نیا سال اور ہمارے انفرادی و قومی عزائم

نیا سال جہاں ہمیں انفرادی سطح پر اپنے ماضی کی کارکردگی کاتنقیدی جائزہ لے کر مستقبل کیلئے بہترلائحہ عمل مرتب کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے،  وہیں یہ حکومت اور ریاست کے ارباب اختیارکو حکومتی و ریاستی سطح پر اختیار کی گئی حکمت عملیوں او ر پالیسیوں کے نتائج کا طائرانہ جائزہ لے کر انہیں جاری و ساری رکھنے یا موقع محل کی مناسبت سے ان میں ترمیم و تبدیلی کا موقع دیتا ہے۔

جو افراد اپنے ماضی کی غلطیوں اور کو تاہیوں پر غور کر کے مستقبل کیلئے بہتر لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے، کامیابی ان کا مقدر نہیں بنتی۔اسی طرح جو قومیں اور ریاستیں اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کے اسباب پر غورو غوض کرکے ان کے تدارک کا اعادہ نہیں کرتیں،کامیابی و خوشحالی کی منزل پر نہیں پہنچ پاتیں۔نئے سال کی آمد پر جہاں ہمیں اپنی زندگی میں خوشگوار تبدیلیوں کیلئے انفرادی سطح پر عہد کرنے چاہیں وہیں کچھ عہد معاشرے کی بہتری کیلئے اجتماعی سطح پر بھی ہونے چاہیں۔ملک و قوم کی بہتری اور معاشرے میں قانون و انصاف کی حکمرانی کو یقینی بنانے کیلئے کچھ عہد حکومت اور حکومت کے تحت چلنے والے اداروں کو بھی کرنے چاہیں۔عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی سمیت ملکی و عالمی سطح پر امن و جمہوریت کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے کچھ عہد ریاستی سطح پر کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

جہاں تک انفرادی و اجتماعی سطح پر کئے جانے والے عزائم کی بات ہے تو عام مشاہدہ ہے کہ نئے سال کی آمد پر ہم میں سے اکثر وبیشتر لوگ مبارکباد کے روایتی اورسطحی پیغامات کی شئیرنگ کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نئے سال کی آمد پر گزشتہ سال کی کامیابیوں و ناکامیوں کا تنقیدی جائزہ لے کر آنے والے سال کیلئے بہتر لائحہ عمل مرتب کرتے ہیں اور ایسے لوگ تو نہ ہونے کے برابر ہیں جو بیتے ہوئے سال کی غلطیوں اور ناکامیوں کا بھرپور جائزہ لے کر مستقبل میں ان پر قابو پانے کیلئے لائحہ عمل مرتب کر کے سارا سال اس پر عمل بھی کرتے ہوں۔ ہم میں سے جو لوگ نئے سال کے آغاز پر اپنی زندگیوں میں خوشگوار بہتری یا تبدیلی لانے کیلئے پورے شدومد سے عہدو پیمان باندھتے ہیں، ان میں سے اکثر و بیشتر سال کے ابتدائی دس پندرہ دنوں میں ہی اپنے عہدو ارادے بھول چکے ہوتے ہیں۔

ویسے تو اپنی زندگی کو صحت مند، کامیاب اور خوشحال بنانے کیلئے کئے گئے ارادے یا عزائم پرسن ٹو پرسن مختلف ہو سکتے ہیں لیکن میرے خٰیال میں پرسکون اور کامیاب زندگی کیلئے ہر شخص کواپنے آپ سے کم از کم چند عہدضرور کرنے چاہئیں۔نئے سال کے آغاز پر ہمیں پہلا عہد یہ کرنا چاہیے کہ ہم مکمل یکسوئی سے غوروفکر کرکے نہ صرف اپنی ذات میں پائی جانے والی برائیوں اور خامیوں کا پتہ چلائیں گے بلکہ ہم نئے سال میں ان سے چھٹکارا پانے کی پوری کوشش کریں گے۔اپنی کمیوں اور کوتاہیوں پر غوروفکر کرتے ہوئے ذاتی احتساب کا یہ عمل ہمیں باطنی سکون و اطمینان مہیا کرنے کا باعث بھی بنے گا۔ہمیں دوسرا عہد یہ کرنا چاہیے کہ ہم نئے سال میں زندگی کو اس کی تمام تر تلخیوں سمیت قبول کرتے ہوئے خٰیالی اور غیر حقیقی سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔حقائق سے راہ فرار اختیار کرنے کی بجائے ان کا مردانہ وار مقابلہ ہمیں دنیا کے مادی وحقیقی مسائل سے نمٹنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ سٹریس یا تناؤ ہماری توقعات اور حقیقت کے مابین گیپ یاخلا ہوتا ہے۔ ہم جتنا زیادہ زندگی کو اس کی حقیقتوں کے ساتھ قبول کرنے پر خود کو تیار کریں گے اتنا ہی زیادہ پرسکون اور مطمئن رہیں گے۔

