رانا شمیم و دیگر فریقین پر 7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

  • منگل 28 / دسمبر / 2021
  • 3810

اسلام آباد ہائیکورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج اور دیگر کے خلاف توہین عدالت کیس میں  7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آئی ایچ سی نے سابق جج کو گزشتہ تین سماعتوں میں اپنا اصل حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر رانا شمیم، پبلشر اور جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، سینئر صحافی انصارعباسی اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر عامر غوری حلف نامہ ظاہر کرنے میں ناکام رہے تو ان کے خلاف جرم عائد ہوگا۔

آج سماعت کے دوران رانا شمیم نے عدالت کی ہدایت پر اپنا اصل حلف نامہ کھولا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے رانا شمیم سے استفسار کیا کہ یہ دستاویز سابق جج کا حلف نامہ ہے اور کیا انہوں نے خود اس پر مہر لگائی ہے جس پر رانا شمیم نے اثبات میں جواب دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حلف نامے کی کاپیاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ رانا شمیم کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں صحافی انصار عباسی پر سارا الزام عائد کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیےکہ جن ججوں کا ذکرحلف نامہ میں ہے وہ اس وقت چھٹی پر تھے۔ بنچ کے دو ججوں پر شک کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔  چیف جسٹس نے رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی سے استفسار کیا کہ عدالت کو صورتحال کو دیکھتے ہوئے الزامات طے کرنے کے لیے آگے کیوں نہیں جانا چاہیے۔

لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ وہ الزامات کے تعین پر بحث کے لیے تیار نہیں تھے لیکن رانا شمیم نے تسلیم کیا ہے کہ حلف نامہ ان کا ہے۔ کیس میں معاون کار پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ نے کہا کہ حلف نامے میں نامزد افراد اپنے جوابات جمع کرائیں تاکہ کارروائی آگے بڑھ سکے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ پی بی سی کو اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کا سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میاں ثاقب نثار کے ساتھ جا کر کریں جو آپ کرنا چاہتے ہو۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ آئی ایچ سی کے ججوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کی وجہ سے کارروائی شروع ہوئی تھی، یہ سوچ پیدا کی گئی جسے ہر کوئی سچ ماننے لگا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں متعلقہ دستاویز بہت اہم ہے۔ وکیل لطیف آفریدی نے رانا شمیم کا حوالہ دے کر کہا کہ حلف نامہ ایک ’نجی دستاویز‘ ہے اور یہ ان کی اہلیہ کی درخواست پر لکھا گیا ہے۔ رانا شمیم ​​نے اپنا بیان حلفی پریس کو لیک نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو دیا۔ انہوں نے انصار عباسی سے یہ بھی پوچھا کہ انہیں یہ کہاں سے ملا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اب تک رانا شمیم ​​کو بھی معلوم ہو گیا ہو گا کہ یہ معاملہ کتنا حساس ہے۔ لطیف آفریدی نے جواب دیا کہ فردوس عاشق اعوان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمات چلائے گئے، ان کیسز میں کیا ہوا؟ ایسے کیسز شروع ہوتے ہیں اور عدالت کو رحم کرنا پڑتا ہے۔

وکیل نے مزید کہا کہ انصار عباسی نے اپنا ذریعہ بتانے سے انکار کر دیا ہے۔ ’انصار عباسی کو بطور صحافی کچھ مراعات حاصل ہیں‘۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک مرتبہ پھر استفسار کیا کہ رانا شمیم نے اپنی رازداری کی خلاف ورزی پر کوئی کارروائی کی؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ توہین عدالت کیس کی وجہ سے کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

اس کے بعد چیف جسٹس نے لطیف آفریدی سے استفسار کیا کہ وہ بتائیں کہ حلف نامے کے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ نہیں جانتے اور نہ ہی یہ ان کا کام ہے۔ لطیف آفریدی نے کہا کہ رانا شمیم کو حلف نامہ کے نتائج کے بارے میں نہیں معلوم تھا کہ جب یہ لکھا گیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک مرتبہ پھر استفسار کیا کہ حلف نامے سے فائدہ اٹھانے والے کون تھے جس پر لطیف آفریدی نے پھر جواب دیا کہ وہ جانتے ہیں اور عدالت سے درخواست کی کہ اس معاملے پر وقت ضائع نہ کیا جائے کیونکہ دیگر مقدمات زیر التوا ہیں۔

دوسری جانب دوران سماعت صحافی انصار عباسی نے بتایا کہ رپورٹ شائع ہونے سے ایک روز قبل ان کی رانا شمیم سے بات ہوئی تھی۔ رانا شمیم نے مجھے بھی (میسج) کیا کہ میں نے جو پڑھا وہ درست ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ اگر کوئی اس عدالت میں ہائی پروفائل کیس پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے تو کیا آپ وہ حلف نامہ شائع کریں گے؟ دی نیوز کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر عامر غوری نے جواب دیا کہ ہمیں مفاد عامہ کو دیکھنا ہے، یہ دیکھنا ہمارا کام نہیں کہ دستاویز درست ہے یا نہیں۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے رانا شمیم اور دیگر پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ رانا شمیم بیان حلفی لکھنے والے ہیں ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ رانا شمیم اس کیس میں توہین عدالت کے مرتکب ہوئے، پچھلے تین دن سے ایک چیز آ رہی ہے کہ بیان حلفی کسی کے آفس میں ریکارڈ کرایا گیا لیکن حیرت انگیز طور پر اس بات کی کوئی تردید نہیں آئی۔

لطیف آفریدی نے کہا کہ ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی تردید کی جا چکی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ حلف نامہ جن سے متعلق ہے ان کی جانب سے کوئی تردید نہیں کی گئی، رانا شمیم مان لیں وہ استعمال ہوئے اور معافی مانگیں۔ اگر رانا شمیم ایسا کریں تو میں بھی کہوں گا کارروائی نہ کریں۔ بصورت دیگر جلد فرد جرم کی تاریخ مقرر کی جائے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم اور دیگر فریقین پر7 جنوری کو فرد جرم عائد کرنےکی تاریخ مقرر کردی۔

عدالت آمد کے موقع پر گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم نے بتایا کہ بیان حلفی ریکارڈ کرایا تو اس وقت اکیلا تھا۔ صحافیوں نےسوال کیا کہ ’کہا جا رہا ہے کہ آپ نے میاں نواز شریف کے ساتھ بیٹھ کر بیان حلفی بنایا، کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے؟  انہوں نے کہا کہ ’یہ بات تو آپ انہی سے پوچھیں جو ایسا کہہ رہے ہیں‘۔

صحافی نے سوال کیا کہ آپ نے اکیلے یہ حلف نامہ دیا تھا؟ رانا شمیم نے اثبات میں کہا کہ ’بالکل‘۔ خیال رہے کہ چند روز قبل ایک  انگریزی اخبار نے رپورٹ کیا تھا کہ رانا شمیم نے بیان حلفی پر نواز شریف نے دفتر میں ان کی موجودگی میں دستخط کیے تھے۔