نیشنل سیکیورٹی پالیسی: ایک اور پالیسی یا۔۔

یہ کیسی  نیشنل سیکیورٹی  پالیسی ہے جس پر پارلیمنٹ کو اعتماد  میں نہیں لیا گیا؟  اس پالیسی پر پارلیمنٹ سے مشاورت ہوئی  نہ  ہی اس کا ڈرافٹ ہم سے شئیر کیا گیا۔

 سنا ہے کہ اس پالیسی میں معاشی سکیورٹی بھی قومی سلامتی میں  یکساں  اہم  قرار دی گی ہے مگر یہ کیا کہ حکومت  مِنی بجٹ سے معیشت کی بچی کھچی سکت بھی چھین رہی ہے:  سینیٹ میں نیشنل سکیورٹی پالیسی  کے  سواگت  کے طور پر اپوزیشن کا احتجاج اور علامتی واک آؤٹ۔ اللہ جانے اپوزیشن اپنے روایتی  تنقیدی موڈ میں تھی یا واقعی حکومت نے اس پالیسی پر اپوزیشن سے کوئی مشاورت کسی بھی سٹیج پر نہیں کی تھی۔ تاہم  دو روز قبل نیشنل سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا  تو اس میں ایک عدد قومی سلامتی پالیسی منظور کی گئی۔  اس کے نمایاں خدوخال شرکا کو بتائے اور سمجھائے گئے۔  حکومت کے بقول  یہ پانچ سالہ  2022-26  پالیسی  ڈاکومنٹ خارجہ، ڈیفنس اور معاشی امور کے لئے رہنما ئی فراہم کرے گا۔  حکومت شاباش کی متمنی ہے کہ اس  نے پہلی بار ایک ایسا رہنما ڈاکومنٹ تشکیل دیا ہے  جو  سلامتی امور پر  ریاست کے  ویژن  کا آئینہ دار ہے اور  سلامتی کے مقاصد کے حصول کے لئے گائیڈ لائینز فراہم کرتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی  سے منظوری کے بعد  کابینہ سے منظوری کی بھی  رسم  ادا ہونے کے بعد یہ ڈاکومنٹ اب رہنمائی کے لئے تیار ہے۔

نیشنل سکیورٹی ڈویژن نے اس پالیسی کی تیاری کے لئے  سالوں مختلف النوع سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی، مختلف اداروں  اور سول سوسائٹی سے  تبادلہ خیال کے بعد اس پالیسی کو  تشکیل دیا۔ اس میں ملکی سلامتی  کو درپیش چیلنجز یعنی  اکونومی، فوڈ سیکیورٹی،  آبی وسائل کی  کمی،  ملٹری سکیورٹی، دہشت گردی،  آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ سمیت بیرونی دنیا کے تعلقات کا احاطہ کر دیا گیا ہے۔  اس خواہش کا اظہار بھی ہے کہ جغرافیائی سلامتی  کے بدلتے ہوئے  تناطر  میں کسی ایک   عالمی  بلاک کا حصہ بننے سے احتراز  کیا  جائے۔گو مکمل ڈرافٹ  سامنے نہیں لایا گیا مگر اس کے نمایا ں نکات جو اب تک سامنے لائے گئے، ان  سے کسی باہوش انسان کا بھلا  کیا اختلاف ہوگا۔  تاہم بقول شخصے  اصل کہانی تو ان تفصیلات میں پنہاں ہوتی ہے جو عموماٌ سامنے نہیں لائی جاتیں یا  نظر سے اوجھل رہتی ہیں۔ 

سینیٹ اپوزیشن جانے یا حکومت کہ ان کے درمیان مشاورت ہوتی ہے یا نہیں  مگر ہمیں تو یہ اندازہ ہے کہ جن پالیسیوں پر بھرپور مشاورت  ہوئی  بھی ان  میں سے  بھی  اکثر   کا آخری  مقام مقفل دراز اور بند فائل  ہی  بنا۔  اصل مسئلہ تو پالیسیوں پر عمل درآمد ہے۔ پالیسیاں  بنانے میں تو ہمارے  100  میں 100 کیا بلکہ 200   نمبر  ہوں گے  مگر عمل درآمد میں بالعموم پاس نمبر بھی نہیں مل پاتے۔ علامہ اقبال کا  ایک شعر ہمارے دوہرے معیار پر کیا خوب چست ہوتا ہے:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے

