حکومت کو آئی ایم ایف اجلاس سے قبل منی بجٹ منظور کرانے کی کوئی جلدی نہیں

  • اتوار 02 / جنوری / 2022
  • 2730

حکومت ضمنی مالیاتی بل 2021  باضابطہ طور پر پیش کرنے کے لیے آئندہ ہفتے سینیٹ کا اجلاس بلائے گی۔  تاکہ ایک آئینی تقاضے کو پورا کیا جا سکے۔

توقع ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ پاکستان کے جائزے کو جنوری کے آخری ہفتے میں ہونے والی اگلی بورڈ میٹنگ تک مؤخر کر دے گا۔ ٹیکس اور ڈیوٹیز سے متعلق کچھ قوانین میں ترمیم سے متعلق فنانس بل اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2021 کی منظوری پاکستان کے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے چھٹے جائزے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔

خیال رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 12 جنوری کو ہونے والا ہے جس میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کابینہ کے ایک سینئر رکن نے ڈان کو بتایا کہ حکومت پیر کو سینیٹ کا اجلاس طلب کر سکتی ہے تاکہ وزیر خزانہ شوکت ترین فنانس (ضمنی) بل 2021 پیش کر سکیں جیسا کہ آئین کے آرٹیکل 73 کے تحت ضروری ہے۔

غور طلب ہے کہ دونوں بلزکی قومی اسمبلی میں پیش کرنے سے ایک روز قبل 29 دسمبر کو ایوان بالا کی کارروائی ملتوی کردی گئی تھی۔ اس التوا نے کچھ حکومتی اراکین سمیت سب کو حیران کر دیا تھا کیونکہ تاثر یہ تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے دونوں بلز کو قانون کی شکل دینے کے لیے 12 جنوری کی آخری تاریخ مقرر کی تھی۔

تاہم وزارت خزانہ کے ایک سینئر اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ فنڈ نے کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی تھی۔  پاکستان کا جائزہ اب بھی 12 جنوری کو ہونے والے آئی ایم ایف بورڈ کے اجلاس کے ایجنڈے میں ہے اور وزارت نے اجلاس کے لیے درکار دستاویزات ارسال کردی ہیں۔  آئی ایم ایف بورڈ باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتا ہے اور پاکستان کے جائزے کو مؤخر کرنے کے لئے رابطہ کیا جا چکا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے قبل ازیں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ جنوری کے وسط تک فنانس بل پارلیمنٹ سے منظور کر لیا جائے گا اور آئی ایم ایف کو پہلے ہی نظرثانی کو دوبارہ شیڈول کرنے کا کہا جا چکا ہے۔