وصول شدہ رقم کرنسی نوٹ میں نہیں تھی جو گن کر دکھاتے: چیئرمین نیب
- جمعرات 30 / دسمبر / 2021
- 4820
قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ادارے نے بدعنوان عناصر سے جو 541 ارب روپے وصول کیے وہ کرنسی نوٹ میں نہیں تھے جو گن کر دکھائے جاتے۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب نے کہا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران نیب میں 200 انضباطی کارروائیاں کیں جن میں سے کچھ کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا ہے جبکہ کچھ پر کام کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگوں نے چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے کی کوشش کی کہ نیب ریکوری کے 541 ارب روپے کہاں گئے۔ یہ رقم کرنسی نوٹ میں نہیں تھے جو گن کر دکھاتے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سال میں نیب نے تاریخ کی سب سے بڑی ریکوریاں کی ہیں۔ نیب نے پہلی بار ان لوگوں کے خلاف مقدمات درج کیے جن کی جانب ماضی میں کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ چیئرمین نیب نے بالواسطہ اور بلاواسطہ ریکوری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نے 14 ارب روپے ادا کیے۔ یہ رقم کسی تجوری میں بند نہیں ہوئی بلکہ وہ ان مستحقین کے تھے جن کے کیس نیب کے پاس تھے۔ یہ 14 ارب متاثرین میں تقسیم ہوئے اور اس عمل میں ایک، ایک پیسے کا حساب رکھا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا کیس مضاربہ کا ہے جس میں عدالتی تاریخ میں 10 ارب روپے کا جرمانہ ہوا اور یہ نیب کی کارکردگی کی وجہ سے ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ نیب کے مقدمات میں سزائیں نہیں ہوتیں جبکہ گزشتہ 4 سالوں میں ایک ہزار 194 افراد کو سزائیں ہوئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ نیب جو ریکوری کرے وہ حکومت کے خزانے میں جمع کروائے۔ انہوں نے کہا کہ بے شک نیب پر تنقید کی جائے لیکن تنقید شواہد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ صرف برائیوں کی بات ہو، اچھائیوں کی جانب بھی دیکھنا چاہیے اور اگر آپ نیب کی اچھائیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں تو متاثرین سے ضرور ملیں جن کی زندگی کچھ سوسائیٹیوں کی ظالمانہ کارکردگی کی وجہ سے برباد ہوچکی تھی۔ نیب کی کارکردگی کی وجہ سے کئی ہزار افراد کو ان کی رقم واپس مل گئی۔
انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ نیب چاہتا ہے کہ اس پر تنقید نہ ہو، تنقید بالکل ہو لیکن اسے تعمیری ہونا چاہیے۔ جس موضوع پر تنقید ہو اس کے بارے میں مکمل علم ہونا چاہیے۔ قانونی نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھے بغیر نیب پر تنقید کرنا درست نہیں۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب نے سندھ میں گندم کھانے والے چوہوں کو بھی پکڑ کر رقم وصول کی ہے۔سکھر میں 20 ارب کے گندم کے ذخائر اِدھر اُدھر ہوگئے تھے، پوچھنے پر کہا گیا چوہوں نے کھائے۔ پھر ان چوہوں کو نیب نے پکڑا تو ان سے 20 ارب روپے کی ریکوری ہوئی۔ ہم نے وہ 20 ارب روپے سندھ حکومت کو دے دیے۔