منی بجٹ: عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی گھنٹی بج چکی
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 30 / دسمبر / 2021
- 11510
متعدد بار التواکے بعد بالآخر حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لئے ’ مالیاتی ضمنی بجٹ ‘ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ عرف عام میں ’منی بجٹ‘ کے نام سے جانے والے 360 ارب روپے کے اس اضافی بجٹ میں اتنی ہی مالیت کے ٹیکس عائد کئے جائیں گے۔ اس کے باوجود وزیر خزانہ شوکت ترین کو یقین ہے کہ اس مالی اقدام سے ملک کے غریبوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی بلکہ صرف ایسے صاحب حیثیت لوگ ہی متاثر ہوں گے جو درآمد شدہ اشیا خریدنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کوئی بھی حکومت جب ضمنی بجٹ پیش کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے تو یہ اس حقیقت کا اظہار ہوتا ہے کہ حکومتی ماہرین، سیاسی قیادت اور محکمے ملکی مالی حالت، آمدنی و اخراجات کا درست تجزیہ کرنے اور مالی سال کے دوران رونما ہونے والی مالی حقیقتوں کا ادراک کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس حد تک یہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی ناکامی اور نااہلی ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے اس سال جون میں قومی بجٹ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پیشرو حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس میں مناسب تبدیلی کروالی جائے گی اور حکومت عوام پر محاصل کا مزید بوجھ نہیں ڈالے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قومی پیداوار کی شرح میں اضافہ سے ملک کی مالی ضروریات پیدا کرنے کی گنجائش پیدا کرلی گئی ہے۔ تاہم اسمبلی یا سینیٹ کی رکنیت کے بغیر وزیر خزانہ کے طور پر چھے ماہ کی مدت پوری کرنے کے بعد انہوں نے چند ماہ مشیر خزانہ کے طور پر کام کیا اور اب خیبر پختون خوا سے سینیٹر منتخب ہوکر ایک بار پھر وزیر خزانہ کے عہدے پر متمکن ہوچکے ہیں۔
قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے سے پہلے اور بعد میں شوکت ترین نے بڑے وثوق یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس کا ملک کے غریب عوام پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا کیوں کہ حکومت نے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا اور جن اشیائے صرف پر محاصل عائد ہوئے ہیں یا ان میں اضافہ کیا گیا ہے، وہ درآمدی اشیا ہیں۔ ملک کا خوشحال طبقہ اس مالی بوجھ کو آسانی سے برداشت کرسکتا ہے۔ اس حجت کے تحت وزیر خزانہ یہ کہنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ حکومت نے متعدد درآمدی اشیا پر ٹیکس کی چھوٹ واپس لی ہے۔ گویا ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک رعایت دے رہی تھی جس کا فائدہ صرف امیروں کو ہوتا تھا لیکن اب وہ چھوٹ واپس لے کر مالی وسائل میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس شے کو شوکت ترین چھوٹ قرار دے رہے ہیں ، اس کے تحت درحقیقت سینکڑوں اشیا پر یا تو نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے یا اس میں اضافہ ہؤا ہے۔ حکومت ان اشیا کی قیمت میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں دے رہی تھی۔ اس لئے چھوٹ واپس لینے کو تکیہ کلام بنانا دراصل عوام کو الفاظ کے گورکھ دھندے میں الجھانے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ بنیادی اشیائے ضروریہ پر ٹیکس لگانا کسی حکومت پر لازم نہیں ہے اور اگر وہ یہ ٹیکس نہیں لگاتی تو اسے کسی قسم کی رعایت قرار نہیں دیاجاسکتا بلکہ اسے کسی ملک کی معاشی صورت حال، عوام کی مالی حیثیت اور مہنگائی پر کنٹرول رکھنے کے میکنزم کے طور پر پرکھا جائے گا۔
