سپریم کورٹ میں ایڈمنسٹریٹر کراچی کو ہٹانے کا حکم اور معافی
- سوموار 27 / دسمبر / 2021
- 3710
سپریم کورٹ آف پاکستان کی کراچی رجسٹری میں تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا اور بعد ازاں مرتضیٰ وہاب کی معافی کے بعد اپنا حکم واپس لے لیا ہے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیر کو پبلک پارکس پر قبضے کے کیسز کی سماعت ہوئی۔ گٹر باغیچہ تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سخت زبان استعمال کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
بنچ کے رکن جسٹس قاضی امین نے دورانِ سماعت ایڈمنسٹریٹر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی زمینیں ہیں، آپ کی ذاتی ملکیت نہیں۔ انہیں ہر صورت واپس لینا ہو گا۔ ہم نہیں لیں گے تو کوئی اور آ کر لے گا۔ جس پر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم کیا چلے جائیں؟ حکومت چھوڑ دیں؟ اوپن کورٹ میں حکومت کے خلاف بڑی بڑی آبزرویشنز پاس کر دی جاتی ہیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے مرتضیٰ وہاب کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مسٹر چپ کریں۔ کیا بات کر رہے ہیں آپ۔ سیاست نہ کریں یہاں۔ آپ ایڈمنسٹریٹر ہیں یا سیاسی رہنما؟ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ جائیں نکل جائیں یہاں سے۔ ہم آپ کو ابھی فارغ کر دیتے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹر کو شہریوں کی خدمت کے لیے رکھا جاتا ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کا رویہ سیاسی رہنماؤں جیسا ہے، شہریوں کی خدمت کا نہیں۔
عدالت نے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو حکم دیا کہ مرتضیٰ وہاب کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے اور ان کی جگہ کسی غیر جانب دار اور اہل شخص کو ایڈمنسٹریٹر لگایا جائے۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ایڈمنسٹریٹر کراچی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے بعد ازاں سپریم کورٹ سے اپنے رویے پر غیر مشروط معافی مانگی اور کہا کہ میں ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم آپ کو عہدے سے ہٹا چکے۔ اب آپ ایڈمنسٹریٹر نہیں رہے۔ آپ کا عہدے پر رہنا مفادات کا تصادم ہو گا۔ البتہ وقفے کے بعد جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب نوجوان ہیں۔ انہوں نے عدالت سے معافی بھی مانگ لی ہے، ان کی معافی قبول کی جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے اب وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔ مرتضیٰ وہاب نے عدالت سے ایک بار پھر اپنے الفاظ پر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ یہ میرا شہر ہے، میں اس کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیاسی ایجنڈا لے کر آپ عدالت میں آتے ہیں۔ آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں، آپ مائی باپ بنے ہوئے ہیں۔
تاہم سپریم کورٹ نے مرتضیٰ وہاب کی غیر مشروط معافی قبول کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم واپس لے لیا۔ عدالت نے آئندہ ایڈمسنٹریٹر کے عہدے کو سیاست سے دور رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مرتضیٰ وہاب سیاسی تعلق اور دباؤ سے بالاتر ہوکر ذمے داری ادا کریں۔
تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی محمد امین احمد نے ریمارکس دیے کہ وقت آ گیا ہے کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کی ساری سوسائٹیز ختم کر دی جائیں۔ ماضی میں رفاہی پلاٹ بیچ کر خوب مال بنایا گیا۔ ایک چھوٹے دفتر میں بیٹھا افسر وائسرائے بن جاتا ہے، یہی ہمارا المیہ ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ شہر کے تمام پارکس کو ان کی اصل حالت میں بحال کرنا ہوگا۔
کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ گٹر باغیچہ کی 168 ایکڑ اراضی میں سے 50 ایکڑ پر قبضہ ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پارک بحال کرنے کے لیے انتظامیہ کو ہمارے کسی فیصلے کی ضرورت نہیں۔ سیوریج ٹریٹمنٹ کے مراکز بند ہو چکے ہیں۔ یہ ریاست کے اثاثے حکمرانوں کے پاس امانت ہوتے ہیں۔
پیر کو کمشنر کراچی نے عدالتی حکم پر منہدم کی جانے والی رہائشی عمارت نسلہ ٹاور سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی۔ کمشنر کراچی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ عمارت کی پانچ منزلیں گرا دی گئی ہیں اور 400 مزدور کام کر رہے ہیں۔ اندر سے اسٹرکچر ختم ہو چکا ہے صرف باہر سے نظر آ رہا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے عمارت منہدم کرنے والے کنٹریکٹر سے رشوت بھی مانگی ہے۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کو ڈی جی ایس بی سی اے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے سندھ اینٹی کرپشن کو قانونی کارروائی اور تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے کمشنر کراچی کو نسلہ ٹاور گرانے کا کام ایک ہفتے میں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