پارٹی انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو پر تحریک انصاف کے کارکنوں میں مایوسی
- اتوار 26 / دسمبر / 2021
- 3110
حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز نے وزیر اعظم عمران خان کے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزرا کو پارٹی کے نئے عہدیداران کے طور پر مقرر کرنے پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
پارٹی ورکرز ان وزرا کو ہی خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ سمجھتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے جو پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کو پارٹی کا مرکزی سیکریٹری جنرل، سابق وفاقی وزیر عامر محمود کیانی ایڈیشنل سیکریٹری جنرل، وزیر تعلیم شفقت محمود کو پنجاب کا صدر، وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار کو جنوبی پنجاب کا صدر، وزیر دفاع پرویز خٹک کو خیبر پختونخوا کا صدر، وزیر بحری امور علی زیدی کو سندھ کا صدر اور قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کو بلوچستان کا صدر مقرر کیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سب کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے صرف شکست کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے تھی۔ پنجاب میں پارٹی کے ایک ناراض رہنما نے کہا کہ ’ہم پارٹی چیئرمین عمران خان کی سربراہی میں اعلیٰ اختیاراتی کور کمیٹی کی جانب سے ملک بھر میں پارٹی تنظیموں کو تحلیل کرنے کے پیچھے حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہیں‘۔
فیصلے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو آئندہ بلدیاتی انتخابات اور بالآخر عام انتخابات سے قبل بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ تنظیمی نظام کو تحلیل کرنے سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ایک اور سینئر رہنما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’خیبر پختونخوا میں صاف حکمرانی کو یقینی بنانے میں ناکامی اور اعلیٰ پارلیمنٹیرینز کی بدانتظامی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابی ناکامی کا سامنا ہؤا ہے۔ ان پارلیمنٹیرینز نے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ٹکٹ دلانے میں مدد کی لیکن اس کے بجائے پارٹی کے منتظمین کو سزا دی گئی ہے‘۔
مرکز اور صوبوں میں وفاقی وزرا کی بطور پارٹی سربراہان تقرر پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ یہ وزرا اپنے متعلقہ ڈومینز میں اپنی کارکردگی کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہے اور اب انہیں اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ سینئر رہنما نے کہا کہ ’حکومتی عہدیداران نے سیاسی ذمہ داریاں بھی سنبھال لی ہیں اور بظاہر اب تمام مسائل حل ہو جائیں گے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتی عہدیداران خراب طرز حکمرانی کے ذمہ دار ہیں لیکن سیاسی کارکنان کو جنبش قلم سے قائدانہ کردار سے ہٹا دیا گیا‘۔ پارٹی کے ایک بانی رکن، جن کا پارٹی میں قائدانہ کردار نہیں ہے، نے کہا کہ پی ٹی آئی لاکھوں کارکنان پر مشتمل ہے لیکن حیرت انگیز طور پر کچھ کارکنوں کو متعدد ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
شفقت محمود کے پی ٹی آئی پنجاب کے صدر کے طور پر تقرر پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک صوبائی رہنما نے کہا کہ ’پارٹی، وزیر تعلیم کی قیادت میں گزشتہ بلدیاتی انتخابات ہار گئی تھی‘۔
شفقت محمود نے رابطہ کرنے پر کہا کہ وزیر اعظم نے پارٹی کو نچلی سطح پر دوبارہ منظم کرنے اور دوبارہ فعال کرنے کے لیے نیا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے۔ ہم مستقبل کے انتخابی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پارٹی کی تنظیم نو کریں گے۔