شوکت ترین اپنی پریس کانفرنسوں میں غریبوں کی ہمدردی کے دعوے کرتے ہوئے عمران خان کو پاکستانی عوام کا مسیحا ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ستر سال بعد عوام کو عمران خان کی صورت میں ایک ایسا لیڈر میسر آیا ہے جو مدینہ ریاست کے ماڈل پر یقین رکھتا ہے اور اس کے تحت عوام کی خوشحالی کے لئے کام کررہا ہے۔ شوکت ترین وزارت ملنے، سینیٹر منتخب ہونے اور نیب کے مقدموں سے گلو خلاصی پر عمران خان کا ضرور شکریہ ضرور ادا کریں لیکن اس مقصد کے لئے انہیں عوام کو ڈھال بنانے، ان کے جذبات سے کھیلنے اور غریبوں کا ہمدرد بننے کی ناجائز کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ شوکت ترین وزیر خزانہ کے طور جون میں بجٹ تقریر میں کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور اب آئی ایم ایف کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق منی بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ اس موقع پر عمران خان کو مسیحا اور خود کو مالیات کا نابغہ عصر ثابت کرنے کی بجائے شوکت ترین پر لازم تھا کہ وہ ناقص بجٹ تیار کرنے پر عوام سے معافی مانگتے اور بجٹ تقریر میں کئے گئے وعدے پورے نہ کرنے پر شرمندگی کا اظہار کرتے۔ اس سے عوام پر ڈالے گئے کثیر مالی بوجھ میں تو کمی نہ ہوتی لیکن کم از کم وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوجاتے کہ حکومت اور وزیر خزانہ نے الفاظ کی ہیرا پھیری سے اپنی کوتاہی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔
حکومت کا پیش کردہ ضمنی بجٹ صرف اس حد تک ہی پریشانی کا باعث نہیں ہے کہ اس کا مالی تخمینہ درست ثابت نہیں ہوسکا اور حکومت اس ناکامی سے سبق سیکھ کر آئیندہ بہتر طریقے سے کام کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہ منی بجٹ چونکہ آئی ایم ایف کی پانچ شرائط پوری کرنے کے لئے تیار ہؤا ہے، اسی لئے اسے ملکی مالی خود مختاری پر حملہ قرار دیا جارہا ہے ۔ اپوزیشن لیڈروں نے قومی اسمبلی میں احتجاج کے ذریعے یہی واضح کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط پر اقدام سے ’ عوام کی زبان بندی کر کے پاکستان کی معاشی خود مختاری کو بیچا جارہا ہے‘۔ حکومت کو یہ اقدام چھے ارب ڈالر کے مالی پیکیج میں سے ایک ارب ڈالر سے کچھ زائد فنڈز وصول کرنے کے لئے کرنا پڑے ہیں۔ اس کے بدلے میں عوام پر محاصل اور ٹیکسوں کا جو بوجھ لادا جائے گا ا س کی مالیت کا تخمینہ تین سے چار ارب ڈالر لگایا جارہا ہے۔ کیوں کہ منی بجٹ میں عائد کئے گئے ساڑھے تین سو ارب روپے کے محاصل کے علاوہ پیٹرولیم مصنوعات پر ہر ماہ چار روپے فی لیٹر اضافہ اور متعدد شعبوں میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کے اقدام کا بوجھ بھی عوام کی جیبوں پر پڑے گا۔
تاہم آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق سب سے خطرناک اقدام اسٹیٹ بنک کو مکمل خود مختار اکائی بنانے کے لئے کی جانے والی قانون سازی ہے۔ اس قانون کا مسودہ بھی آج قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا ہے جسے منی بجٹ کے ساتھ ہی منظور کروانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ اس قانون سازی کے بعد پاکستانی حکومت، روپے کی قدر کے تعین یا بنکوں سے قرض لینے جیسے معاملات میں اسٹیٹ بنک کی رہنمائی نہیں کرسکے گی۔ اسٹیٹ بنک خود مختاری سے مارکیٹ کی ضرورتوں یا دوسرے لفظوں میں پاکستانی معیشت کو فعال رکھنے کے لئے قرض فراہم کرنے والے عالمی اداروں کی ہدایات کے مطابق کام کرنے پر مجبور ہوگا۔ وزیر خزانہ اور سرکاری نمائیندے اس بارے میں بھی درست تصویر دکھانے کی بجائے گمراہ کن اور گنجلک دلائل سے ایک غیر واضح تصویر بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ شوکت ترین نے پریس کانفرنس میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ وہ حکومت پاکستان کے ماتحت نہیں رہے گا۔ اس کا بورڈ آف گورنرز حکومت مقرر کرے گی اور صدر مملکت اس کے تمام فیصلوں کی منظوری دیں گے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بنک قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے ’جوابدہ‘ ہوگا۔
