قومی اسمبلی کا اجلاس 12 منٹ جاری رہنے کے بعد غیر معینہ مدت تک ملتوی
- ہفتہ 01 / جنوری / 2022
- 4270
قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کیے جانے سے قبل صرف 12 منٹ تک جاری رہا جس میں حال ہی میں پیش کیے گئے متنازعہ مالیاتی ضمنی بل پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
حکومت کا خیال ہے کہ جنوری کے وسط میں شروع ہونے والے ایوان کے آئندہ اجلاس میں بل کو اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بل سینیٹ کو بھیجتے ہوئے آئینی ذمہ داری پوری کرلی گئی ہے تاکہ قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے 14 دن کے اندر سفارشات طلب کر لی جائیں۔
حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان پس پردہ مذاکرات جاری ہیں تاکہ قرض دہندہ کو قائل کیا جاسکے کہ حکومت فنانس سپلیمنٹری بل 2021 پر اکثریت حاصل کرنے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختاری دینے کی اپنی شرط پوری کر رہی ہے۔ مذکورہ بل آئی ایم ایف کے 12 جنوری کو ہونے والے اجلاس سے قبل یا بعد منظور کیے جائیں گے جس کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط ملنے کا امکان ہے۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس کورم نامکمل ہونے کے باعث شروع ہونے کے چند منٹوں بعد ہی معطل کردیا گیا۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع نے بتایا کہ ایسی مثال کہیں نہیں ملتی کہ ایک اہم بل پیش کرنے کے ایک روز بعد اس پر فیصلہ کیے بغیر اسمبلی کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دو اہم اتحادی مالیاتی ضمنی بل 2021 پر ناخوش ہیں، جسے منی بجٹ کہا جارہا ہے۔ تاہم وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ دونوں اتحادیوں نے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں بل کی منظوری دے دی ہے۔ بل جنوری کے وسط میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں منظور کر لیا جائے گا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ آئین کے تحت بل کو سفارشات کے لیے سینیٹ میں بھیجنا لازمی ہے اور اسی لیے بل ایوان بالا میں بھیجا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی آئندہ ہفتے سینیٹ کا نیا اجلاس طلب کریں گے۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے 14 دن کے اندر سینیٹ کو بھیجا جاتا ہے تاکہ قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں سینیٹ کی سفارشات شامل کی جاسکیں یا اسے مسترد کردیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت قومی اسمبلی کے اگلے اجلاس میں بل کو سادہ اکثریت کے ساتھ منظور کروا لے گی۔ بابر اعوان نے کہا کہ جب قومی اسمبلی میں بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن اراکین کی حاضری حکومتی بنچرز کے مقابلے میں کافی کم تھی، اگلے اجلاس میں بل منظور ہونے پر ہم ایوان میں اکثریت بھی دکھائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے مشیر نے کہا کہ قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس 10 جنوری کو بلایا جائے گا۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں فنانس سپلیمنٹری بل 2021 کی منظوری دی گئی جسے بعد ازاں وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔
اپوزیشن نے حکومت کو منی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس بل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکومت مرکزی بینک کی چابیاں آئی ایم ایف کو دینے جارہی ہے۔