جسٹس عائشہ ملک کی ترقی کا معاملہ آئیندہ چیف جسٹس کے لئے مؤخر کرنے کا مشورہ
- جمعہ 31 / دسمبر / 2021
- 4650
سپریم کورٹ بار ایسوسی نے چیف جسٹس گلزار احمد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عاشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کا طریقہ کار اپنے جانشین پر چھوڑ دیں۔
ڈان اخبار کے مطابق ایس سی بی اے کے اجلاس کی ایک مشترکہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ مناسب ہوگا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ میں ترقی کے معاملے کو اگلے چیف جسٹس کے طے کرنے کے لیے مؤخر کر دیں۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کے وائس چیئرمین خوشدل خان اور کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین محمد مسعود چشتی بطور خاص مدعو کیے گئے تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس سی بی اے کے صدر محمد احسن بھون نے واضھ کیا کہ چیف جسٹس نے خود ہی یہ اصول طےکیا ہے کہ اگر کسی چیف جسٹس کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے تو اسے سپریم کورٹ میں ترقی کا عمل شروع نہیں کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ موجودہ چیف جسٹس یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہو جائیں گے۔
ایس سی بی اے نے چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ چونکہ ان کی مدت ملازمت ختم ہونے کے قریب ہے اور ان کے ریٹائر ہونے میں صرف ایک ماہ باقی ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس معاملے کو اپنے جانشین کے لیے مؤخر کر دیں۔ ایس سی بی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس احسن بھون کی صدارت میں ہوا جس میں جسٹس عائشہ ملک کو عدالت عظمیٰ کی بطور پہلی خاتون جج ترقی دینے کے لیے آئندہ ہفتے کے اوائل میں ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) کے تناظر میں معاملات پر غور کیا گیا۔
جونیئر جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے معاملے پر غور اور حکمت عملی تیار کرنے کے لیے دو روز قبل پی بی سی نے 3 جنوری 2022 کو ایک اجلاس بلایا تھا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین خوشدل خان نےایگزیکٹو کمیٹیوں کے وائس چیئرمینوں، وکلا کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے اراکین، ایس سی بی اے کے صدر، صوبائی اور اسلام آباد بار کونسلز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کو پیر کے اجلاس میں شرکت کے لیے خطوط لکھے ہیں۔
ایس سی بی اے اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا جو اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے تقرر کے طریقہ کار سے متعلق ہے۔
احس بھون نے کہا کہ ترامیم کے ذریعے پارلیمنٹ کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے تقرر، ترقی یا برطرفی سے نمٹنے کے لیے تشکیل دی گئی باڈی کو بااختیار بنا کر دونوں فورمز یعنی جے سی پی اور پارلیمانی کمیٹی کو ایک میں ضم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ قرارداد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ جے سی پی کی تشکیل پر نظرثانی کی جائے اور بار کی تنظیموں کے کم از کم دو نمائندوں اور اپوزیشن جماعتوں کے مساوی نمائندوں کو کمیشن میں نمائندگی دی جائے۔
احسن بھون کا کہنا تھا کہ اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ہائی کورٹس میں ترقی کے لیے وہی معیار اپنایا جائے اور چیف جسٹس اور متعلقہ ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج کے ساتھ ساتھ متعلقہ بار کونسل کے ایک ممبر اور پی بی سی کے ایک ممبر کے ساتھ مشاورت کی جائے۔