نئی سوچ اور فکر کی ضرورت
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 02 / جنوری / 2022
- 4710
پاکستان کی سیاست کا ایک مجموعی نقطہ منفی طرز پر مبنی سیاست کا کھیل ہے۔ اس کھیل نے ہماری سیاست، جمہوریت اور معاشرتی سیاسی اقدار کو تماشہ بناکررکھ دیا ہے۔کوئی بھی سیاسی، سماجی، مذہبی یا معاشرتی فورم یا بحث کے مراکز ہوں سب ہی مثبت پہلووں کے مقابلے میں منفی طرز کے پہلو نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
تنقید کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے اور یہ عمل معاشرے کی اصلاح میں معاونت کا کردار ادا کرتا ہے۔مگر یہاں تنقید کم او رتضحیک کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ ہم مجموعی طور پر ایک دوسرے کی شعوری یا لاشعوری طور پر تضحیک کرکے نہ صرف خوش ہوتے ہیں بلکہ ہمیں طمانیت کا احسا س ہوتا ہے۔ہم اس فکری مغالطہ کا شکار ہیں کہ محض اپنے سچ کو ہی مکمل سچ اور دوسروں کے سچ کو جھوٹ پر مبنی بیانیہ سمجھتے ہیں۔اسی طرح اپنی رائے کو دوسروں پر مسلط کرنا بھی ہماری فکر کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ ماحول عملی طور پر سیاسی، سماجی،مذہبی اور فکری بنیادوں پر انتشار، نفرت اور ایک دوسرے کے وجود کو قبول نہ کرنے کی روش کو تقویت دے رہا ہے۔
اس وقت ہم قومی سیاست کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم نے منفی سیاست کو اپنے مخالفین کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پارلیمانی مباحث کو دیکھیں تو واقعی شرم آتی ہے کہ کس منفی طر زعمل کے ساتھ ہمارے ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ کو محاز آرائی کا مرکز بنادیا ہے۔ منی بجٹ میں جو کچھ پارلیمنٹ میں ہوااور جو ہاتھا پائی دیکھنے کو ملی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی سیاسی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان ہی غلطیوں کو دہرا کر سیاسی نظام کو خراب کررہے ہیں۔جو گالم گلوچ، منفی اور تضحیک پر مبنی گفتگوارکان پارلیمنٹ کرتے ہیں تو سیاسی کارکن یہ ہی رویہ کیونکر سیاسی مخالفین کے خلاف استعما ل نہ کریں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت محاذ آرائی پر مبنی اس سیاست کو اپنی سیاسی طاقت سمجھتی ہے۔ کیونکہ نان ایشوز کی سیاست میں محازآرائی پر مبنی طرز کی سیاست قیادت کے مفاد میں ہوتی ہے اور وہ لوگوں کو غیر حقیقی یا غیراہم ایشوزمیں رکھنے کو ہی اپنی سیاسی طاقت سمجھتے ہیں۔سیاسی جماعتوں او رقیاد ت کا کام قوم میں اپنے ایجنڈے کے تحت امید پیدا کرنا، بہترمستقبل کا خاکہ پیش کرنا، پہلے سے جاری خرابیوں پر اپنا متبادل نظام پیش کرنا،لوگوں کو متحرک، منظم اور تنظیم میں تبدیل کرنا، لوگوں کو مسئلہ کے حل میں مسئلہ بنانے کی بجائے مسئلہ کے حل کی طرف لانا یا جوابدہی، شفاف نظام کو پیش کرنا ہوتا ہے۔لیکن یہاں سیاسی قیادت چاہے وہ حکومت میں ہو یا حزب اختلاف کی سیاست کاحصہ ہوں لگتا ہے کہ وہ مسئلہ کے حل کی بجائے بگاڑ پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بن گئے ہیں۔
