منی بجٹ اب منگل کو قومی اسمبلی میں پیش ہونے کا امکان
- اتوار 26 / دسمبر / 2021
- 4980
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ منگل کے روز سپلیمنٹری فنانس بل 2021 اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021 منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
اس طرح 12 جنوری کو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے 6 ارب ڈالر کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (ای ایف ایف) کی منظوری ہے جس کے نتیجے میں ایک ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
مشیر خزانہ شوکت ترین نے ڈان کو بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جن مالیاتی اور اصلاحاتی اقدامات پر اتفاق کیا گیا تھا، وہ سب مکمل ہوچکے ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات کیے گئے ہیں کہ پورا پیکج بشمول سپلیمنٹری فنانس بل اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان بل کی منظوری منگل کے روز کابینہ کے اجلاس میں دے دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم اسی روز اسے پارلیمنٹ میں بھی پیش کردیں گے‘۔
اس سے قبل ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت فنانس (سپلیمنٹری) بل 2021 کو قومی اسمبلی سے منظور کروانے کے لیے تیار ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس سے قبل مناسب وقت ہو۔ آئی ایم ایف کے ڈائریکٹرز کو روایتی طور پر اقتصادی اور مالیاتی پالیسی اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے 2 ہفتے درکار ہوتے ہیں۔
مشیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کو یقین دلوایا تھا کہ پاکستان، رواں سال اپریل میں معطل ہونے والے 6 ارب ڈالر کی ای ایف ایف کی بحالی کی منظوری کے لیے بورڈ کے اجلاس کی درخواست دینے سے قبل تمام پیشگی اقدامات مکمل کرلے گا۔
ان اقدامات کے تحت حکومت سپلیمنٹری فنانس بل کے ذریعے ترقیاتی فنڈز میں 22 فیصد کٹوتی کے کرکے رواں مالی سال کے بقیہ حصے کے دوران تقریباً 550 ارب روپے کی مالی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ 61 کھرب روپے کے نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف کے پیش نظر تقریباً 360 ارب روپے کی ٹیکس استثنیٰ واپس لیا جائے گا اور پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی میں 4 روپے فی لیٹر ماہانہ اضافہ کیا جائے گا۔
ان اقدامات کے حوالے سے پیشگی اعلان کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت شرح تبادلہ، بھرتیوں اور مالیاتی پالیسی کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کو بھی پارلیمنٹ سے منظور کروائے گی۔ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے متعلق کارروائی پہلے ہی کی جا چکی ہے جبکہ ٹیکس میں چھوٹ ختم کرنے اور اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے کے بلوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت مختلف شیڈولز میں شامل اشیا پر عائد ٹیکس میں ترمیم کی جائے گی۔ چھٹے شیڈول کے تحت استثنیٰ کے نظام کو دواسازی کے شعبے سمیت کم کرنے کی تجویز ہے اور اسے صرف ضروری اشیا کی درآمد اور مقامی سپلائی تک محدود کیا جائے گا۔