اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

ملک کی دیگر چھوٹی بڑی تمام سیاسی جماعتوں کے برعکس پیپلز پارٹی کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نہ صرف ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کے لیے اپنی قیادت ملک پر قربان کی بل کہ جمہوری و سول بالادستی کے حصول کے لیے بھی اس کے قائدین نے جان لیوا جدوجہد کی تاریخ رقم کی۔

برطانیہ سمیت کئی ایک ممالک میں جمہوریت کے استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور سیاسی رہنماؤں کو قربانیاں دینی پڑی ہیں لیکن پاکستان میں آمریت کی بھر پور مزاحمت اور جان لیوا جدوجہد مرتب کرنے کی تاریخ زیادہ تر ایک ہی جماعت(پیپلز پارٹی) کے حصے میں آتی رہی۔اگرچہ گزشتہ چند سالوں سے جمہوری و سول بالادستی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جدوجہد پیپلز پارٹی سے زیادہ نمایاں دکھائی دینے لگی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مشکل ترین وقت(ستر اور اسی کی دہائی) میں ملک میں جمہوریت کو پروان چڑھانے کا سہرا پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے ہی سر جاتا ہے۔پیپلز پارٹی نے اس وقت بھی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھی جب ملک کے سارے اہل قلم اور عدل کے نگران آمر وقت کے آگے سجدہ ریز تھے۔

دس سالہ دور آمریت میں پیپلز پارٹی اور اس کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ ہر اس شخص پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیاجس نے کسی بھی شکل میں یا تو آمریت کی مزاحمت کی یا کسی بھی سطح پر پیپلز پارٹی اور بھٹو شہید کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کی۔دس سالہ دور آمریت میں بھٹو صاحب کو جسمانی طور پر ختم کرنے سمیت پیپلز پارٹی کا جسمانی و نظریاتی وجود ختم کرنے کی پوری کوششیں کی گئیں لیکن 1988 کے انتخابات کے نتائج نے واضح کر دیا کہ نہ تو لوگوں کے دلوں سے بھٹو کو نکالا جا سکا اور نہ ہی انتخابی محاز پرپیپلز پارٹی کی مقبولیت ختم کی جا سکی۔دس سالوں میں آمرانہ طاقتوں کے ہاتھوں زیر عتاب رہنے والی پیپلز پارٹی  1988کے انتخابات میں آمریت کے دودھ پر پلے ہوئے سیاسی پہلوانوں کو شکست سے دوچار کردیا۔

1988کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی فتح کا اصل کریڈیٹ بے نظیر بھٹو کو جاتا ہے جنہوں نے بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد انتہائی نامساعد حالات میں پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی۔1986میں جلاوطنی کے بعد جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو ان کے فقید المثال استقبال کو دیکھ کر مقتدر حلقے پریشان ہو گئے تھے۔اگرچہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھٹو صاحب کی طرف سے ملنے والی سیاسی نیک نامی اور ہمدردی کے ووٹ نے انہیں ملک کی پہلی وزیراعظم بننے میں کسی نہ کسی حد تک مدد ضرور کی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعد کے سالوں میں انہیں ان کی خداداد صلاحیتوں، سیاسی بالغ نظری اور مدبرانہ فیصلوں سے ملکی اور عالمی سطح پر فراغ دلی سے سراہا گیا۔1988 سے 1990اور1993سے1996کے درمیان اپنی دو نامکمل حکومتوں میں بے نظیر بھٹو نے خواتین کے پولیس اسٹیشنز قائم کرنے، کاروبار کے لئے قرض فراہم کرنے، خواتین کے حقوق کو انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کرانے اور اعلی عدلیہ میں خواتین ججز کا تقرر ممکن بنانے سمیت خواتین کو ہر میدان میں آگے لانے کے لئے قابل ستائش اقدامات کیے۔