ہمارے ٹی وی ٹاک شوز ہوں یا اخبارات کی اہم سرخیاں کو دیکھیں یا علمی و فکری مباحث کو دیکھیں تو ہمیں چند پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔ اول مباحث میں امید کے پہلو کم اور مایوسی کا بیانیہ زیادہ ہوتا ہے او رمنظرنامہ اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ ہم تباہ ہوگئے ہیں اور بچنے کا کوئی راستہ ممکن نہیں۔ دوئم تنقید کی بجائے ہماری گفتگو میں دوسروں کے بارے میں تضحیک کا پہلو نمایاں ہوتا ہے او ریہ پہلو ایک منظم سیاسی ایجنڈے کا حصہ بھی ہوتا ہے۔سوئم متبادل بیانیہ دینے کی بجائے ماضی یا حال کا ماتم کرتے ہیں او رمستقبل پر ان کی نظر کم ہوتی ہے۔چہارم ہم طاقت کے مراکز کو کمزور کرنے او ران کے منفی طرزپر مبنی ایجنڈے پر مزاحمت کرنے کی بجائے خود کو اس کا حصہ بنا کر اپنی طاقت کو بھی قائم کرتے ہیں۔
میڈیا کے محاذ پر سیاسی ایجنڈا کی وجہ سے اہم سیاسی، سماجی، معاشی، قانونی، معاشرتی معاملات پیچھے چلے گئے ہیں۔ جو بیانیہ بن رہا ہے وہ محض سیاست میں ایک دوسرے کی مخالفت بن کر رہ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری مجموعی ترقی کا عمل بھی متاثر ہورہا ہے۔ہمارا بنیادی کام ریاست کے نظام کو شفاف بنانا ہوتا ہے۔ ایسا نظام جو عام لوگوں کی توقعات کے مطابق ہو او ران کے بنیادی حقوق کا ضامن ہو۔ یہ ہی عملی طور پر ریاست،حکومت اور معاشرے کے ساتھ لوگوں کے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔اس وقت ہماری ریاست، حکومت اور معاشرے سمیت ادارہ جاتی سطح پر مختلف نوعیت کے سنجیدہ چیلنجز موجود ہیں۔ ان چیلنجز سے ہمیں کیسے نمٹنا ہے او رکیسے ایک متبادل بیانیہ دے کر نظام کی نئے انداز سے تشکیل نو کرنی ہے، یہ ہی ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔ہماری علمی و فکری مباحث میں اصل ایجنڈا کہ ہم نے کیسے اپنے نظام کو درست کرنا ہے او ریہ عمل روائتی یا فرسودہ طور طریقوں سے نہیں بلکہ نئی جدیدیت کی بنیاد پر کام سے ہوگا۔
یہ کام سیاسی جماعتوں سے زیادہ معاشرے میں رائے عامہ بنانے والے طبقات جن میں سول سوسائٹی او رمیڈیا سرفہرست ہیں کو کرنا ہے اور ان کو موجودہ ریاستی یا حکومتی یا طرز حکمرانی کی خامیوں کی نہ صرف نشاندہی کرنی ہے بلکہ ان کا معقول حل بھی پیش کرنا ہے۔ لوگوں کو اس بات پر قائل کرنا ہوگا کہ وہ بھی زندہ باد یا مردہ باد سمیت شخصیت پرستی کے کھیل میں خو د کو الجھانے کی بجائے ایک نئے کردار میں خود کو پیش کریں جو قومی مسائل کے حل میں بہتری لائے۔ معاشرے میں لوگوں کے سیاسی او ر سماجی شعور کو آگے بڑھانا ہوگا اور ایک متبادل بیانیہ پیش کریں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا رائے عامہ بنانے والے افراد یا ادارے ایک متبادل ایجنڈے کے لیے تیار ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر یہ لوگ تیار نہیں تو ہمیں ان کے مقابلے میں نئی قیادت، افراد یا اداروں کو سامنے لانا ہوگا۔کیونکہ ہم ایسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں اپنے بحران کے حل کے لیے ایک نیا متبادل نظام درکار ہے۔