شہزادہ سلیمان کے اقدامات اور فواد چوہدری کے بیانات کا تجزیہ

بزرگوں سے سنی ہوئیں حکایات اور شہزادوں کی کہانیاں بچپن سے فطرت میں گوندھے ہوئے آٹے میں نمک کی طرح گھلی ملی ہوتی ہیں۔ انہی کہانیوں کی وجہ ہمیں بچپن سے بادشاہ اور شہزادے اچھے لگنے لگتے ہیں۔

بادشاہ اور شہزادے حقیقت میں کیسے ہوتے ہیں؟ بہت کم لوگ جانتے ہیں (یہی کم جانے جانا ان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا ہے ) ۔ لیکن ہمارا تصوراتی بادشاہ اور شہزادہ خوبصورت ،دیالو ،مددگار، رحم دل اور محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ تبھی تو ماں اپنے بچے کو شہزادہ کہتی اور لڑکیاں اپنے دل کے محل میں بیٹھی نامعلوم شہزادے کا انتظار کرتی ہیں۔ ماضی میں شہزادے جتنے کم اور عوام کی پہنچ سے دور تھے سوشل میڈیا کی وجہ سے اتنے زیادہ اور عام ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا صارف شہزادہ پرنس اور کنگ کے نام سے اپنا اکاؤنٹ بنا کر موجود ہے۔ میرے ایک دوست کو جب ماں بادشاہ بننے کی دعا دیتی تو وہ ہنس کر کہتا کہ مائیں بادشاہ کی خواہش پر اپنی اچھی خاصی دعائیں ضائع کر دیتی ہیں کیونکہ جتنی مائیں اور جتنے ان کے بیٹے ہیں اتنے ملک کہاں ہیں جہاں ان کے بیٹے بادشاہ بنیں۔ اس لئے ماؤں کو قابل حصول دعا مانگنی چاہیے۔

انسان کا پہلا پیار اپنے ساتھ ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو سنوارنا، بنانا، گروم کرنا، پروجیکٹ کرنا خود سے پیار ہی تو ہے۔ پھر خود کو شہزادے کا نام دینا، خود کو شہزادہ سمجھنا اس روایتی شہزادے سے پیار کا مظہر ہے جو قدیم حکایتوں اور دادی اماں کی سنائی ہوئی کہانیوں نے ہمارے دل میں بٹھایا ہے۔ عوامی دور ہے اس لیے بادشاہتوں کی طرح شہزادے بھی کمیاب ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اپنے ملک میں بھی بادشاہت اور شہزادے ہیں لیکن ملک غریب مقروض اور بدحال ہے اس لیے ہمارا شہزادہ، سعودی شہزادے اور ولی عہد شہزادہ سلیمان کی طرح خود مختار اور جرات مند نہیں، کہ جو دل میں آئے کر گزریں اور جو اپنے ملک کی ترقی کے لیے ضروری سمجھے، کرنے سے گریز نہ کریں۔ روایات توڑیں، زنجیریں توڑیں، پوجیے جہالت کے ابولہول توڑیں، اختیارات کا ارتکاز توڑیں، آزادیاں دیں، خوشیاں بانٹیں اور ترقی کی شاہراہ پر عشروں بعد آنے والی منزلوں کی نشاندہی کریں۔

سعودی عورتیں، جن کی بلوغت کا انتظار کیا جاتا، جو صرف شادی اور جنسی حظ کے لئے مختص تھیں، جو بچے پیدا کرتیں یا پرانی ہو کر نئی کے لئے جگہ چھوڑتیں، انہوں نے ان کو مردانہ چنگل، سماجی اختیار، روایاتی تنگنائی، فقیہانہ قیل و قال اور مولویانہ حدود و قیود سے آزاد کرنے کی شروعات کیں۔ عبا مرضی سے پہننا، نقاب خواہش پر کرنا، مرد کے بغیر سفر کرنا، اپنی مرضی کا جیون ساتھی چننا اتنی اہم آزادیاں نہیں ہیں، اصل آزادی جو شہزادہ سلیمان نے دی ہے وہ اپنی مرضی سے جینا اور جینے کا احساس کرنا بلکہ صرف جینا نہیں بلکہ انسان سمجھی جانا، کسی مرد کی ذمہ داری یا اشیائے صرف نہ سمجھی جانا ہے۔

