طالبان کی رجعت پسندانہ سوچ پاکستان کیلئے خطرہ ہے: فواد چوہدری

  • سوموار 27 / دسمبر / 2021
  • 4010

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے دونوں جانب انتہا پسند ریاستیں ہیں۔ ایک طرف افغانستان میں طالبان کی رجعت پسندانہ سوچ ہے تو دوسری طرف بھارت میں ہندو انتہا پسندی ہے جو پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔

اسلام آباد میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویری نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ قوم میں یہ تذبذب پایا جارہا ہے کہ قائد اعظم کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انہوں نے اپنی تین بڑی تقاریر میں ظاہر کی تھی۔ پہلی تقریر انہوں نے 11 اگست 1947 کو کی تھی جو اسمبلی سے کی، دوسری تقریر فوج جبکہ تیسری تقریر انہوں نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کی تھی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ قائد اعظم کی تقاریر نئے پاکستان کو سمجھنے کی بنیاد ہیں۔ عمران خان قائد اعظم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، یہ غلط فہمی دور کرلیں کہ قائد اعظم کوئی مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اس وقت کے لیڈران نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ انہیں اندازہ تھا کہ جب یہاں جمہوریت آئی گی تو ہندو اکثریت، اقلیتوں کا جینا دوبھر کردے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت میں نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں وہ دنیا کے سامنے ہے۔ مسلمانوں پر ظلم ڈھانا معمول بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کے واقعے پر پورا پاکستان اکٹھا ہوگیا تھا۔ اور سب نے اس واقعے کی مذمت کی لیکن بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس پر کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ ہمیں اس وقت کے سیاسی قائدین کو داد دینی چاہیے جنہوں نے اتنے سال قبل حالات کو جانچ لیا کہ ظالم اکثریت مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی۔ انہوں نے پاکستان کے نام سے قومی ریاست تشکیل دی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس ریاست کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان اکثریت کے ہاتھوں ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنیں اور اقلیتوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے دائیں اور بائیں طرف دو انتہا پسند ریاستیں ہیں۔ ایک طرف افغانستان ہے جہاں طالبان آگئے ہیں۔ ہم افغانستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں لیکن جس طرح سے ان کی سوچ ہے کہ خواتین وہاں اکیلے سفر نہیں کر سکتیں، اسکول و کالج نہیں جاسکتیں، پاکستان کے لیے وہ خطرہ ہے۔ دوسری جانب بھارت جہاں ہندو انتہا پسندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دونوں طرف انتہا پسندی سے بچنے کے لیے لڑنا ہوگا۔ پاکستان ہی اس خطے کا وہ واحد ملک ہے جو اس انتہا پسندوں سے لڑ سکتا ہے۔ قائد اعظم نے 10 اگست 1947 کو کہا تھا کہ عہدوں کے حوالے سے مذہب کی ترجیح نکال دی جائے تاکہ جو مسلمان نہیں ہیں وہ بھی عہدے پر حلف لے سکیں۔ اور 11 اگست 1947 کو انہوں نے اقلیتوں کے حقوق واضح کردیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا ہوتا تو پاکستان کی تحریک مولانا عبدالکلام یا مولانا مودودی چلاتے۔ انہیں مذہبی علم پر عبور حاصل تھا لیکن انہوں نے پاکستان کی تحریک نہیں چلائی کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ مذہب میں ریاست کی گنجائش نہیں ہے اور ریاست کی سرحد نہیں ہوسکتی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ قائد اعظم اور علامہ اقبال نے سیاسی تحریک چلائی اور اسلام کو سیاسی طور پر بڑھایا کہ ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جہاں اسلام کو ماننے والے ایسی جگہ رہ سکیں جہاں کوئی ظالم اکثریت نہ ہو

ان کا کہنا تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد کس طرح بھارت کی معیشت و خارجہ پالیسی تمام تنزلی کا شکار ہیں، کیونکہ وہاں پر مذہبی اکثریت کے نام پر انتہا پسندی پھیلائی جارہی ہے۔ ہمیں قائد اعظم کے پیغام کو آگے لے کر جانا ہے، ان کا پیغام واضح ہے اور ہمیں اسے سمجھنا ہے اور اس جنگ کو لڑنا ہے۔