نئے سال کی آمد پر ایک عہد یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہم مادی زندگی کے جھمیلوں سے وقت نکالتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر اپنے آپ کو وقت ضرور دیں گے۔پرسکون اور کامیاب زندگی کے لئے اپنے آپ کو صحت مند یا فٹ رکھنا اشد ضروری ہے اور صحت مند رہنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پرصبح یا شام نصف سے ایک گھنٹے تک کی تیز واک، وزرش یا چہل قدمی کو اشد ضروری ہے۔ایک عہدسوشل میڈیا کے تعمیری استعمال کا بھی کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سوشل میڈیا تفریح کے ساتھ سا تھ ملکی و عالمی حالات سے باخبر رہنے کا زبردست زریعہ بن چکا ہے لیکن عام مشاہدے کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعدادسوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت فضول قسم کی سرگرمیوں اور لایعنی بحثوں میں صرف کرتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کہ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرنے کی وجہ سے لوگ واک، چہل قدمی یا ورزش نہیں کر پاتے تو بے جا نہیں ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے سوشل میڈیا کے توسط سے انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوری وسول بالادستی کی جدوجہد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن ابھی بھی سوشل میڈیاصارفین کی ایک بڑی تعدادان سائٹس پر فضول اور منفی قسم کی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہتی ہے۔ایک عہدہمیں اپنے ارد گرد کے ماحول سے ظلم و جبر، ناانصافی و قانون شکنی، ناخواندگی و جہالت اور ہر قسم کے امتیازی رویے کے خاتمے کا بھی کرنا چاہیے۔ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو مظلوم کے حق میں اس لیے نہیں بولے کہ کہیں مارے نہ جائیں۔

کچھ عہد حکومت، ریاست اور ریاست کے اداروں کی جانب سے بھی ہونے چاہیں۔ حکومتی و ریاستی ارباب اختیار کو نئے سال کی آمد پر ان اسباب و عوامل پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کرنا چاہیے جو ملک کو پیچھے لے جانے کا باعث بنے ہیں۔کیا وجوہات ہیں کہ پچاس سال قبل ہم سے آزاد ہونے والا بنگلہ دیش معاشی میدان میں تیزی سے ہم سے آگے بڑھتا جا رہا ہے جب کہ ہم آئی ایم ایف کے چنگل میں بری طرح پھنستے جا رہے ہیں۔ بہت سے لوگ ملک کے پیچھے رہ جانے کی تمام تر زمہ داری سیاست دانوں کی آپس کی چپقلشوں اور کرپشن پر ڈال کر اپنے آپ کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ملک کے پیچھے رہ جانے کی سب سے اہم وجہ صرف سیاستدانوں کی چپقلشیں اور لوٹ مار نہیں بل کہ اس ملک کا اصل مسئلہ 73سالوں سے ملک کو آئین اور قانون کی بجائے طاقت کے اصولوں پر چلائے رکھنے میں مضمر ہے۔ سیاسی جماعتوں کی چپقلشیں اور سیاستدانوں کی کرپشن بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی رہی ہیں لیکن ان کے باوجود یہ دونوں ممالک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔اس ملک کا اہم ترین مسئلہ سیاسی جماعتوں کی آپس کی چپقلشوں کی بجائے عوام کے منتخب نمائندوں اور مقتدرہ  کے مابین اقتدار کی رسہ کشی ہے۔ ملک اور معاشرے کو آگے لے جانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے ملکی اور عالمی معاملات میں عوام کے منتخب نمائندوں کے فیصلوں کو فیصلہ کن حیثیت دینا ناگزیر ہے۔ ریاستی اداروں کوکسی مخصوص جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بجائے اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود رہنے کا عزم کرنا چاہیے۔