اپوزیشن نے نادرا میں تعینات فوجی افسروں کی تفصیلات مانگ لیں
- بدھ 29 / دسمبر / 2021
- 3990
سینیٹ کے اجلاس کے دوران نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) میں ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی بھرتی کے معاملے پر بحث دیکھنے میں آئی اور حزب اختلاف نے اس ضمن میں تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت ہوا جس میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ میں نے سوال کیا تھا کہ مسلح افواج کے کتنے ریٹارڈ افسران کو نادرا میں تعینات کیا گیا ہے؟ انہیں نادرا میں مسلح افواج کے ریٹائرڈ افسران کو بھرتی کرنے سے متعلق نامکمل جواب دیا گیا ہے جبکہ ان کا سوال ان افسران کی تعداد سے متعلق تھا۔
انہوں نے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق مسلح افواج کے بہت سے ریٹائرڈ افسران کو نادرا میں دوبارہ بھرتی کیا گیا ہے۔ حالانکہ بڑی تعداد میں نوجوان نوکریوں کے لیے پھر رہے ہیں ۔ ریٹائرڈ اہلکاروں کو مراعات کے ساتھ دوبارہ نوکریوں پر رکھنا نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔
انہوں نے اپنا سوال دہراتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ نادرا میں کتنے ریٹائرڈ فوجی افسران بھرتی کیے گئے ہیں اور وہ کن عہدوں پر ہیں۔
جماعت اسلامی کے سینیٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ڈیپوٹیشن پر 6 فوجی افسران کو نادرا میں بھرتی کیا گیا ہے اور وہ ریٹائرڈ فوجی افسران نہیں ہیں۔ سینیٹر مشتاق ایک نیا سوال جمع کروا دیں کیونکہ موجودہ سوال ڈیپوٹیشن پر آئے افراد کے حوالے سے تھا۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس حوالے سے دریافت کیا کہ بتایا جائے کہ بھرتی کیے گئے ریٹائرڈ افسران کی تفصیلات، بھرتی کی تاریخ، ان کی ذمہ داریاں اور یہ کہ آیا ان کے پاس نوکری کے حوالے سے کیا اضافی قابلیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’تقریباً 2 ماہ قبل میں نے اخبار میں پڑھا کہ ایک دن میں 2 درجن کے قریب ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر بھرتی کیے گئے جو کہ سب ریٹائرڈ فوجی افسران تھے‘۔
وزیر مملکت علی محمد خان نے اسے ’بہت اچھا سوال‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا تفصیل سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں کہا کہ ’کسی کو خصوصی مراعات نہیں دی جارہیں، ان افراد کو نوکری کے معیار کے مطابق بھرتی کیا گیا ہے‘۔
سینیٹ کے اجلاس میں حزب اختلاف کی جانب سے قومی سلامتی پالیسی کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنے پر سخت احتجاج کیا گیا اور نعرے بازی ہوئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ قومی سلامتی سے جڑے معاملات ’زندگی اور موت‘ کا مسئلہ ہیں۔ انہوں نے اس پالیسی میں معیشت کو مرکزی حیثیت دینے پر تعریف کرتے ہوئے اسے پیش کرنے کے طریقے پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ امید کی جارہی تھی کہ اس پالیسی کو سینیٹ کے سامنے لایا جائے گا جو کہ قانون سازی اور پالیسی سازی کا اعلیٰ ترین فورم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کونسی قومی سلامتی پالیسی ہے جس میں پارلیمان کا کوئی کردار نہیں ہے‘۔ یہ کونسی قومی سلامتی ہے جو اُس معیشت پر مرکوز ہے جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) چلائے گا۔
اس دوران شیری رحمٰن اور محسن عزیز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور شیری رحمٰن نے چیئرمین سینیٹ سے ہاؤس کو کنٹرول کرنے کو کہا۔