معاشی تحفظ کا دعویٰ : جنگ جیتنے کی باتیں
- تحریر سید مجاہد علی
- سوموار 27 / دسمبر / 2021
- 14620
وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی پہلی پانچ سالہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی کی منظوری دی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت آئیندہ ملک میں قومی سلامتی کا مفہوم تبدیل کیا جائے گا اور عوام کی سلامتی و بہبود کو یقینی بنا کر ہی قومی تحفظ کا مقصد حاصل کرنے کا کام ہوگا۔ قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے اجلاس کو نئی پالیسی کے خد و خال بتاتے ہوئے کہا کہ ’ مضبوط و مستحکم معیشت سے فوج اور ملک کے شہریوں کے لئے اضافی وسائل فراہم کئے جائیں گے‘۔ وہ یہ واضح کرنا بھول گئے کہ اس مضبوط و مستحکم معیشت کے آثار کہاں پائے جاتے ہیں۔
نعرے کی حد تک سب باتیں کی سہانی اور خوبصور ہوتی ہیں لیکن ملک کی نام نہاد پہلی سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے جو دعوے کئے جارہے ہیں ، ان میں ان مقاصد کو حاصل کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ شامل نہیں ہے۔ یہ ایک ’خواب‘ ہے جو عوام کو بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وہ حکومت کی ناکامیوں اور معیشت کی زبوں حالی پر غور کرنے کی بجائے یہ سوچیں کہ ان کی حکومت کیسے سہانے منصوبے بنارہی ہے۔ اصولی طور پر خواب دیکھنا یا دکھانا بھی کوئی جرم نہیں ہے لیکن اگر کوئی سیاسی حکومت ان خوابوں کی تکمیل کا کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے لانے میں ناکام رہے تو ایسی باتوں کو سراب سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی۔
اس حوالے سے دو باتوں کا ذکر حقیقت حال سمجھنے کے لئے مناسب ہوگا۔ ایک قومی سلامتی کو ایک نیا مفہوم دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت اسی وقت ممکن ہے جب عوام مطمئن، خوش حال اور محفوظ ہوں۔ یہ بتایا گیا ہے کہ حکومت اپنی معاشی ترجیحات تبدیل کررہی ہے۔ لیکن اس دعوے کی تائد میں دفاعی بجٹ کم کرنے، فوج کی تعداد گھٹانے یا کسی دوسری طرح عسکری سرگرمیوں کو محدود کرنے کا کوئی منصوبہ پیش نظر نہیں ہے۔ اس طرح یہ سمجھنا ممکن نہیں کہ حکومت عوام کو خوشحال اور مطمئن کرنے کے لئے وسائل کہاں سے فراہم کرے گی۔ اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ نئی اور پہلی پانچ سالہ قومی سلامتی پالیسی ابھی قومی سلامتی کمیٹی نے منظور کی ہے۔ اسے منگل کو کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ کے اسی اجلاس میں منی بجٹ اور اس سے منسلک قانون سازی کے مسودات کی منظوری بھی دی جائے گی۔ اس منی بجٹ میں جو مالی تجاویز پیش کی جائیں گی ، ان کے تحت ساڑھے تین سو ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد ہوں گے ۔ اس کے علاوہ ایک علیحدہ قانون کے ذریعے اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے کی منظوری دی جائے گی۔
یہ دونوں تجاویز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطالبہ کی روشنی میں تیار کی جائیں گی تاکہ چھے ارب ڈالر کے مالی پروگرام میں سے ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد رقم کی ادائیگی ممکن ہوسکے۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان کی معیشت اور اقتصادی سرگرمیاں بڑی حد تک آئی ایم ایف سے ملنے والی اس رقم کی محتاج ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت بہت سوچ بچار کے بعد یہ تجاویز اب پارلیمنٹ کی منظوری کے لئے پیش کرنے والی ہے۔ کئی سو ارب روپے کے اضافی ٹیکس انہی عوام سے وصول کئے جائیں گے جن کی بہبود کو نئی قومی سلامتی پالیسی میں ملکی حفاظت سے منسلک کیا گیا ہے۔ سادہ لفظوں میں نئی اعلان کردہ حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ قومی مصارف کی اولین ترجیح فوجی مصارف نہیں ہوں گے بلکہ عوام کی صورت حال کو بہتر بنانا اصل مطمح نظر ہوگا۔
گویا کابینہ کے اسی اجلاس میں سرکاری مصارف کی ترجیحات تبدیل کرنے والی حکمت عملی کی منظوری حاصل کی جائے گی جس میں عوام پر اقتصادی بوجھ بڑھانے کے لئے آئی ایم ایف کی تجویز کردہ بجٹ تجاویز بھی منظور کروانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ منی بجٹ کو منظور کرنا حکومت پاکستان کے ایک عالمی مالی ادارے کے ساتھ معاہدے کو قائم رکھنے کے لئے ضروری تصور کیا جارہا ہے ، اس لئے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں تجویز کردہ منی بجٹ کی منظوری صرف حکومت پر اعتماد کا سوال نہیں ہوگا بلکہ اس میں ریاست کے مفادات داؤ پر لگے ہوں گے۔ آئی ایم ایف کی قسط نہ ملنے کی صورت میں ملک کے معاشی مفادات زیر بار ہوں گے اور اقوام عالم میں پاکستان کو ایسے ملک کی شہرت حاصل ہوجائے گی جو آئی ایم ایف جیسے ادارے سے معاہدہ کرنے کے بعد اس کو نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لئے قیاس کیاجارہا ہے کہ کابینہ سے منظور کردہ منی بجٹ جب قومی اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش ہوگا تو نہ تو حکومتی صفوں میں موجود ناراض ارکان کسی پریشانی کا اظہار کریں گے اور نہ ہی ہر قیمت پر حکومت کو گرانے کا دعویٰ کرنے والی اپوزیشن پارٹیاں کوئی خاص مزاحمت کریں گی۔ اس طرزعمل کی وجوہ بھی بہت واضح ہیں: معاملہ جب قومی مفاد سے متعلق ہو تو تمام قومی ادارے ، ارکان قومی اسمبلی کو ان کا منصبی فریضہ یاد کروانے میں پوری سرگرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
