نسل کشی پر اکسانے کے خلاف بھارتی جرنیلوں اور سول سوسائیٹی کا احتجاج

  • ہفتہ 01 / جنوری / 2022
  • 5480

بھارتی مسلح افواج کے پانچ سابق چیفس آف سٹاف،فوجی افسروں، بیوروکریٹس اور سرکردہ شہریوں سمیت سو سے زیادہ نامور شخصیات نے ہندوتوا کے رہنماؤں کی جانب سے ملک میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کھلی دھمکی کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

صدر رام ناتھ کووند اور وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے گئے ایک کھلے خط لکھا  میں اس بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق خط میں حال ہی میں اتراکھنڈ کے شہر ہریدوار اور دہلی میں ہونے والے اجتماعات کے دوران عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں جیسی دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر ہے۔

خط میں ملکی سرحدوں کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا گیا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی اس طرح کی کھلی دھمکیاں نہ صرف اندرونی طور پر عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں بلکہ بیرونی قوتیں بھی اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ دکن ہیرلڈ کے مطابق خط میں لکھا ہے: ’ملک کے اندر امن اور ہم آہنگی کو پہنچنے والے نقصان سے دشمن اور بیرونی قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ فوج، سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز اور دیگر فورسز کے مرد و خواتین اہلکاروں کا اتحاد اور ہم آہنگی، ہمارے متنوع اور کثیر معاشرے میں ایک یا دوسری کمیونٹی کے خلاف تشدد کے لیے اس طرح کی بے بنیاد باتوں کی اجازت دینے سے شدید متاثر ہوگی‘۔

مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکیاں دینے والے ہریدوار میں ہندوتوا کے اجتماع ’دھرم سنسد‘ کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے خط میں لکھا ہے کہ ’ہم ہندوؤں کے دھرم سنسد نامی تین روزہ مذہبی اجتماع کے دوران کی گئی تقریروں کے مواد سے سخت پریشان ہیں۔ 17 سے 19 دسمبر 2021 کے درمیان ہریدوار میں سادھو اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے ہندو راشٹر کے قیام کی ضرورت اور ہندومت کے تحفظ کے نام پر ہتھیار اٹھانے اور بھارتی مسلمانوں کو قتل کرنے کے لیے بار بار مطالبات کیے گئے۔‘

خط میں دہلی کے ایک اور واقعے کا بھی ذکر ہے جب ہندوتوا کی تنظیموں کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد درالحکومت میں جمع ہوئی اور حلف لیا کہ بھارت کو ہندو راشٹر بنایا جائے گا اور اس کے لیے اگر ضروری ہوا تو لڑائی اور قتل عام کیا جائے گا۔ خط میں کہا گیا کہ اس طرح کے مزید فتنہ انگیز اجتماعات دوسری جگہوں پر منعقد کیے جا رہے ہیں۔

خط کے مطابق: ’ہم عوامی طور پر نفرت کے اظہار کے ساتھ اس طرح کے تشدد کو اکسانے کی اجازت نہیں دے سکتے جو نہ صرف داخلی سلامتی کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بنتا ہے بلکہ یہ ہماری قوم کے سماجی تانے بانے کو بھی تباہ کر سکتا ہے‘۔ اجتماع کے ایک مقرر نے بھارتی فوج اور پولیس کو ہتھیار اٹھانے اور نسل کشی مہم (صفائی ابھیان) میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

خط کے مطابق ’یہ فوج کو اپنے شہریوں کی نسل کشی میں حصہ لینے کے لیے اکسانے کے مترادف ہے اور یہ قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے‘۔ سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے بھی چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کو خط لکھا ہے جس میں سپریم کورٹ سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کی دھمکیوں کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

وکلا نے لکھا تھا کہ پولیس ایسے واقعات کو روکنے کے لیے فوری عدالتی مداخلت کی ضرورت ہے جو بظاہر روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ہریدوار میں منعقدہ ہندوتوا کانفرنس کا اہتمام ایک مذہبی رہنما یاتی نرسمہانند نے کیا تھا جن پر ماضی میں اشتعال انگیز تقاریر سے تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