من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

دور کیا جانا، اے پی ایس سانحے کے بعدبیس نکات پر مشتمل  ایک عدد نیشنل ایکشن پلان تشکیل پایا۔   اس ایکشن پلان کا بھی سب سے بڑا مسئلہ نان ایکشن ہی رہا۔  اس سے قبل جب ملک میں دہشت  گردی کے  جِن نے  بوتل سے باہر ہر جگہ ہڑبونگ مچائی  ہوئی تھی، 2009   میں انٹیلی جنس اور قومی  سلامتی  کے ذمہ دار اداروں کے  باہمی  تعاون اور اشتراک  کو مربوط کرنے کے لئے  نیکٹا کے نام سے ایک ادارہ تشکیل  دیا گیا ۔ دہشت گردی کی دھما چوکڑی کے باوجود اس ادارے کے اختیارات اور وسائل کی فراہمی  کے اسباب مہیا کرنے کے لئے مزید چار پانچ سال لگ گئے، 2013 میں جا کر ایک ایکٹ پارلیمنٹ میں  پیش ہوا کہ مسمی نیکٹا کا فریم ورک کیا ہوگا اور کیسے کام کرے گا۔

روایتی کہانیوں کی طرح اس کے ساتھ بھی  وہی ہوا جو ایسی کہانیوں کا  طے شدہ  اختتامیہ  ہوتا ہے،   وسائل کی فراہمی، اداروں  کے درمیان اختیارات  کی کھینچا تانی اور برتری کے مول تول میں یہ  ایک بانجھ اور متروک ادار بن کر رہ گیا۔ کاغذوں پر قائم ہے گو کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی گونج بھی سال کے سال اے پی ایس کے سانحے کے یادگاری دن  سنائی دیتی ہے اور اس کے بعد  ایک لمبی چپ۔ لطائف کی حد ہی نہیں بلکہ  حقیقت میں یہی  دیکھا کہ جس بھی قضیئے پر مٹی ڈالنا مقصود ہو اس پر  تحقیقاتی کمیشن بٹھا دیجئے۔ اول تو رات گئی بات گئی کے مصداق  دنوں اور مہینوں کی دھول پڑنے سے وہ معاملہ  پبلک کی یاد سے محو ہوجاتا ہے۔ دوئم  حکومت اس  کے  ٹی او آرز  اس  چابکدستی سے بناتی ہے کہ  کمیشن کا ڈنک نکال دیتی ہے۔ اسی طرح  کمیٹی کمیٹی کا کھیل بھی  فوری نوعیت کے مسائل  سے جان چھڑانے کا آزمو دہ نسخہ ہے۔  دور کیا جانا پچھلے تین سالوں کے دوران کئی کمیشن اور کمیٹیا ں بنیں، نتائج کیا رہے؟ سب کے سامنے ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک کمیشن اس غرض سے بنایا کہ معلوم کیا جائے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ کیونکر  چڑھا اور  یہ کہ اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا  جائے۔ آٹے اور چینی کی قیمتیں بڑھیں تو  دھڑا دھڑ  کمیٹیاں بنیں   اور تحقیقات کے ڈول ڈالے گئے۔ پٹرول اور گیس کی شارٹیج ہوئی تو  بھی یہی  نسخہ کام آیا۔ ملک میں بجلی کا  بلیک آؤٹ  ہوا تو بھی  کمیٹی بنی۔ ان کمیٹیوں  میں سے اکژ کو تو بنانے والے بھی بھول بھال گئے۔ البتہ چند ایک نے جو رپورٹیں پیش کیں ان میں دو چار لوئر لیول افسران کے ذمے طویلے کی بلا باندھ کر  اصل ذمہ داروں کی گلو خلاصی کروا دی۔

پالیسیوں  کے اس  انبار  خانے  میں اب ایک اور پالیسی کا اضافہ  ہوا ہے۔ ماضی  کی گواہی لیں تو  اس کا نتیجہ ماضی کی پالیسیوں سے مختلف کیوں ہو۔   باہم اتفاق  کا  ابھی سے  یہ عالم ہے کہ  سینیٹ میں پہلی پیشی پر ہی اسے اپوزیشن نے  تنقید کے نشانے پر رکھ لیا۔ پالیسی بنانا آسان مگر اس پر عمل درآمد ہی اصل کامیابی ہے۔  دیکھئے نیشنل سکیورٹی پالیسی کی قسمت  کچھ الگ سامنے آتی ہے یا  پچھلی پالیسیوں  کے سنگ ہی اس کاسنگم ہوتا ہے۔