تھر میں پہاڑ کی کٹائی روکنے کا حکم
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- جمعرات 30 / دسمبر / 2021
- 5000
تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر کی ایک عدالت نے کارونجھر پہاڑی سلسلے میں کٹائی کو عوام کے لیے پریشانی کا سبب قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر روکنے کا حکم دیا ہے۔
پہاڑ کی کٹائی فوج کے انجینئرنگ کے شعبے فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور ایک نجی کمپنی کی جانب سے کی جا رہی تھی۔ ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق کٹائی کا عمل سندھ کے مائنز اینڈ منرل ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے ایف ڈبلیو او کو دی گئی ایک لیز کے تحت کیا جا رہا تھا۔
اس حوالے سے کسی بھی باقاعدہ معاہدے کو اب تک منظر عام پر لانے سے اجتناب کیا گیا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر ضلع تھرپارکر کی تحصیل نگرپارکر میں تقریبا 30 مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمل علاقے کے لیے بالخصوص اور ملک کے بالعموم خطرے کا باعث ہے۔ عدالت کو معلوم ہوا ہے اس طرح کی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اس کے پیچھے کچھ طاقتور لوگ ہیں تاکہ لوگوں کو اس حوالے سے کوئی قانونی اقدام لینے سے باز رکھا جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ اس بارے میں ریجنل مینیجر ایف ڈبلیو او اور کوہ نور ماربل انڈسٹریز نامی کمپنی نے دھونس اور جبر و استبداد کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سے اپنے جیب بھرنے کی کوشش کی ہے۔ جب کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ان کا ریاست کے کسی ادارے سے قریبی تعلق ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایف ڈبلیو او اور کمپنی اس حوالے سے لیز ایگریمنٹ، سروے رپورٹ، حدود یا اس قسم کی دستاویزات بھی دکھانے کو تیار نہیں۔ نہ ہی اس سلسلے میں کسی ادارے یا محکمے کا کوئی اجازت نامہ دکھایا جاتا ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ کارونجھر پہاڑ صرف پہاڑ ہی نہیں بلکہ یہ سلسلہ علاقے میں سبزہ پیدا کرنے کا باعث ہے جس سے ادویات کی تیاری کے ساتھ مال مویشی بھی چرتے ہیں۔ جب کہ اس کے ساتھ یہ سلسلہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کا بھی فطری ذریعہ ہے۔
عدالت کے مطابق اسی طرح یہ پہاڑی سلسلہ مقامی لوگوں کے لیے کسی حد تک پانی کی فراہمی کا بھی ذریعہ ہے۔ اگر کارونجھر پہاڑوں کی غیر قانونی کٹنگ جاری رہی تو علاقے کے لوگوں کا زندہ رہنے کے لیے اس اہم ذریعے سے بھی محروم ہونے کا اندیشہ ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس پہاڑی سلسلہ میں ہندو مت کے کئی مندر ہونے کے ساتھ کئی ثقافتی اور تاریخی ورثے بھی ہیں۔
حکم میں کہا گیا ہے کہ یہ پہاڑی سلسلہ پاکستان اور بھارت کے بارڈر پر واقع ہونے کی وجہ سے دفاعی دیوار کا درجہ رکھتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی اثاثے کی غیر قانونی کٹائی کا یہ عمل گزشتہ کئی برس سے جاری ہے جو آئین اور مروجہ طریقۂ کار کو بالکل نظر انداز کر کے کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے مارگلہ ہلز اسلام آباد میں کٹائی روکنے سمیت دیگر فیصلوں کا بھی حوالہ دیا۔
مقامی آبادی کئی برس سے کارونجھر پہاڑوں کی کٹائی کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہے اور اس کے لیے تھرپارکر کے علاوہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے۔ البتہ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے باوجود بھی کام تیزی سے جاری ہے۔
مقامی سماجی کارکن پردیپ گلاب نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کارونجھر پہاڑوں کی کٹائی سے علاقے کا ماحولیاتی نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اس کے کچھ اثرات نظر بھی آنا شروع ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بہت جلد یہاں کا فطری ماحول تباہ اور اس میں رہنے والی نایاب جنگلی حیات ختم ہو سکتی ہیں۔