کوئی کچھ کہے شہزادہ سلیمان میرا تو ہیرو اور شہزادہ ہے۔ جس نے سعودی معاشرے میں عورت کے وجود کو تسلیم کرایا۔ یقین نہ آئے تو ماضی کے شاہوں کے خاندانی نسلی شجرے اٹھا کے دیکھیں، کسی عورت کا وجود ہی نہیں۔ بس مردوں نے مرد پیدا کیے ہیں۔ شہزادہ سلیمان اس لیے بھی میرا ہیرو ہے کہ ان میں سچ بولنے کی جرات ہے، غلط کو غلط ماننے اور اسے ٹھیک کرنے کی جرات ہے۔ اپنے پیشروؤں کی غلطیوں پر حرف زنی کرنا بادشاہت میں بہت بڑا کام ہے۔ کیونکہ بادشاہت جتنی مضبوط ہوتی ہے اتنی ہی نازک۔ تبھی تو تنقید بالکل برداشت نہیں کرتی۔ جبکہ شہزادہ سلیمان نے ببانگ دہل کہا کہ شدت پسند اسلام کی ترویج کی خاطر دنیا بھر میں مساجد اور اسلامی مراکز کی تعمیر اور ان میں شدت پسندی کا پرچار ہم نے مغربی ممالک کی ضرورت اور خواہش پر کیا۔ مطلب یہ کہ ماضی کا جہادی کلچر، لٹریچر، بھرتی، آتش فشاں جہادی تبلیغات اور آتش بدہن مولوی سب کے سب اسلام کے تعلیمات کی ضرورت نہیں تھیں، مغرب کی خواہش پر ممولے کو شہباز سے لڑانے کی ترکیب تھی۔

دوسری طرف ہم ہیں کہ جب قیام کا وقت آتا ہے  سجدے میں گر جاتے ہیں۔ جب جناح کے پیچھے جانا تھا تو ہم مودودی اور سید قطب کے پیچھے ہولیے، جب اتاترک کا راستہ اپنانا تھا، ہم محمد بن قاسم کے پیچھے چل پڑے اور جب شہزادہ سلیمان کا راستہ پکڑنے کا وقت آیا ہم ارطغرل بننے کے لئے گھوڑے پر کاٹھی ڈالنے لگے ہیں۔ یعنی جب بھی لکشمی ہمیں تلک لگانے آتی ہے ہم منہ دھونے پر بضد ہو جاتے ہیں۔ جب عرب خود انگریزی سیکھنے کے لیے انگریز اساتذہ بھرتی کرتے ہیں تو ہم ستر ہزار عربی سکھانے کے اساتذہ بھرتی کر رہے ہیں۔ جب سرزمین اسلام پر چالیس چالیس ہزار افراد موسیقی کے کنسرٹ میں شامل ہوتے ہیں تو بزدار حکومت نئے سال کی خوشی میں منعقد ہونے والے موسیقی کے پروگرام اور آتشبازی پر پابندی لگانے کا اعلان کرتی ہے۔ جبکہ وزیراعظم صاحب بنک عملے کو شلوار قمیض پہنا کر معیشت کی بحالی کی نوید دیتے ہیں۔ جس طرح شلوار قمیض پہننے والوں نے افغانستان میں ”بینکنگ کے سودی نظام کا مکمل خاتمہ“ کر دیا تو پھر یقین نہیں آتا کہ فواد چوہدری اسی حکومت کے وزیر بیانات ہیں۔

شہزادے سلیمان کے ساتھ اپنے شہزادے کا موازنہ کر کے اصل شہزادے کی توہین مقصود نہیں کیونکہ انہوں نے لاکھوں سعودی خواتین کو پدرسری معاشرے سے آزادی کا راستہ دکھایا ہے، نہ ہمارا شہزادہ ان جیسا آزاد اور خودمختار ہے اور نہ ہمارا ملک ان کے ملک جیسا خوشحال ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی اپنے شہزادے کا نعرۂ مستانہ سن کر میرا دل رجائیت سے لبریز ہوجاتا ہے کیونکہ نقار خانے میں کوئی سنتا نہ بھی ہو تو کیا طوطا بولے بھی نہیں!

میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب وہ سچ بول پڑتا ہے تو حالات سے تنگ آ کر یا کسی کا نمائندہ بن کر ۔ کیونکہ بظاہر تو وہ حکومتی وزیر بیانات ہیں لیکن کبھی کبھی وزیر اطلاعات بھی لگتے ہیں جب وہ بولتا ہے کہ ”ماضی میں سیاسی اور خارجی وجوہات کی وجہ سے ملک میں انتہا پسندی بڑھی لیکن اسے روکنے کی کوششیں ناکافی ہیں۔ یہ انتہا پسندی مدارس کی وجہ سے نہیں بلکہ سکولوں اور کالجوں کی وجہ سے ہے جہاں ایک منصوبے کے تحت اسی اور نوے کی دہائی میں شدت پسندی کی تعلیم دینے والے اساتذہ بھرتی کیے گئے“ ۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ”ہمیں بھارت یورپ یا امریکا سے نہیں اپنے آپ سے خطرہ ہے۔ قائد اعظم کوئی مذہبی ریاست نہیں بنانا چاہتے تھے ایسا ہوتا تو عوام ابوالکلام آزاد اور مودودی کے پیچھے چلتے۔ ہم ایک طرف سے انتہا پسند طالبان اور دوسری طرف انتہا پسند ہندوؤں کی حکومتوں کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں“ ۔

اللہ کرے فواد چوہدری اپنا شہزادہ یا تبدیلی کی خوشخبری دینے والا پیغام رساں ہوں۔ کیونکہ حکومت تو روحانیت کے سپر سائنس، بنک عملے کو شلوار قمیض اور پنجاب میں ستر ہزار عربی اساتذہ بھرتی کر کے شدت پسندی کے مقابلے کے لئے ترقی معکوس کی دوڑ میں اول آنے کی خواہش مند ہے۔ اگر مندرجہ بالا اطلاعات فواد چوہدری کی ذاتی خواہش نہیں تو انہیں ابوالکلام اور مودودی کے ساتھ ساتھ ان سازشیوں کے نام بھی لینے چاہیے جنہوں نے امریکی مقاصد کی خاطر قرار داد مقاصد اور مبنی بر وہم نظریہ کا طوق قوم کے گلے میں ڈالا۔

جس طرح میرے ہیرو شہزادہ سلیمان نے اعتراف کیا کہ دنیا بھر میں مساجد اور اسلامی مراکز اور شدت پسند اسلام کو مغربی صلاح کاری اور مفادات کی خاطر پھیلایا، اسی طرح فواد چوہدری بھی جرات کر کے بتائیں کہ کس طرح چند لوگوں کی مالی منفعت کی خاطر پوری قوم اور ملک کو بارود کے ڈھیر پر بٹھا کر مہدی اور مسیح کا انتظار کرنے کے لئے تیار کیا۔ یہ بھی بتا سکتے ہیں تو بتا دیں کہ مغربی سرحد پر موجود انتہا پسند حکومت کیسے اور کہاں تیار ہوئی؟ ممکن ہے یہ سچ ہو کہ ہمارے شدت پسند سکولوں اور کالجوں میں تیار کیے گئے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مغربی سرحد پر بھوکی شدت پسندی پاکستانی مدرسوں میں پروان چڑھائی گئی جس کو موجودہ حکومت نے دو دفعہ تیس تیس کروڑ کے گرانٹ دیے۔

اگر فواد چوہدری صاحب موجودہ حکومت کے وزیر بیانات نہیں، بلکہ واقعی مستقبل کے وزیر اطلاعات ہیں تو پھر مجھے (شہزادہ سلیمان سے معذرت کے ساتھ) اپنے وزیر اطلاعات کو بھی شہزادہ فواد چوہدری کہنے میں کوئی باق نہیں۔ بیشک وہ ہمارے ملک کی طرح اصل شہزادے جیسا آزاد خود مختار اور خوشحال نہیں لیکن میں اسے اپنا ہیرو بنانے اور شہزادہ کہنے میں حق بجانب ہوں گا۔ کیونکہ پھر وہ تبدیلی آزادی سمت نمائی اور خوشحالی کی منزل کی نشاندہی کی خوشخبری دینے والا پیغام بر ہو گا اور خوشخبری لانے والے کو تمغے انعامات اور خطابات سے نوازا جاتا ہے۔ اس لئے محض خوشخبری دینے کی وجہ سے میں اسے شہزادہ فواد چوہدری سمجھتا ہوں۔ اگرچہ وہ آج تک حکومت کے وزیر بیانات ثابت ہوئے ہیں، وزیر اطلاعات نہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)