کیا پاکستانی عدلیہ جمہوریت کی حفاظت کرسکے گی؟

ملک  کے جمہوری نظام میں عدلیہ کا کردار بلا شبہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے تاہم ماضی کے عدالتی فیصلوں اور جمہوریت، سیاست اور اسٹبلشمنٹ   کے گرد ہونے والے مباحث میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ  کیا کسی  نئے بحران میں پاکستانی اعلیٰ عدلیہ ماضی کے برعکس اس بار  جمہوری روایت اور آئینی   تقاضوں کی حفاظت کا اہتمام کرسکے گی۔

  یہ سوال یوں بھی زیادہ اہمیت اختیار کرچکا ہے کیوں کہ پاکستانی نظام میں عدالتیں ایسے قومی لیڈروں کو سیاست سے بے دخل کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہیں جنہیں اس وقت بھی عوام کی تائد و قبولیت حاصل ہے اور جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف دائر مقدمات کا تعلق کسی جرم سے نہیں بلکہ ان کی سیاسی حیثیت سے ہے۔ پاناما کیس میں  نواز شریف کو  نااہل قرار دینے سے متعلق سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ  دو لحاظ سے  مثال کی حیثیت رکھتا ہے جسے جمہوریت کی بالادستی میں عدلیہ کے کردار کے حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس فیصلہ میں نواز شریف کو  کسی بدعنوانی یا کسی  جرم کی پاداش میں سزا نہیں دی گئی تھی بلکہ  امارات میں اپنے بیٹے کی کمپنی میں اعزازی عہدہ کی تنخواہ   ظاہر نہ کرنے پر ’ نا قابل اعتبار‘   کہاگیا تھا کہ  وہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت صادق  و امین نہیں رہے ۔ اس لئے وہ کسی عوامی عہدہ پر فائز نہیں ہوسکتے۔ اس کے علاوہ  یہ فیصلہ ایک ایسی آئینی شق کے تحت کیا گیا جس کے خلاف اپیل کا حق مسدود ہے۔

یوں  بھی ان آئینی شقات کو اعلیٰ اخلاق کا معیار بنانے کے لئے  سابق فوجی حکمران جنرل  ضیا الحق نے   متعدد ترامیم کی تھیں۔  رکن اسمبلی  کے صادق و امین ہونے کے بارے میں ترمیم بھی اسی دور میں آئین کا حصہ بنائی گئی تھی۔  اس شخص  نے آئین شکنی کے نتیجے میں اقتدار سنبھالا  تھا اور آئین معطل رکھ کر  یا اس میں من مانی ترامیم  کے ذریعے ملک پر  ایک دہائی  سے زائد مدت تک حکومت کی تھی۔ حتی کہ ایک فضائی حادثہ میں ان کا انتقال ہوگیا۔   ملک کی اعلیٰ عدلیہ  نے نہ تو اس آمرانہ دور میں اور نہ ہی بعد میں فیصلے کرتے ہوئے اس پہلو پر غور کی ضرورت محسوس کی۔  ملک کی وزارت عظمی کے عہدے پر فائز پہلے یوسف رضا گیلانی اور پھر نواز شریف کے خلاف ان شقات  کا اطلاق کرتے  ہوئے  ان شقات  کو  آئین میں شامل کرنے کے پس منظر پر غور  نہیں ہؤا بلکہ ان کے لفظی مفہوم  سے کام چلایا گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ دونوں عدالتی فیصلے مسلسل متنازعہ  رہے ہیں اور انہیں ملک میں وسیع تر قانونی تناظر میں قبول نہیں کیا گیا۔

