طاہر اوپل سے پروفیسر عابد عمیق تک ۔۔ سال 2021 کے دکھوں کا گوشوارہ
- تحریر رضی الدین رضی
- ہفتہ 01 / جنوری / 2022
- 7520
جیون کے اس سفر میں ہمیں کبھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ نئے سال کے آغاز میں جو لوگ ہمارے ساتھ زندگی کی خوبصورتیاں دیکھ رہے ہیں، اگلے برس وہ ہمارے درمیان ہوں گے یا نہیں اور اگرہوں گے تو کیا ان کے لیے زندگی آنے والے برسوں میں بھی ویسی ہی خوبصورت ہوگی ؟
ہم ہرسال جانے والے برس اور اس برس کے ساتھ رخصت ہونے والوں کا نوحہ لکھتے ہیں اور نئے سال کا اس کے باوجود مسکراتے ہوئے استقبال کرتے ہیں کہ زندگی دکھوں اور خوشیوں کے اسی امتزاج کا نام ہے۔
مجھے یاد ہے کہ2021 میں دسمبر کے آخری ہفتے کے دوران جن دوستوں نے مجھ سے مکالمہ کیا تھا اور پھر نئے سال کے طلوع پرمجھے مبارکباد دی تھی ان میں پہلا نام فرتاش سید کاتھا۔ نعیم الحسن ببلوبھی گاہے گاہے ان دنوں میرے ساتھ رابطے میں رہے ۔ کبھی عرش صدیقی صاحب کی نظم ”اسے کہنا دسمبرآگیاہے“ کے حوالے سے اور کبھی نئے سال کی نظموں کے تناظرمیں ۔ اپنے چچازاد بھائی طاہر اوپل، میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے خوبصورت شاعر مظہربخاری اور معروف نعت گو شاعر رہبر صمدانی کاتو میں نے گمان بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اگلے برس کے اوائل میں ہی داغ مفارقت دے جائیں گے۔
اسی طرح مسعوداشعر صاحب کے کالم میں تواتر کے ساتھ گردوپیش میں شائع کررہاتھا۔ ہرسال کی طرح 2021 بھی کئی دکھوں کے ہمراہ طلوع ہوا۔ جیسے 2020 ہمیں رانا اعجاز محمود کی جدائی کادکھ دے کر گیاتھا ۔ اسی طرح 2021 کے دامن میں بھی بچھڑجانے والوں کی طویل فہرست موجودہے لیکن یہاں میں صرف اپنے حلقہ احباب کا ذکرکررہا ہوں۔ صرف خاندان کے لوگوں پر ہی نظرڈالیں تو ان میں طاہر اوپل کے علاوہ اس کی والدہ (میری چچی جان)، طاہر کے بہنوئی وزیرعباس سہوجو اس کے چہلم پرمجھے یہ کہہ کرگئے تھے کہ” اب طاہر کے بچوں کاخیال آپ نے رکھنا ہے“ اورمجھے ان کے اس جملے کی اس وقت سمجھ نہیں آئی تھی۔
کراچی میں مقیم میرے چچا ظفراحمد اوپل اور بہاولپور میں رہنے والی میری خالہ صاحبہ شامل ہیں۔ یہ سب وہ ہستیاں ہیں جن کے ساتھ میرے بچپن اورلڑکپن کی بہت سی یادیں بھی وابستہ ہیں۔ ایسی ہی ایک ہستی پیپلزپارٹی کے بنیادی رکن احسان الحق مغل صاحب کی بھی تھی جو پانچ جون کوہم سے جدا ہوئے۔ وہ میرے کلاس فیلو ظفر اقبال مغل کے والد تھے۔ دکھوں کاآغاز جنوری سے ہوا اور 7جنوری کو مظہر بخاری اچانک چلے گئے۔ 9فروری کو چچی صاحبہ، 12 فروری کوچچا ظفر اور 25فروری کو طاہر اوپل کو بلاواآگیا۔ 16 فروری معروف شاعر حمید عاکف اور17فروری نامورسرائیکی دانشور ارشاد تونسوی کی جدائی کی خبر لائے۔ 20فروری رہبر صمدانی کی رخصتی کادن تھا۔
12اپریل کو آئی اے رحمان اور18اپریل کو فرتاش سید کے انتقال کی خبر ملی۔ فرتاش کا تو ہم نے گمان بھی نہیں کیاتھا کہ وہ طاہر اور رہبرکی طرح لمحوں میں ہاتھ سے نکل جائے گا۔ 26اپریل کو نوازش علی ندیم کی جواں سال صاحبزادی کینسر کے خلاف طویل جنگ ہار گئیں۔ عبدالغفارنقشبندی صاحب 3مئی کو رخصت ہوئے توملتان عالمی شہرت یافتہ قاری سے محروم ہوگیا۔ نعیم الحسن ببلومجھے ہرہفتے ادبی بیٹھک کے باہر ملتے تھے۔ وہ آرٹس کونسل میں باقاعدگی کے ساتھ موسیقی کی کلاس لینے آتے تھے اور میں ادبی بیٹھک کے باہر دوستوں کا منتظر ہوتا تھا۔ 6 جون کے بعد نعیم الحسن ببلو کے ساتھ ملاقات کا امکان بھی ختم ہوگیا۔
جنرل ضیاءالحق کے عتاب کانشانہ بننے والے مسعوداشعرنے اپنی رخصتی کے لیے بھی 5جولائی کادن ہی منتخب کیا۔21جولائی عارف نظامی اور 25جولائی حبیب جالب کے بھائی اور معروف کالم نگار سعید پرویز کی رخصتی کی خبر لائے۔25جولائی کوہی بورے والا میں پنجابی کے معروف شاعر محمودغزنی رخصت ہوگئے۔ اے پی پی ملتان کے سابق سٹیشن منیجراورایگزیکٹو ڈائریکٹر غنی چوہدری 26اگست کوطویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔9 ستمبر کو وزیرعباس سہو اور29ستمبر کو خوبصورت شاعر اور استاد فہیم اصغر چلے گئے۔ معروف کالم نگار اورماہر تعلیم اجمل نیازی18اکتوبر ،معروف نظم گو شاعر ابرار احمد 29اکتوبر کو اپنے چاہنے والوں کو اداس کرگئے۔
سرائیکی دانشور محمودنظامی نے 10نومبر کوآخری قہقہہ لگایا اور نامور اداکار سہیل اصغر 13نومبر کو اپنے چاہنے والوں کو اداس کرگئے۔ اسی طرح نومبر میں ہی مختلف اداروں سے ڈاﺅن سائزنگ کاشکارہونے والے سینئر صحافی آفتاب احمد خان کے لیے ملازمت کی ضرورت ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی اور میں یہ تحریر مکمل کرہی رہاتھا کہ 2020 کی طرح 2021 بھی جاتے جاتے ایک اور دکھ دے گیا۔ 2020 میں سال کے آخری روز نامور دانشور ڈاکٹر طاہر تونسوی کا انتقال ہواتھا ۔آج کچھ دیر میں مجھے نامور ترقی پسند دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر عابد عمیق کے جنازے میں شرکت کے لیے جانا ہے:
گردش ماہ وسال کی گنتی
اصل میں وقت کا جنازہ ہے
(بشکریہ: گرد و پیش ملتان)