کابل میں طالبان کے خلاف احتجاج

  • بدھ 29 / دسمبر / 2021
  • 3730

افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین مختلف مواقع پر احتجاج کر رہی ہیں۔ منگل کو ایک ایسا ہی مظاہرہ دارالحکومت کابل میں کیا گیا جہاں مسلح طالبان نے ہوائی فائرنگ کی۔

کابل میں ہونے والے اس احتجاج میں لگ بھگ 30 خواتین شریک تھیں۔ مظاہرین نے طالبان پر خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور سابق فوجیوں کی ہلاکت کے الزامات عائد کیے۔ طالبان کی جانب سے ایسے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ویڈیوز میں خواتین کو پلے کارڈ اٹھائے دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین طالبان سے انصاف کے حصول اور سابق فوجیوں کی ہلاکت روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے طالبان کے ہاتھوں سابق فوجیوں کی ہلاکتوں کی خبریں آئے روز موصول ہو رہی ہیں جسے فوری روکنے کی ضرورت ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا تھا اور وہ اب تک اس اعلان پر قائم ہیں۔ کابل میں مقیم خاتون اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی سودابہ کبیری کہتی ہیں کہ طالبان اقتدار میں آنے کے بعد خواتین سے متعلق پے درپے حکم نامے جاری کر رہے ہیں۔

ان کے بقول ان حکم ناموں کا مقصد خواتین کا تشخص اور آزادی سلب کرنا ہے۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے سودابہ کبیری نے بتایا کہ منگل کو ہونے والا احتجاج اسی مہم کا ایک حصہ تھا۔ احتجاج میں صوبۂ پنجشیر میں لوگوں کی ہلاکتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں سے طالبان کی بدسلوکی کے خلاف آواز بلند کی گئی۔

خیال رہے کہ اگست میں افغانستان پر قبضے کے بعد سے طالبان نے خواتین کے لیے مختلف ضابطے وضع کیے ہیں جس کے تحت مخلوط تعلیم پر پابندی، سفر کے دوران موسیقی سننے سے گریز، ٹیلی وژن اسکرین پر حجاب کا استعمال اور ستر کلومیٹر سے زائد سفر کے لیے محرم کا ساتھ ضروری قرار دیا گیا ہے۔