پنجاب میں قران کی تعلیم کے لئے 70ہزار اساتذہ بھرتی ہوں گے
- منگل 28 / دسمبر / 2021
- 5330
وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے بھر کے اسکولوں میں قرآن کریم کی لازمی تعلیم کے لیے عربی کے 70 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے کابینہ کے سامنے عربی کے مضمون کے لیے 70 ہزار اساتذہ کی بھرتی کا منصوبہ رکھا تھا۔ سیکریٹری ایس ای ڈی غلام فرید کا کہنا تھا کہ اسکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے عربی اساتذہ کی تربیت کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گریڈ ایک سے 5 تک نئی اسامیاں تیار کی جارہی ہیں۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے اسکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے جب اس ضمن میں حکومت پنجاب سے رپورٹ طلب کی تو محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ پہلے مرحلے میں 7 ہزار اساتذہ کی تربیت کی جارہی ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ صوبے میں عربی کے 60 ہزار اساتذہ کی ضرورت ہے۔ بینچ نے درخواست کی سماعت 3 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کو عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ پیر کابینہ نے 70 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دی تھی۔
بنچ نے گزشتہ سماعت میں پنجاب کے سیشن ججز کو ہدایت کی تھی وہ اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی کریں کہ آیا محکمہ تعلیم کے دعوے کے تحت قرآن کریم کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے یا نہیں۔ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ ضلعی تعلیمی اتھارٹیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران نے ہر اسکول کا دورہ کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہاں قرآن کریم کو علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز یا ان کا نمائندہ نہ صرف اس بات کا جائزہ لے گا کہ قرآن کریم کو ایک علیحدہ مضمون کے طور پر پڑھایا جارہا ہے بلکہ وہ محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کیے جانے والے حقائق کی بھی تصدیق کرے ۔