نئے انکشافات نے شریف خاندان کو سیسیلین مافیا ثابت کردیا ہے: فواد چوہدری
- اتوار 26 / دسمبر / 2021
- 5000
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حلف نامے کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات کے بعد کہا ہے کہ ان انکشافات نے ایک بار پھر ’شریف خاندان کو سیسیلین مافیا ثابت کر دیا ہے‘۔
ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانا شمیم نے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے خلاف دیے جانے والے بیان حلفی پر نواز شریف نے دفتر میں ان کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔ فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ان انکشافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح شریف خاندان، مافیا کی طرح عدالتوں سمیت اداروں کو بلیک میل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ شریف خاندان ’صرف اثر و رسوخ خرید کر یا سپریم کورٹ پر حملہ کرکے انصاف کو ناکام بنانے کی کوشش سے آگے نہیں بڑھ سکتا‘۔ سپریم کورٹ پر حملے سے لے کر جسٹس قیوم کو کال کرنے تک اور حلف نامے کے ذریعے بدعنوانی کی کہانی دہرائی گئی ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ’اس بات کا انکشاف ہونا کہ رانا شمیم نے اپنے بیان حلفی پر نواز شریف کے دفتر میں ان کے سامنے دستخط کیے تھے، اس بات کا ثبوت ہے کہ شریف خاندان نے اداروں پر حملہ آور ہونے اور نواز شریف کے خلاف مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی‘۔
اخبار کی رپورٹ میں رانا شمیم کے بیان حلفی کو نوٹرائز کرنے والے چارلس گتھری کے حوالے سے کچھ ثبوتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ چارلس گتھری کا کہنا تھا کہ رانا شمیم، بیان حلفی پر دستخط کے وقت ’ماربل آرک‘ میں موجود تھے۔ دستاویزات کے مطابق ماربل آرک ’فلیگ شپ ڈیولپمنٹس لمیٹڈ‘ کے دفتر کے طور پر رجسٹر ہے جس کے ڈائریکٹرز میں حسن نواز شریف بھی شامل ہیں اور یہاں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی اکثر ملاقاتیں ہوتی ہیں۔
چارلس گتھری سے پوچھا گیا کہ کیا رانا شمیم، نواز شریف کے دفتر میں موجود تھے اور کیا وہ پرسکون تھے تو چارلس گتھری نے جواب دیا کہ ’بہت زیادہ، جی ہاں‘۔
خیال رہے کہ 15 نومبر2021 کو انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم نے ایک مصدقہ حلف نامے میں کہا تھا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے ایک جج کو ہدایت دی تھی کہ سال 2018 کے انتخابات سے قبل کسی قیمت پر نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت پر رہائی نہیں ہونی چاہیے۔