ضیائی آمریت میں ہزاروں مزدوروں کو نوکریوں سے جبری طور پر محروم کر کے من پسند افراد کی تعیناتیاں کی گئیں جس کے خلاف عملی قدم اٹھاتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے 40ہزار سے زائد ملازمین کو ملازمتوں پر بحال کیا۔محنت کش افراد کو رہائش دینے کے لیے ہر اہم شہر میں لیبر کالونی بنانے کا سہرا بھی بے نظیر کے سر جاتا ہے۔خواتین اور مزدوروں کے حقوق کے لیے عملی اقدامات یقینی بنانے کے علاوہ بے نظیر بھٹو نے ہر شخص کے حقوق محفوظ بنانے کے لیے وزارت انسانی حقوق بھی بنائی۔پیپلز پارٹی کو اگر خواتین، مزدورں اورغریبوں کی پارٹی کہا جاتا ہے تو اس کے پیچھے بے نظیر بھٹو کے ادوار میں عورتوں، محنت کشوں اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات ہی ہیں۔بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے معاشی طور پر کمزور خاندانوں کی مالی مد د اور غربت کے خاتمے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجراء اس بات کا ثبوت تھا کہ بے نظیربھٹو نے اپنی زندگی میں غریبوں خاص طور پر خواتین کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کو اولیت دے رکھی تھی۔

یوں توسیاسی محاز پر بھی بے نظیر بھٹو کی بہت سی خدمات گنوائی جا سکتی ہیں لیکن کالم کی گنجائش کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دو اہم ترین کاوشوں کا ہی تذکرہ ہوسکے گا۔اگرچہ بے نظیر بھٹو شروع دن سے جمہوریت کے استحکام کے لیے کوشاں رہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نوے کی دہائی میں وہ بھی نواز شریف کی طرح غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہونے سے اپنے آپ کو نہ بچا سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نوے کی دہائی میں پی پی اور ن لیگ ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں لیکن اس کی بڑی وجہ اسٹبلشمنٹ کی ایما پر ایوان صدر میں ہونے والی سازشیں تھیں۔ 1988سے 1996تک کے آٹھ سالوں میں تین منتخب عوامی حکومتوں کاغیر جمہوری طریقوں سے وقت سے پہلے دھڑن تختہ اس وقت کی دونوں بڑی جماعتوں کو بہت کچھ سکھا گیا۔رہی سہی کسر 12 اکتوبرکے غیر جمہوری اقدام نے پوری کر دی۔

مشرف کے ہاتھوں جلا وطنی پر مجبورہونے کے بعد میاں نواز شریف کی سیاست کا رخ مکمل طور پر بدل گیا۔ دو دو بار وزارت عظمی سے نکالے جانے والوں کو اپنی غلطیوں کا ادراک ہوا اور انہوں نے ماضی کی غلطیو ں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے باہمی رابطوں اور مذاکرات کے طویل سلسلوں کے بعد 36نکات پر مشتمل میثاق جمہوریت پر دستخط کیے۔اس تاریخی معاہدے میں جہاں ایک طرف ٖفوج اور اس کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو عملی طور پر منتخب حکومت کے ماتحت کرنے کی سفارش کی گئی، وہیں دونوں سیاسی جماعتوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ وہ کسی فوجی حکومت میں نہ تو شامل ہوں گی اور نہ ہی حکومت میں آنے اور منتخب حکومت کے خاتمے کے لئے فوج کی حمایت طلب کریں گی۔

اگرچہ کچھ وجوہات کی بنا پر میثاق جمہوریت پر عمل درآمد ممکن نہیں ہو سکا لیکن آج بھی یہ معاہدہ ملک میں جمہوری وسول بالادستی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے مشعل راہ بن سکتا ہے۔ اپنے والد بھٹو شہید کی طرح بے نظیر سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں لیکن بھٹو ہی کی طرح ان کی غلطیاں ان کے کارناموں کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ان پر ذاتی مفادات کے حصول کے لیے مفاہمت کا الزام لگتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ملکی مفاد کے لیے مفاہمت کی سیاست کی۔بے نظیر صحیح معنوں میں ایک ویژنری لیڈر تھیں، انہوں نے ملک کی خاطر لوگوں کو متحد کرکے اپنے دشمنوں کو معاف کیا اور ملک کے مفاد کے لیے مفاہمت کا نعرہ بلند کیا۔