رانا شمیم توہین عدالت کیس میں اٹارنی جنرل کو پراسیکیوٹر مقررکردیا گیا

  • ہفتہ 01 / جنوری / 2022
  • 2560

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا محمد شمیم اور جنگ میڈیا گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن، انصار عباسی اور عامر غوری کے خلاف توہین عدالت کیس میں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو پراسیکیوٹر مقرر کر دیا ہے۔

 اخبار نے سابق چیف جج کے بیان حلفی کے بارے میں ایک خبر شائع کی تھی جس میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی جیل سے رہائی میں تاخیر کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا تھا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کے حلف نامہ کیس میں تحریری حکم نامہ جاری کرنے کے بعد پراسیکیوٹر کی تقرری عمل میں آئی۔

رانا شمیم کے حلف نامہ سے متعلق حکم میں کہاگیا ہے کہ برطانیہ سے کورئیر سروس ڈی ایچ ایل کے ذریعے موصول ہونے والا مہر بند پیکج رجسٹرار نے رانا محمد شمیم کے حوالے کیا تھا۔ اس میں ایک اور لفافہ تھا جس پرڈی ایچ ایل کی مہر لگی ہوئی تھی اس میں ایک دستاویز تھی، جس کی تصدیق رانا محمد شمیم نے کی تھی کہ وہ وہی حلف نامہ ہے جو اس نے 10 نومبر 2021 کو برطانیہ میں دیا تھا اور اسے چارلس ڈی گوتھری، سالیسٹر نے نوٹرائز کیا تھا۔

عدالتی رجسٹرار کی جانب سے دستاویز کو باحفاظت عدالتی تحویل میں دینے کے لیے دوبارہ سیل کر دیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل میں حلف نامے کے مندرجات کا تذکرہ 15 نومبر کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا تھا، جبکہ ڈویژن بینج نے زیر التوا کارروائی سے متعلق حلف نامہ اور اس میں مذکور افراد کی طرف سے ترجیحی اپیلوں کی سماعت 17 نومبر مقرر کی تھی۔

چیف جسٹس من اللہ نے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ اخبار میں شائع ہونے والے حلف نامے کے مندرجات اسلام آباد ہائی کورٹ اور اس کے ججوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے اور انصاف کے مناسب نظام میں رکاوٹ اور مداخلت کی کوشش ہے۔ یہ دستاویز کسی عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی اور اتھارٹی کے سامنے پیش کی گئی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اخبار کی جانب سے بغیر کسی معقول خیال کے خبر شائع کی گئی تھی۔

حکم نامے کے مطابق حلف نامے پر عمل درآمد اور اس کے فوراً بعد ایک خبر کی اشاعت کا وقت ایک اہم عنصر تھا کیونکہ اس کے زیر التوا عدالتی کارروائیوں اور انصاف کی منتظمین پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے یاد دہانی کروائی کہ وکیل لطیف آفریدی نے دلائل دیے تھے کہ بیان حلفی کا مقصد اس کو پبلک کرنا تھا نہ ہی اسے کسی کے ساتھ شیئر کرنا تھا۔

یہ دلیل دی گئی تھی کہ رانا شمیم کے خلاف توہین کا کوئی مقدمہ نہ بنایا جائے کیونکہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام معقول خیال رکھا تھا کہ اسے نہ تو لیک کیا جائے اور نہ ہی کسی اور طریقے سے اسے عام کیا جائے۔ آرڈر میں کہا گیا کہ رانا شمیم کا یہ موقف تھا کہ حلف نامہ صرف لندن میں نوٹری پبلک کے ذریعہ ہی منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔ بادی النظر اس کی اپنی ساکھ کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔

جسٹس من اللہ نے اپنے حکم میں لکھا کہ سابق چیف جسٹس کی جانب سے مبینہ سنگین بدتمیزی کے حوالے سے تین سال سے زائد عرصے تک گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس کی خاموشی نے بھی ان کی امانت اور قابلیت کو مشکوک بنایا۔ ابتدائی طور پر عدالت میں یہ ظاہر ہوا کہ میر شکیل الرحمٰن، عامر غوری اور انصار عباسی کا کردار صرف اس حد تک تھا کہ لیک ہونے والی دستاویز کی بنیاد پر خبر شائع کرنے سے قبل مناسب خیال نہیں رکھا گیا۔

تاہم ان کا موقف ہے کہ انہوں نے ایسی دستاویز شائع کی  جو 'عوامی مفاد' میں ضروری تھی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے لکھا کہ یہ موقف صحافت کے میدان میں بہترین بین الاقوامی صحافیانہ معیار کے مطابق نہیں ہے۔ یہ ایک پیشہ ور صحافی کا کام نہیں لگتا کہ وہ 'عوامی مفاد' کے عنصر کا تعین کرے اور پھر ایسی دستاویز شائع کرے جس کا کوئی ثبوت نہ ہو۔

اگر اس دلیل کو قبول کر لیا جاتا ہے تو قانونی چارہ جوئی سمیت کسی کو بھی زیر التوا عدالتی کارروائی کے نتائج پر بالواسطہ اثر انداز ہونے اور بڑے پیمانے پر گردش کرنے والے اخبارات یا میڈیا چینلز کا استعمال کرکے 'میڈیا ٹرائل' کا سہارا لینے کا جواز پیدا ہوگا۔

جسٹس من اللہ نے وارم وی آسٹریا کیس میں انسانی حقوق کی یورپی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ اس میں عدالت نے ویانا کی ایک عدالت کے خلاف ایک صحافی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کیس میں توہین عدالت کی سزا اور سزا کو برقرار رکھا گیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ’صحافیوں کو زیر التوا مجرمانہ کارروائیوں پر تبصرہ کرتے وقت اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ کسی تبصرے کو اس حد تک نہیں جانا چاہئے جس سے تعصب کا امکان ہو۔