ڈیل کی سیاست اور جمہوری تماشے
- تحریر سلمان عابد
- جمعرات 30 / دسمبر / 2021
- 4400
پاکستان کی مجموعی سیاست اور جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ و ہ ہمیشہ سے پس پردہ قوتوں کے کھیل اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی مختلف نوعیت کی سیاسی ڈیل میں الجھی رہتی ہے۔طاقت کے مراکز اور سیاسی فریقین کے درمیان سیاسی ڈیل کی آنکھ مچولی کا کھیل بھی سیاسی منظرنامہ پر ہمیشہ سے غالب رہا ہے۔
فرق اتنا ضرورپڑتا ہے کہ کھیل کے سیاسی فریقین تبدیل ہوجاتے ہیں مگر کھیل کا رنگ وہی رہتا ہے جو ہمیشہ سے ہماری نام نہاد جمہوری سیاست کا خاصہ رہا ہے۔آج کل بھی پاکستانی سیاسی منظرنامہ میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی او ران کی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ڈیل کی خبریں گردش کررہی ہیں۔سیاسی پنڈتوں کے بقول طاقت کے مراکز نے پہلے سے موجود کھلاڑی کے مقابلے میں نئے کھلاڑی کی تلاش شروع کردی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس خدشہ کا اظہا رکیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے واپسی کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔
نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ ن او ران کے حامی صحافتی افراد کا قبیلہ پوری طاقت کے ساتھ میڈیا میں اس بیانیہ کو طاقت دے رہا ہے کہ معاملات کافی حد تک طے ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول اسٹیبلیشمنٹ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے او راس بحران سے نکلنے کے لیے ان کے پاس نواز شریف یا حزب اختلاف کے ساتھ مفاہمت یا ڈیل کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ مسلم لیگ ن کا بیانیہ تو یہ ہے کہ ہمیں نہیں بلکہ عملی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کو ڈیل کی ضرورت ہے اور وہی نواز شریف سے منتیں کررہی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس آصف علی زرداری نے بھی یہ ہی اشارہ دیا ہے کہ ہم نے پس پردہ رابطوں کے جواب میں صاف کہا ہے کہ پہلے جن کو لائے تھے ان کو نکالیں پھر ہم بات چیت کریں گے اور متبادل سیاسی نظام بھی پیش کریں گے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مفاہمت یا سیاسی ڈیل کا طوفان میڈیا او ربالخصوص ہمیں سوشل میڈیا پر زیادہ غالب نظر آتا ہے۔ڈیل کی خبریں دینے والوں میں بھی زیادہ تر وہ صحافی نمایاں ہیں جو حزب اختلاف یا مسلم لیگ ن کی حمایت میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔یہ افراد بڑی خوشی سے ڈیل کے مختلف نکات کو سامنے لاکر مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کی تصویر کو نمایاں طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ان کے بقول عمران خان کے مقابلے میں حزب اختلاف میں سے کسی کو اقتدار میں لانا پس پردہ قوتوں کے لیے ناگزیر ہوگیا ہے او راسی تبدیلی سے ریاستی بحران سے نمٹا جاسکتا ہے۔ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کچھ صحافی مسلم لیگ ن اور کچھ پیپلزپارٹی کے ساتھ معاملات طے ہونے کا پیغام دے رہے ہیں۔
ایک سوا ل جو اہمیت کا حامل ہے کہ کیا واقعی سابق وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں۔ اس پر بہت سے مسلم لیگی قیادت کافی پرجوش ہے او ران کے بقول جنوری میں ان کی سیاسی واپسی ممکن ہے۔ اس واپسی کو بھی عملی طور پر اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ پس پردہ مفاہمت کی بنیاد پر پیش کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ پہلو کافی تضاد کا شکار بھی ہے۔کیونکہ مسلم لیگی قیادت ان کی واپسی اور واپسی نہ ہونے پر دوعملی کا شکار ہے۔ سابق اسپیکر سردار آیاز صادق، رانا ثنااللہ، احسن اقبال، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، مریم نواز، مریم اورنگزیب کے بیانات کو دیکھیں تو لگتا ہے اس مسئلہ پر خود ان کے اندر کچھڑی پک رہی ہے۔ کیونکہ نواز شریف کی واپسی پر ہر کسی کا بیان ایک دوسرے سے مختلف بھی ہے اور تضاد پر مبنی ہے۔ مسلم لیگ ن میں کچھ لوگ ان کی واپسی کی تاریخیں اور کچھ لوگوں کے بقول ان کی واپسی موجودہ حالات میں ممکن نظر نہیں آتی۔یہ بات بھی وزنی لگتی ہے کہ اگر واقعی نواز شریف نے واپس آنا ہے تو ان کی واپسی کسی مفاہمت کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ وہ کسی مفاہمت کے بغیر واپسی کے حامی نہیں۔اہم بات یہ ہے کہ سیاسی محاذ پر جو بھی ڈیل یا اسٹیبلیشمنٹ سے رابطوں کی بات کررہا ہے وہ ان افراد کے نام بتانے کے لیے تیار نہیں۔مگر اس کھیل کو میڈیا میں ایک بڑی مہم جوئی کے طور پر پیش کرکے سیاسی ماحول میں یقینی طور پر ایک بڑے سیاسی تناؤ کی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔ہمارے ایک صحافی دوست نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ نواز شریف کی آمد جنوری میں ہوگی اور اس واپسی پر وہ پہلے جیل جائیں گے او راس کے بعد ان کو قانونی ریلیف اور ان کی سابقہ سزاوں کے بارے میں اپیلیں ہونگی او ر لاہور ڈی جی نیب کی تبدیلی بھی اسی کھیل کا حصہ ہے۔
اصولی طور پر تو ڈیل کی سیاست میں جتنا نام یا الزام اسٹیبلیشمنٹ پر لگ رہا ہے تو ان کو ہی اس کی وضاحت بھی پیش کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو یقینی طور پر لوگ اسٹیبلیشمنٹ پر تنقید بھی کریں گے او راپنا اپنا نتیجہ بھی نکالیں گے۔لیکن لگتا ایسا ہے کہ ڈیل کی خبروں سے چائے کی پیالی میں جو طوفان ہے اس کی شدت یہ نہیں جو ہمیں دکھائی جارہی ہے۔کچھ معاملات میں تو ہمیں سیاسی تجزیہ سے زیادہ سیاسی خواہشات کا نظر آتا ہے او ریہ سمجھنا کہ اسٹیبلیشمنٹ بڑے بحران کا شکار ہوکر سیاسی فریقین کی بڑی منتیں کررہی ہیں بھی خوش فہمی ہے۔لیکن اگراس ڈیل کی سیاست کی خبریں درست ہیں تو پہلی تنقید تو یقینی طور پر ان ہی پس پردہ طبقہ پر ہونی چاہیے جو سیاسی آنکھ مچولی کے کھیل چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔جہاں تک کچھ سیاسی فریقین سے رابطوں کا کھیل ہے تو وہ ہماری سیاست کا پرانا انداز ہے جو آج بھی کسی نہ کسی سطح پر جاری ہوگا۔مگر فی الحال ایسے کوئی اشارے نہیں مل رہے کہ سب معاملات طے ہوچکے ہیں او رجو کچھ پیش کیا جارہا ہے کہ 2023کے انتخابات کے تناظر میں سب کچھ طے ہوگیا ہے درست نہیں۔
لیکن اگر کچھ دیر کے لیے اس نقطہ پر اتفاق بھی کرلیا جائے کہ اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ کسی بھی حزب اختلاف کی جماعت یا فرد کے ساتھ سیاسی معاملات مستقبل کے تناظر میں طے ہوچکے ہیں تو پھر جمہوریت اور سیاست سمیت ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ، اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت یا ان سے کسی بھی سطح پر بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ، پارلیمان کی بالادستی، سول حکمرانی جیسے نعروں کا کھیل کیا تھا۔ کیا یہ سب نعرے جذباتی، خوش نما یا سیاسی ہتھیار نہیں تھے۔ کیا ان نعروں کو بنیاد بنا کر اصل مسئلہ اسٹیبلیشمنٹ سے سیاسی رسائی یا معاملات کو طے کرنا ہی مقصود تھا۔مسئلہ جمہوری مقدمہ نہیں تھا بلکہ خود کو عمران خان کے مقابلے میں اسٹیبلیشمنٹ میں متبادل کے طور پر پیش کرنا ہی حزب اختلاف کی تحریک کا حصہ تھا۔سیاسی قیادتوں کو چھوڑیں جو صحافی حضرات ان دونوں بڑی جماعتوں کی جدوجہد کو جمہوری جدوجہد یا نواز شریف کو نیلسن منڈیلا کے طور پر پیش کرتے ہوئے پی ڈی ایم کی تحریک کو حقیقی جمہوری تحریک کہتے تھے، کیا وہ بھی اپنی اداوں پر غور کریں گے۔
بظاہر یہ ہی لگتا ہے کہ حکومت ہو یا حزب اختلاف کی جماعتیں سب ہی عوام،جمہوریت اور جدوجہد کے مقابلے میں اسٹیبلیشمنٹ کی قربت کو ہی اپنی بڑی سیاسی طاقت کے طور دیکھتے ہیں او ران ہی سے کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر مفاہمت چاہتے ہیں۔یہاں حزب اختلاف کا شفاف انتخابات کا مطالبہ بھی عملی طور پر اپنے لیے سیاسی راستہ کی تلاش میں مفاہمت کا کھیل ہے۔سب سیاسی فریقین کو اندازہ ہے کہ ملک میں 2023کے انتخابات میں ہمیں اپنے لیے عملی طور پر اقتدار کی سیاست کا راستہ نکالنا ہے۔ اس لیے اس وقت سیاسی میدان میں جو بھی تاش کے پتے سجائے جارہے ہیں اس کے پیچھے اہم وجہ نئے انتخابات میں اقتدار کے کھیل کو اپنے حق میں کرنا ہے۔