یہ ساری باتیں پرفریب ہیں۔ شوکت ترین جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کررہے ہیں، وہ سب رسمی معاملات ہیں۔ اسٹیٹ بنک کو جو خود مختاری دی جارہی ہے، اس کے تحت وہ اپنے مالی فیصلے کرنے میں آزاد ہوگا اور حکومت درحقیقت اسٹیٹ بنک کی تیار کردہ معاشی گائڈ لائن کے مطابق کام کرنے کی پابند ہوگی۔ نہ صدر مملکت کے ذریعے حکومت اسٹیٹ بنک کے فیصلوں کو مسترد کرسکے گی اور نہ ہی قومی اسمبلی کو ان فیصلوں کا جائزہ لینے کا حق حاصل ہوگا۔ اسٹیٹ بنک کی خود مختاری کا جو بل آج پیش کیا گیا ہے، اسے منظور کرکے حکومت اور قومی اسمبلی خود ہی اپنے اختیار سے دست برداری کے عہد نامہ مہر ثبت کریں گی۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ نئی قانون سازی محض رسمی ہے اور اسٹیٹ بنک درحقیقت حکومت کی سیاسی حکمت عملی کا محتاج ہوگا خود کو یا عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ اسٹیٹ بنک کا بورڈ مقرر کرنے کا اختیار چونکہ حکومت کے پاس ہے لہذا وہ بدستور سرکاری کنٹرول میں رہے گا تو اس بات کا کیا جواب دیا جائے گا کہ حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ میں ایک قانون کے ذریعے اسٹیٹ بنک پر اپنے اختیار سے دست بردار ہورہی ہے، وہی حکومت آئی ایم ایف یا کسی دوسرے طاقت ور عالمی ادارے کے اشارے پر انہی لوگوں کو اسٹیٹ بنک کی گورنننگ باڈہ کا حصہ نہیں بنائے گی جو عالمی اداروں کو قابل قبول ہوں گے؟َ
متعدد طاقت ور جمہوری ممالک میں مرکزی بنک براہ راست انتظامیہ کے اختیار میں نہیں ہوتے۔ لیکن ان ممالک کی معیشتیں اتنی مستحکم اور بڑی ہیں کہ وہ خود ہی قومی بنکوں کو ملکی معاشی مفاد کی حفاظت پر مجبور کردیتی ہیں۔ پاکستان جیسی کمزور معیشت میں مرکزی بنک پر حکومت کے انتظامی اختیار کو دراصل ملک کی خود مختاری کے مماثل سمجھا جاتا ہے کیوں کہ بیرونی قرضوں اور ناقص پیداواری صلاحیت کی وجہ سے معیشت مرکزی بنک کی رہنمائی کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ یہ ایک پیچیدہ اور مشکل بحث ہے۔ لیکن آسانی کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جب آئی ایم ایف پاکستانی اسٹیٹ بنک کو خود مختار دیکھنا چاہتا ہے تو اس کا مقصد پاکستانی معیشت کی حفاظت سے زیادہ ان عالمی اداروں کے مفادات کا تحفظ ہے جنہوں نے ملکی معیشت کو 125 ارب ڈالر کے لگ بھگ قرض دے رکھا ہے۔
یہ حکومتی قیاس آرائی خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ نئے ٹیکسوں سے مہنگائی میں اضافہ نہیں ہوگا یا غریب شہری پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔ اول تو کسی بھی طبقہ پر ٹیکس عائد کیا جائے گا تو معاشی پہیے میں یہ بوجھ پورے معاشرے میں تقسیم ہوگا۔ اس کے علاوہ بجٹ میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ ایسی اشیا یا ان کے خام مال پر محاصل عائد کئے گئے ہیں جن کا تعلق خورد و نوش اور ادویات سے ہے۔ جب بیکری کی مصنوعات، ریستوران کی روٹی ، بچوں کے دودھ اور دواؤں کے خام مال پر محاصل میں اضافہ ہوگا تو اس کا اثر ہر شہری پر ہو گا۔ اسی طرح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ سے پوری ملکی معیشت زیر بار ہوتی ہے اور عوام ہی اس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔
اس میں تو شبہ نہیں ہے کہ حکومت نے یہ یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد ہی منی بجٹ پیش کیا ہوگا کہ اسے پارلیمنٹ میں اکثریت سے منظور کرلیا جائے گا تاہم حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ ضمنی بجٹ کی منظور ی تحریک انصاف کی حکومت پر اعتماد کا ووٹ نہیں ہوگا۔ ان بجٹ تجاویز کو اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے حلیف جماعتوں اور کابینہ میں جو سوالات اٹھائے گئے تھے اس سے عمران خان کو اندازہ ہوجانا چاہئے کہ منی بجٹ کا مالی بوجھ بے شک عوام برداشت کریں گے لیکن اس کی سیاسی قیمت بہر حال تحریک انصاف کو ادا کرنا ہوگی۔
دور بینی سے دیکھا جائے تو منی بجٹ کی منظور سے اس ’عدم اعتماد‘ کا باقاعدہ آغاز ہوجائے گا جس کے چرچے گزشتہ ایک سال سے ملک کے سیاسی حلقوں میں سنائی دے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عام طور سے عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن لاتی ہے اور ایک ہی نشست میں ووٹنگ کے ذریعے اس کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں حکومت خود ہی منی بجٹ کی صورت میں اپنے خلاف ’تحریک عدم اعتماد ‘ لائی ہے۔ اس کی منظوری کے بعد قطرہ قطرہ کم ہوتی مقبولیت کی صورت میں آئیندہ انتخابات تک اس کا باقاعدہ اطلاق ہو گا۔