یکم جنوری اور پراٹھوں کا ناشتہ

سال کے پہلے دن کا آغاز میں نے دیسی گھی کا پراٹھا کھا کر کیا ہے، انجام خدا جانے۔ جو بندہ یکم جنوری کو موٹیویٹ نہیں ہو سکتا اس کا سال کے باقی مہینوں میں کیا حال ہو گا یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل کام نہیں۔

دل تو میرا چاہ رہا ہے کہ میں رضائی اوڑھوں اور لمبی تان کے سو جاؤں، دو تین گھنٹے بعد اٹھوں، دال چاول کھاؤں اور پھر سو جاؤں۔ رات کو ایک ولیمے میں شرکت کرنی ہے، شادی کے کھانے کا اپنا مخصوص ذائقہ ہوتا ہے، اس سے پرہیز کرنا کفران نعمت ہے، لہذا وہ کھانے کے بعد میں خدا کا شکر بجا لاؤں گا، واپسی پر کسی کیفے میں بیٹھ کر اچھی سی کافی پیوں گا، سگار کے کش لگاؤں گا، رات کو سونے سے پہلے کوئی فلم دیکھوں گا اور بالآخر ڈیڑھ دو بجے پھر سو جاؤں گا۔ اس سارے منصوبے میں مشکل مگر یہ ہے کہ میں نے آپ کو موٹیویٹ کرنا ہے کیونکہ سال کی شروعات ہے اور ایک لکھاری خود چاہے کچھ کرے نہ کرے، دوسروں کو موٹیویٹ ضرور کرتا ہے۔ سو میں بھی کوشش کرتا ہوں۔

سال کا پہلا مشورہ یہ ہے کہ دن میں کم ازکم بارہ گھنٹے سوئیں، اچھی نیند صحت کے لیے بہت ضروری ہے، جب آپ بارہ گھنٹے بعد سو کر اٹھیں گے تو آپ کو لگے گا جیسے آپ دوبارہ زندہ ہوئے ہیں، یہ احساس بے حد اطمینان بخش ہوتا ہے۔ کبھی کبھار لمبی نیند کے بعد دوبارہ سونے کو بھی جی کرتا ہے، اس میں بھی کوئی حرج نہیں، آپ مزید دو چار گھنٹے بھی سو سکتے ہیں، بالآخر بندے نے اپنی قبر میں بھی تو سونا ہی ہے، لہذا دنیا میں ہی اس کی مشق کر لی جائے تو بہتر ہے، ویسے بھی اس دنیا کے میلے تو کبھی ختم نہیں ہوں گے، آپ جاگیں یا سوئیں، جئیں یا مریں، دنیا یونہی اندھا دھند دوڑتی رہے گی، ایسی دنیا کے پیچھے بھاگنے سے بہتر ہے بندہ اپنی نیند پوری کرے۔

سولہ سترہ گھنٹے کی نیند کے بعد جب آپ ہشاش بشاش اور چاق و چوبند ہو کر اٹھیں گے تو خود کے بے حد موٹیویٹڈ پائیں گے، یہ وہ لمحہ ہو گا جب آپ خود میں سب کچھ کر گزرنے کی طاقت اور صلاحیت محسوس کریں گے، اس لمحے آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ آپ نے باقی کا دن کیا کھا کر گزارنا ہے۔ کچھ لوگ بیدار ہوتے ہو فوراً ورزش کرنے لگتے ہیں، یہ نہایت بد ذوقی کی علامت ہے، ورزش کس وقت اور کیسے کرنی چاہیے اس پر ہم بعد میں بات کریں گے، پہلے کچھ بات کھانے کی ہو جائے۔ اس بات پر تو ماہرین غذائیات، طبیب، حکما، ڈاکٹر سب متفق ہیں کہ صبح کا ناشتہ ڈٹ کر کرنا چاہیے۔ آپ جب دوپہر اڑھائی تین بجے سو کر اٹھیں گے تو ظاہر ہے کہ ناشتے کا وقت گزر چکا ہو گا بلکہ بیشتر شرفا تو اس وقت تک دوپہر کا کھانا بھی کھا چکے ہوتے ہیں مگر آپ نے گھبرانا نہیں ہے، آپ کے لیے ناشتے کا وہی وقت ہے جب آپ بیدار ہوتے ہیں۔ اس وقت کا بھرپور استعمال کریں اور مقوی ناشتے سے دن کی شروعات کریں۔

پائے، بونگ، نہاری، کلچے، چنے، کھد، یہ تمام چیزیں غذائیت سے لبریز ہوتی ہیں، آپ ان میں سے کسی ایک یا دو کا انتخاب کر کے ناشتے کا آرڈر کر سکتے ہیں۔ خود کہیں جانے کی ضرورت نہیں، آج کل ان کھانوں کی ’ہوم ڈیلیوری‘ با آسانی ہو جاتی ہے، آپ اپنے لحاف میں لیٹے لیٹے بھی کھد کلچے کھا سکتے ہیں۔ صرف ایک مسئلہ ہے کہ دوپہر کے بعد یہ ناشتے نہیں ملتے، مگر اس کا آسان حل یہ ہے کہ آپ گھر کے کسی ایسے بندے کے سپرد یہ کام کریں جو صبح خیزی کے نام نہاد فوائد سے متاثر ہو کر تڑکے ہی جاگ جاتا ہو۔ اسے کہیں کہ وہ آپ کے لیے یہ ناشتہ منگوا رکھے۔ کچھ لوگ کلچوں کو نان کے ساتھ کنفیوز کر دیتے ہیں، یہ گناہ صغیرہ کے زمرے میں آتا ہے، یہ لطیف نکتہ سمجھ لیں کہ کلچہ تل والا ہوتا ہے اور قدرے سرخ ہوتا ہے جبکہ نان پر تل نہیں ہوتے اور وہ نسبتاً نرم ہوتا ہے، دونوں کو چائے میں ڈبو کر بھی کھایا جا سکتا ہے، البتہ کلچے کو ڈبونا افضل ہے، نیز کلچے کے ساتھ خالص مکھن لگا کر کھانے کا مزا علیحدہ ہے، تاہم یہ کام سٹارٹر کے طور کر کیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔

 لیجیے آپ ایک آئیڈیل دن کے آغاز کے لیے تیار ہیں۔ اب بے شک خود کو بستر سے باہر نکال لیں، اپنے ہاتھوں اور بازوؤں کو کھولیں، ایک آدھ مرتبہ ٹانگوں سے ہوا میں سائیکل چلائیں، بس ہو گئی ورزش، اس سارے کام میں زیادہ سے زیادہ ایک سے دو منٹ صرف ہونے چاہئیں ورنہ آپ تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں اور پھر باقی کے آٹھ گھنٹے کچھ نہیں کر پائیں گے۔ جی ہاں آپ کا ٹارگٹ اب صرف آٹھ گھنٹے گزارنا ہے، ذرا سوچیں کہ ایک شخص جو علی الصبح بیدار ہوا تھا اس نے دن میں سولہ گھنٹے گزارنے ہیں اور آپ نے فقط آٹھ، یہیں سے آپ کے اور اس کے معیار زندگی میں فرق آ جائے گا کیونکہ سولہ کے مقابلے میں آٹھ گھنٹوں کا بلند معیار زندگی برقرار رکھنا پچاس فیصد زیادہ آسان ہے۔ سادہ حساب ہے۔

سال کا چونکہ آغاز ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ نئے سال کی منصوبہ بندی میں تمام دن صرف کریں، خیال رہے کہ یہ دماغی کام ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ آپ ساتھ ساتھ کوئی قوت بخش خوراک بھی لیتے رہیں، جو ناشتہ آپ نے کیا تھا وہ ورزش کے بعد ہضم ہو جائے گا لہذا اس کی فکر نہ کریں۔ کامل یکسوئی کے ساتھ نئے سال کا عہد نامہ تشکیل دیں۔ ویسے تو ہر شخص کا عہد نامہ مختلف ہو گا مگر کچھ اہداف بہرحال مشترک ہی ہوتے ہیں جیسے وزن کم کرنا، زیادہ پیسے کمانا، باہر جانا، وغیرہ۔ بعض نادان لوگ یکم جنوری کو کچھ زیادہ ہی موٹیویٹڈ ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امسال وہ تمام اہداف حاصل کر لیں جو وہ گزشتہ بیس برسوں میں حاصل نہیں کر پائے، ایسے لوگ نہایت نا معقول قسم کا عہد نامہ بناتے ہیں اور پھر اکتیس دسمبر کو روتے ہیں کہ اب کی بار بھی کچھ نہیں کر پائے۔ لہذا آپ کے لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ نئے سال کے موقع پر ایسا عہد نامہ بنائیں جس پر عمل کرنا بالکل آسان ہو تاکہ سال کے کسی بھی حصے میں ضمیر ملامت کرنے کی جرات نہ کر سکے۔

مثلاً اگر آپ کا عہد نامہ یہ ہو کہ امسال آپ نے کچھ بھی نہیں کرنا، ورزش تو کیا چہل قدمی سے بھی پرے بھاگنا ہے، مرغن غذائیں کھانی ہیں، پیسے کمانے کی طرف توجہ نہیں دینی، کسی کتاب کو پڑھنے کی نیت سے ہاتھ نہیں لگانا، گھر میں گھس کر بیٹھے رہنا ہے، کہیں باہر نہیں نکلنا، تو سال کے آخر میں آپ کو احساس ہو گا کہ آپ نے کیا کچھ پا لیا ہے۔ اگر آپ نے ایک کتاب بھی پڑھ لی یا اپنی آمدن میں ایک روپے کا بھی اضافہ کر لیا یا گھر سے نکل کر ریلوے سٹیشن تک ہی چلے گئے تو یہ ایسی کارکردگی ہوگی جس پر آپ بجا طور پر خود کو شاباش دے سکیں گے۔

اب ایک آخری مشورہ۔ ان لوگوں سے بالکل متاثر نہ ہوں جو سردیوں میں صبح چھ بجے اٹھ جاتے ہیں، دو گھنٹے ورزش میں وقت برباد کرتے ہیں یا ناشتے میں آدھے سلائس پر چاندی کے ورق کی طرح مکھن لگا کر کھاتے ہیں اور ساتھ میں بلیک کافی زہر مار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی بالآخر فوت ہی ہوتے ہیں۔ اب جبکہ یہ طے ہے کہ انسان نے مر ہی جانا ہے تو اکتیس دسمبر کو جشن منانے کی بجائے ماتم کرنا چاہیے کہ زندگی کا ایک اور برس کم ہو گیا۔ جگر مراد آبادی سے معذرت کے ساتھ، ’میرا پیغام مایوسی ہے جہاں تک پہنچے۔

کالم کی دم: مجھے خدشہ ہے کہ کچھ لوگ اس کالم سے بھی موٹیویشن کشید کر لیں گے کہ اگر زندگی کا ایک برس کم ہو نا ہی ہے تو کیوں نہ اس ایک برس میں کچھ پانے کی کوشش کی جائے۔ بقول منیر نیازی : ’ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے‘ ۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)