نواز شریف کے خلاف پاناما کیس  کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سو موٹو اختیار کے تحت کارروائی کی تھی۔ یعنی یہ عدالتی حکم ایک ایسی آئینی شق کے تحت جاری کیا گیا تھا جس کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی۔ وزیر اعظم کو  نااہل قرار دینے کے لئے  باقاعدہ قانونی طریق کار کے تحت کارروائی کرنے کی بجائے انسانی حقوق کے تحفظ  کے لئے عدالت عظمی کو حاصل خصوصی اختیار کے تحت حکم  جاری کرنا    ،  جمہوری  روایت  کے تقاضوں کے برعکس کارروائی تھی۔  قانون کی بنیاد پر استوار کسی بھی معاشرہ میں  عام شہری سے لے کر ملک کے سب سے بااختیار عہدے پر فائز شخص کی جواب دہی بنیادی اور لازوال اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم اس کا اطلاق عدالتوں کے ججوں پر بھی ہوتا ہے۔ خاص طور  پاکستان جیسے ملک میں جہاں طاقت ور ادارے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور عوامی رائے کے برعکس فیصلے ٹھونسنے میں ملوث رہے ہوں۔  اور  ماضی میں عدالتیں   ان کا آلہ کار  رہی ہوں۔ ایسے میں اعلیٰ عدلیہ  کو خاص احتیاط کرنے اور بہت چوکنا ہو کر فیصلے کرنے کی ضرورت  ہے۔ بدقسمتی سے  یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف کو نااہل  کرنے کے جوش میں اس احتیاط کا مظاہرہ  نہیں کیا گیا۔ اسی لئے یہ دونوں فیصلے خود مختار عدلیہ   کے عکاس ہونے کی بجائے، ایک خاص مزاج اور طاقت کے ایک خاص مرکز کی خوشنودی کا پرتو سمجھے گئے ہیں۔

پاناما کیس  سے شروع ہونے والا تنازعہ ابھی تک اپنے حتمی انجام کو نہیں پہنچا ہے حالانکہ  نواز شریف کو  احتساب عدالتوں سے سزا مل چکی  ہے ۔    ان فیصلوں کے دوران عدلیہ پر دباؤ کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں  کو اگر نظر انداز بھی کردیا جائے تو بھی اس حقیقت سے  نگاہیں نہیں پھیری جاسکتیں کہ ابھی تک زیریں عدالتوں  سے مشکوک  شواہد کی بناید پر ملنے والی سزاؤں پر ہائی کورٹ میں  عدالتی کارروائی پوری نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے  کہ ملکی سیاست  نواز شریف کو ملنے والی سزا  کے سحر سے آزاد نہیں ہوسکی۔  اس پس منظر میں ملکی عدلیہ  پر  یہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ  انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے ایسے ہائی پروفائل کیسز کے فیصلوں کو مؤخر رکھنے کی کوششوں کو ناکام بنائے  تاکہ عدالتوں کو سیاسی اکھاڑے میں ہتھکنڈے کے طور  پر استعمال نہ کیا جاسکے۔ یہ کام اسی وقت  ممکن ہوگا جب  عدالتوں سے بروقت فیصلے سامنے آئیں گے اور یہ تاثر زائل ہوگا کہ ملکی اعلیٰ عدلیہ اب اتنی حوصلہ مند اور باشعور ہوچکی ہے کہ وہ   نہ تو اسٹبلشمنٹ کا  آلہ کار بنے گی اور نہ  ہی سیاسی  حکومت یا لیڈروں  کو سیاسی مقاصد کے لئے عدالتوں کا کندھا فراہم کرے گی۔ بدقسمتی سے  شریف خاندان اور زرداری خاندان کے خلاف مقدمات میں مسلسل تاخیر  کے علاوہ شوکت صدیقی جیسے سابق ججوں کے  بیانات   عدلیہ کی پوزیشن کو کمزور  کرتے ہیں۔

