے پی ٹی آئی قیادت سیاسی بیانئے کی مجبوری سمجھتے ہوئے شکست کے ان پہلوؤں کا اقرار نہ کرے مگر حقیقت کا ادراک جس قدر جلد اور کھلے دل سے کر لیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ 

دوسری صورت میں پارٹی ڈسپلن اور درون خانہ ڈانٹ ڈپٹ سے دل کو تسلی اور عام پیغام تو ہو جائے گا کہ کپتان بہت برہم ہیں مگر اسباب جوں کے توں رہیں گے۔ مہنگائی کو ہی لے لیں، تسلیم کہ درآمدات برآمدات کا تین گنا ہونے سبب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور یہ بھی کہ اس ڈالر بازی کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ اس وضاحت سے دال سبزی سستی ہونے پر آمادہ ہے اور نہ روزمرہ کی دیگر اشیا۔ آئی ایم ایف کے پاس حکومت کے جانے کی مجبوری پچھلی حکومتوں کی وجہ سے تھی یا اب سوا تین سال بعد کچھ اپنی مجبوریاں بھی اس میں شامل ہیں، عوام کو تو بجلی کے ماہانہ بل دیتے ہوئے بلبلاتے ہوئے  کہاں یاد رہتا ہے کہ سرکلر ڈیٹ پچھلی حکومتوں کے دور میں کہاں تھا اور اس دور میں کہاں ہے۔ اسے تو چار روپے فی یونٹ کے اضافے سے لگنے والے جھٹکے کے بعد  پچھلی حکومتوں کی انرجی پالیسیوں کے  کہاں یاد رہتے ہیں۔ وہ تو اس یاد سے ہی فارغ نہیں ہو پاتے کہ مہینہ کیسے گزرے۔۔ 

مہینہ گزرنے سے پہلے اسے گیس کے صبح شام کم کم گزرنے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بچوں کی اسکول کی فیسیں ہوں یا دوائیوں کی قیمتیں، ان کے لئے تو جائے مانیں نہ پائے ماندن والا معاملہ ہے۔ شب روز کی یہ تلخی آس پاس جاری بد انتظامی، اقربا پروری اور نچلی سطح کی کرپشن سے جمع ہو کر اگر بلدیاتی الیکشن میں زبان انتخاب سے پکارے تو اسے غلط امیدواروں کے چناؤ اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کے نقار خانے میں دھکیلنے سے خودانکاری کے سوا کیا حاصل ہوگا۔۔

کے پی میں بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ابھی باقی ہے مگر شنید یہی ہے کہ پہلے مرحلے کے اضلاع ان کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ دوسرے مرحلے کے اضلاع میں سیاسی تانے بانے کچھ اس طرح کے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کا بظاہر ان علاقوں میں اثر و رسوخ کا جادو سر چڑھ کر بولنے کا امکان زیادہ ہے۔ سیاست میں چلنے والی ہوا بہت اہم ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے کے الیکشن میں پی ٹی آئی کو دوہرے چیلنج کا سامنا ہوگا۔ اول اپنی سیاسی بازی کے لئے صحیح مہروں کا انتخاب اور بہتر چال ، دوسرے اس تازہ ہوا کا رخ موڑنے کا کشٹ۔ اپوزیشن کا مورال بلند ہے۔ جے یو آئی کے حصے میں آئی کامیابی نے اس کے لئے امیدوں کا ایک نیا جہان کھول دیا ہے۔ ن لیگ انتخاب میں عددی کھیل میں تو ابھی نمایاں نہیں لیکن مولانا کے اتحادی ہونے کے ناطے اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے حکومت کو دباؤ میں آتے پا کر خوشی سے نہال ہے۔  پیپلز پارٹی بھی اپنے طور پر مزید جارحانہ انداز اپنا رہی ہے۔

پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات ابھی ہونا ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے لئے یہ ایک سنہری موقع ہاتھ آیا ہے کہ وہ جنرل الیکشن سے پہلے الیکشن کی ٹون سیٹ کرنے کی پوزیشن میں  آ رہے ہیں۔ وقت تیزی سے قدم اٹھائے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومتی اننگز کے انجام کا آغاز ہو چکا۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ اقتدار کے اندر سے باہر کا منظر دیکھنے پر مصر ہے یا باہر کی دنیا میں مسائل سے نمٹ کر حکومتی چولیں سلامت رکھنے کا جتن کرتی ہے۔

اس ہاؤ ہو کے سیاسی شور و غوغا میں البتہ ملکی معیشت کے آنسو پونچھنے اور کاندھا ملا کر کھڑے ہونے والی طاقتیں اب مزید مشکل میں آئیں گی۔ شوکت ترین سینیٹر بن کر اب مکمل پکے وزیر بننے کو ہیں مگر اگلا راستہ مشکلات سے اٹا پڑا ہے۔ منی بجٹ منظوری کا منتظر ہے۔ اس بجٹ سے مہنگائی کی ایک نئی لہر کا اندیشہ ہے۔ افراط زر اور مارک اپ ریٹ دوہرے ہندسے کے دروازے پر ہیں۔ پہلے پانچ ماہ کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ توقع سے دو گنا رہا۔  ڈالر کا روپے پر دباؤ مسلسل قائم ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر دھیرے دھیرے کم ہو رہے ہیں۔ فیٹف کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام بحالی کی تگ و دو ابھی تک جاری ہے۔ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اومی کرون کے پھیلاؤ نے عالمی معیشت کو ایک بار سپیڈ بریکر لگا دیا ہے۔ سو، معیشت کے لئے اندورن اور بیرون ملک چیلنجز شدید تر ہیں۔

پی ٹی آئی کو ایک کے بعد ایک سیاست اور مسائل کی اننگز کھیلنی ہے۔ ایسے میں زمینی حقائق کا ادراک اس کی بولنگ اور بیٹنگ کو ان چاہی غلطیوں سے بچا سکتا ہے۔ خود انکاری سے گریز اور سیاسی منظر نامے پر اپنے لئے چند مضبوط اتحادیوں کے ساتھ جم کر کھیلنے کی منصوبہ بندی اس کے لئے ناگزیر ہے، ورنہ کے پی بلدیاتی الیکشن کے نتائج اسی انجام کا نکتہ آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