قومی مفادات کی حفاظت کے ایسے مقدس ماحول میں نہ تو حکومت کو یہ یاد رہے گا کہ وہ نیشنل سیکورٹی پالیسی نامی ایک دستاویز بھی تیار کرچکی ہے جس کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کی از سر نو تعریف ہے اور جس کے تحت سرحدوں کے علاوہ عوام کے گھروں کو محفوظ بنانے ، لوگوں کو مالی ریلیف دینے اور عام شہریوں کو احساس تحفظ فراہم کرنے کے لئے کام کرنا ضروری ہوگا۔ تاہم پہلے مرحلے میں مزید ٹیکس عائد کرنے کا ارادہ کرکے عوام کو مزید غیر محفوظ، مہنگائی کے دلدل دھکیلنے اور معاشی عدم تحفظ کا شکار ہونے کا اہتمام کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی ہدایت پر اسٹیٹ بنک کو خود مختار قرار دینے والا قانون منظور کرکے بالواسطہ طور سے ’قومی سلامتی‘ کے بنیادی تصور کو نشانہ بھی بنایا جائے گا۔ پاکستان ایک کمزور اور مجبور ملک ہے۔ اسی لئے ایسی ریاست میں بعض طاقت ور اداروں پر ریاست کی دسترس کے ذریعے طاقت اور خود مختاری کا احساس پیدا کیاجاتا ہے۔ جب اسٹیٹ بنک جیسا ادارہ حکومت یا پارلیمنٹ کو جواب دہ ہونے کی بجائے مارکیٹ میکینزم کے تحت کام کرے گا یا عالمی اداروں کے تجویز کردہ فریم ورک کے مطابق کام کرنے کا پابند ہوگا تو ’خود مختاری‘ کایہ احساس مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوگا۔
یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کسی ملک کی فوج کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیا جائے جو مالی فائدے یا نقصان کے مطابق اس ادارے کی کاٹ چھانٹ کرنے میں خود مختار ہو۔ جس طرح پاکستان جیسے کسی ملک میں قومی فوج پر ریاست کی اجارہ داری ختم کرنے کا مقصد قومی خود مختاری پر سودے بازی ہوگا ، اسی طرح اسٹیٹ بنک کو خود مختار کرکے بھی قومی مفاد سے دست برداری کا اعلان کیا جائے گا۔ ستم ظریفی ہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا جارہا ہے جب قومی سلامتی پالیسی کے نام سے عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش بھی ہورہی ہے کہ عمران خان کی قیادت میں حکومت ’عوام سب سے پہلے‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے حتی ٰ کہ قومی سلامتی کو بھی عوامی مفاد سے مشروط کردیا گیا ہے۔
تصویر کو اس تناظر میں دیکھ کر یہ واضح ہوجاتا ہے کہ نئی قومی سلامتی پالیسی سے مملکت پاکستان کے طرز عمل میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان پیدا نہیں ہوگا بلکہ مسائل سے پریشان ، دیوار سے لگی حکومت الفاظ اور استطلاحات کے گورکھ دھندے سے عوام کو ایک نیا سیاسی دھوکہ دینے کی اپنی سی کوشش کررہی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو منی بجٹ کے ساتھ ہی نام نہاد قومی سلامتی پالیسی اور مالی ترجیحات تبدیل کرنے کے بلند بانگ دعوے، دراصل منی بجٹ پر سامنے آنے والے تحفظات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی ناراضی سے حکومت کو ’محفوظ‘ رکھنے کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں۔ منی بجٹ کے بعد قومی سطح پر جب مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور ہر اوسط گھر کا بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گا تو عمران خان کے ہونہار وزیر و مشیر پہلی قومی سلامتی پالیسی پیش کرنے اور عوام کی سہولت کو ترجیح بنانے پر عمران خان کے قصیدے پڑھ کر اس مشکل بحران سے نکلنے کی اپنی سی کوشش کریں گے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نئی نیشنل سیکورٹی پالیسی کی منظور ی کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے جو باتیں کیں وہ بھی اس پالیسی کے مقاصد سے براہ راست متصادم ہیں۔ ایک ایسی دستاویز، حکمت عملی یا قومی پالیسی کا اعلان کرنا جس میں عوام کی بہبود اولین ترجیح ہوگی اور ساتھ ہی یہ قرار دینا کہ ’پاکستان کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے‘ دراصل یہی واضح کرتا ہے کہ عوام اگرچہ ہماری ترجیح ہیں لیکن ہم اپنا راستہ تبدیل نہیں کریں گے۔ ہمارا اولین ہدف دشمن کو للکارنا اور کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں اسے پچھاڑنا ہے۔ یا کم از کم عوام کو کسی ایسی ممکنہ جیت کی بتی کے پیچھے لگانا ہی حکومت کی حقیقی حکمت عملی ہے۔ باقی لوازمات محض بیان بازی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے فراہم کئے جاتے ہیں۔
اس دعوے کے بعد کہ پاکستان ہمہ قسم جنگ لڑنے اور جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے، آخر عوام کی بہبود و تحفظ کا تصور خالی لفاظی اور ذہنی مشقت کے علاوہ کیا معنی رکھتا ہے؟