حال ہی میں سامنے آنے والے دو معاملات کا تعلق بھی ایک  طرف قومی سیاست سے ہے تو دوسری طرف  ان کا سرا عدالتوں میں زیر سماعت نواز شریف کے خلاف مقدمات سے جا ملتا ہے۔  ان میں اسے ایک معاملہ  وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ بیان ہے کہ ’ شہباز شریف نے ضمانت دی تھی کہ وہ چار ہفتوں کے بعد اپنے بھائی کو وطن واپس لے کر آئیں گے ۔ کیوں کہ ایسا نہیں ہوا اس لئے حکومت ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گی۔ حکومت نے اٹارنی جنرل سے کہاہے کہ وہ  اس معاملہ میں لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں‘۔  اس معاملہ میں جو بھی پیش رفت ہو لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اعلیٰ عدالتیں نہ چاہنے کے باوجود  قومی سیاست میں جاری  کشمکش کا حصہ بن رہی ہیں۔

اس حوالے سے دوسرا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کا نوٹس چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خود لیا ہے۔  یہ معاملہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کے ایک بیان حلفی کے بارے میں ہے جو انہوں نے  گزشتہ سال نومبر کے دوران لندن کے  ایک نوٹری پبلک کے سامنے دیا تھا اور اسے  سیل کرکے لندن میں ہی محفوظ کردیا تھا۔ اب یہ بیان حلفی اصل حالت میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم  پر عدالت میں پیش کیا جاچکا ہے۔  انگریزی اخبار دی نیوز کے صحافی انصار عباسی نے 15 نومبر کو ایک رپورٹ میں اس بیان حلفی کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اس میں رانا شمیم نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے  فون پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج  کو  جولائی 2018 کے انتخابات سے پہلے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت قبول نہ کرنے  کی ہدایت کی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے  چیف جسٹس اطہر من اللہ  اس خبر کو ان معنوں میں  عدلیہ کی آزادی اور زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیتے ہیں کہ  اس میں  اسلام آباد ہائی کورٹ   کے ججوں کا ذکر ہے حالانکہ نیوز کی خبر میں ججوں کا نا م شامل نہیں تھا۔ تاہم اب رانا شمیم کے علاوہ میر شکیل الرحمان ، نیوز کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر  عامر غوری اور رپورٹر انصار عباسی کے خلاف توہین عدالت  میں فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا  گیاہے۔ یہ فرد جرم 7 جنوری کو عائد ہوگی جس میں اٹارنی جنرل پاکستان پراسیکیوٹر  ہوں گے۔ اس  حوالے سے  جسٹس اطہر من اللہ نے  31 دسمبر  کوحکم جاری کیا  ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’روزنامہ میں شائع ہونے والے بیان حلفی کے مندرجات سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور اس کے ججوں کے بارے میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ بادی النظر میں اس کا مقصد عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا اور انصاف کی فراہمی میں مداخلت کرنا ہے‘۔

عدالتی حکم میں  یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ ’عدالت یہ سمجھتی ہے کہ میر شکیل الرحمان، عامر غوری اور انصار عباسی کا کردار محض اتنا ہے کہ انہوں نے خبر کی اشاعت کے حوالے سے مناسب احتیاط سے کام نہیں لیا‘۔ تاہم  حکم  میں صحافیوں کے اس مؤقف کو مسترد کیا گیا ہے کہ یہ خبر ’عوامی مفاد‘ میں شائع کی گئی تھی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ’کسی پروفیشنل صحافی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ ’عوامی مفاد‘ کے نام پر ایسی خبرشائع کرے جس کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہ ہو‘۔  یوں تو ایک دستاویز کی بنیاد  پر  شائع ہونے والی  ایسی خبرجس کے مواد کی درستی کے بارے میں خود رانا شمیم اعتراف کررہے ہیں اور  جسے  فاضل  جج ملاحظہ بھی کرچکے ہیں،  صحافیوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی  بلاجواز ہے۔ لیکن اگر اس حکم کے بعد انصار عباسی کی کی دائر کردہ درخواست  پر غور کیاجائے تو معاملہ کی نزاکت اور پیچیدگی کا   اندازہ کیا جاسکتا ہے۔  اسی مشکل کی وجہ سے فاضل عدالت کو اس معاملہ  میں صحافیوں کو توہین  عدالت کا مرتکب  قرار نہیں دینا چاہئے۔

انصار عباسی نے جسٹس اطہر من اللہ کے حکم  میں تبدیلی کے لئے ایک  درخواست دائر کی  ہے ۔ اس میں  کہا ہے  کہ ’ان (انصار عباسی اور عامر غوری) سے پوچھا گیا کہ کیا وہ حلف نامے کی صورت میں موجود کسی ایسی دستاویز کو شائع کریں گے جو جھوٹ پر مبنی ہو اور جس کا مقصد عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا ہو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اگر ایسا کرنا مفاد عامہ میں ہو تو وہ ایسا کریں گے کیونکہ ان کا کردار صرف ایک ’پیغام رساں‘ کا ہے‘۔  درخواست میں انصار عباسی  کا کہنا ہے کہ ’درخواست گزار معزز عدالت کے سامنے مذکورہ بالا بیان نہ ہی دے سکتا تھا اور نہ ہی ایسا بیان دیا گیا۔ اس لئے  معزز عدالت سے درخواست کرتا ہے کہ وہ  ان  الفاظ کو  حکم سے خارج کرنے کا حکم دے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ کسی کلرک کی  غلطی یا شاید درخواست گزار کی ناقص ابلاغی صلاحیت کی وجہ سے یہ حکم کا حصہ بن گئے ‘۔

غور کیا جاسکتا ہے  کہ جب ایک معاملہ پر متعدد سماعتوں اور صحافیوں سے سوال جواب کے متعدد سیشنز کے بعد کسی عدالتی حکم میں  کوئی ایسا بیان شامل ہوسکتا ہے جس پر   کسی باقاعدہ کارروائی سے پہلے ہی اختلاف سامنے آیا ہے تو مزید تفصیلات کے دوران عدالت کو کن مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم میں  انسانی حقوق کی یورپی عدالت  کے 1997 کے ایک  مقدمہ  ’وورم  بمقابلہ آسٹریا‘ کا  حوالہ دیا گیا ہے جس میں ایک صحافی کی  طرف سے ملکی اعلیٰ عدالت کی سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی۔  اسلام آباد ہائی کورٹ  کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ  میں یہ نظیر قائم ہوئی  ہے کہ اگر کوئی صحافی عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ  اپنی صحافتی حدود اور آزادی رائے کے حق سے تجاوز کرتا ہے۔

اس حوالے سے محض یہ حقیقت سامنے لانا مطلوب ہے کہ اس مقدمہ میں ایک صحافی کو خبر شائع کرنے پر نہیں بلکہ ایک زیر سماعت مقدمہ  پر   ایک مضمون میں ملزم کو ’قصور وار‘ قرار دینے پر سزا دی گئی تھی حالانکہ یہ مقدمہ عدالت  کے زیر غور تھا اور ملزم کے قصور کا حتمی فیصلہ نہیں ہؤا تھا۔ انصار عباسی نے اپنی رپورٹ میں محض ایک بیان حلفی کی بنیاد پر  خبر دی تھی۔ اس خبر میں نہ توکوئی رائے دی گئی ہے اور نہ ہی  عدالتی کارروائی کو غلط یا درست قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ تفصیلات درحقیقت جمہوی نظام میں عدالتوں کے کردار اور ذمہ داری کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستانی عدالتوں کو بھی معاملات کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہوئے اپنے  کردار کا تعین کرنا چاہئے تاکہ   وہ آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تحفظ  کے لئے عوام کی امیدوں پر پورا اتر سکیں۔ پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کا ایسا ہی  متوازن اور ذمہ دارانہ رویہ ماضی میں   ظہور پذیر ہونے والی کوتاہیوں کا تدارک کرسکے گا۔