حلال کھانا اور برطانوی جیل میں اسلامی انقلاب

اسّی کی دہائی کے اوائل میں راقم جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ میں تھا۔ شلز نامی ایک فرم میں کام کرتا تھا جہاں میری ڈیوٹی یہ چیک کرنا تھا کہ آیا سٹور سے نکلنے والا گاڑیوں کا سامان واقعی بل کے مطابق تھا۔ اسے آپ فرم کی سیکورٹی بھی کہہ سکتے ہیں۔ 

ہر روز کنٹین کی دیوار پر لگی  مینیو لسٹ  دیکھ کر ہر ملازم کو اپنا اپنا کھانا صبح دس بجے تک آرڈر کرنا ہوتا تھا۔ کنٹین میں آرڈر نمبر بھی اسی وقت جاری کر دیا جاتا۔ ایک بجے لنچ کا وقت مقرر تھا۔ ہر آدمی جب ایک  بجے کنٹین میں جاتا تو کنٹین لیڈی کو اس کی طرف سے جاری چٹ دکھا کر اپنا کھانا وصول کر لیتا۔ میں ان دنوں شام کو  لنگوا راما انسٹیٹیوٹ میں جرمن زبان کی کلاسیں بھی لیتا تھا۔ لنچ کے وقت میں جرمن زبان کے کورس کی اپنی کتاب بھی کبھی کبھی کھول کے دیکھتا اور مجھے بعد میں اندازہ ہوا کہ اس طرح جرمن ملازمین کے دل میں میری عزت بڑھنے لگی۔ 

ایک دن میں اپنی پلیٹ کنٹین سے اٹھا کر ابھی میز پر گیا ہی تھا کہ کنٹین میں کھانے تیار کرنے والی خاتون میرے پاس آئی اور کہا کہ آج جو کھانا میں نے آرڈر کیا اس میں سور کا گوشت ملا ہوا ہے لیکن چونکہ کھانے پر آرڈر نمبر تھا نہ کہ نام اس لیے اب آپ نے جب اٹھایا تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو غلط ہو گیا۔  میں نے اس کا شکریہ ادا کر کے  کھانا واپس کر دیا۔ اتنے میں قریبی میز پر سے فرم کا ڈائریکٹر اٹھا اور اپنی پلیٹ میرے سامنے رکھ کر کہا میں یہودی ہوں۔ ہم بھی حلال کھانا کھاتے ییں۔ آپ یہ کھا لیں۔

 میں نے کہا آپ کیا کھائیں گے تو ڈائریکٹر نے کہا اس کے پاس کار ہے وہ باہر جا کر قریبی ریسٹورنٹ میں کھا لے گا۔ میں جرمنی میں نیا نیا تھا۔ کھانوں کے سارے نام جرمن زبان میں تھے تو یہ تسلی کرنا مشکل تھا کہ کس سالن میں کیا یے۔  اس فرم کے اندر میں واحد مسلمان تھا۔ جس دن وہاں گوشت پکتا تو اس دن حلال گوشت پکا کر میرے اور یہودی ڈائریکٹر کے لیے الگ رکھ دیا جاتا۔ ہم جب اکٹھے بیٹھ کر کھاتے تو عیسائی ہماری طرف دیکھ کر ہنستے۔  میں وجہ پوچھتا تو وہ مزید ہنستے

اس ڈائریکٹر نے مجھے رہائش کے بارے پوچھا تو میں نے کہا اتنی اچھی نہیں ہے۔  میں زبان سیکھتا ہوں مگر وہاں سارے غیر ملکی ہیں۔  ایک دو دن بعد فرم کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر میرے پاس ائی۔  کافی پی اور چلی گئی۔  اس کے آنے جانے کا سلسلہ جب طویل ہونے لگا تو میرے ذہن میں بہت سارے سوالات جنم لینے لگے جن کا جواب مجھے اس دن ملا جب ایک دن اس نے کہا تم چھٹی کے وقت میرا انتظار کرنا۔ تجسس اور بڑھ گیا۔ وہ اپنی کار پر آئی مجھے کار میں بٹھایا اور پھر کہا ڈائریکٹر نے مجھے تمہارے مکان کے لیے کہا تھا۔ میرے پاس تین فلیٹس ہیں۔ ایک خالی ہے، تمہیں وہ دکھانا یے۔ راستے میں گپ شپ سے مجھے اندازہ ہو گیا کہ دوران ڈیوٹی کبھی کبھار میرے پاس آ کر تبادلہ خیال کرنے کا مقصد میری شخصیت کا جائزہ لینا تھا۔ 

میں نے مزاحیہ طور پر اسے پوچھ ہی لیا کہ کیا میں پاس ہو گیا ہوں تو اس نے مسکرا کر کہا جی ہاں۔  وہ مکان بہت خوبصورت اور فرنش تھا۔ ایک دفعہ انگلینڈ سے ایک فیملی آئی جس نے پوچھا یہاں اور کون رہتا ہے۔ میں نے کہا کوئی نہیں تو اس فیملی کی بڑی اماں بولی  پتر جی۔۔۔ عورت کے بغیر کوئی مرد اور وہ بھی آپ کی طرح نو عمر مکان کو اتنا صاف ستھرا نہیں رکھ سکتا۔ سیدھے بتاؤ کوئی شادی وادی تو نہیں کی ہوئی۔  یہ ایک اور نقطہ نظر تھا۔ لوگ کیا کیا سوچتے ہیں واقعی میری مالک مکان ٹھیک کہتی تھی صرف دیکھنے سے انسان کا پتہ نہیں چلتا۔ کھوج لگانی پڑتی یے۔ 

جرمنوں کے ساتھ رہ کر میں نے جلد جرمن سیکھ لی۔  ذوالفقار علی بھٹو کے چھوٹے فرزند شاہنواز بھٹو سٹٹگارٹ آئے۔ ہماری ملاقات طے ہوئی مگر اس دن عدالت نے مجھے ایک جرمن اور پاکستانی کے جھگڑے کی سماعت پر بطور مترجم عدالت میں بلا لیا۔ جب میں نے سٹٹگارٹ کے بجائے شٹٹگارٹ کہا تو جج نے پوچھا جرمن لہجہ کہاں سے سیکھا تو میں نے کہا یہاں ہی سے۔ اکثر غیر ملکی شٹٹگارٹ کو سٹٹگارٹ کہتے ہیں۔ جج نے کہا آپ وکالت کریں لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ میرا دل اب کشمیر میں اٹک گیا ہے۔  شٹٹگارٹ میں پہلی بار ہم نے ایک بہت بڑا پروگرام منعقد کیا جہاں اپنوں نے ہی ہمارے لیے بہت مسائل پیدا کیے لیکن ہم سر خرو ہوئے۔ 

میرے اس مکان میں پہلے امان اللہ خان اور چند ماہ بعد ڈاکٹر سید نذیر گیلانی صاحب بھی چند دن بطور مہمان رہے۔ یہ گھر حقیقت میں  جرمنی میں کشمیر ہاؤس بن گیا تھا۔   ٹھیک دوسال بعد میں برطانیہ میں مقبول بٹ شہید کی جان بخشی کے لیے پکڑے گئے بھارتی سفارتکار مہاترے کیس میں گرفتار ہو گیا۔  جیل کے جس ٹاپ سیکورٹی یونٹ میں ریاض ملک، صدیق بھٹی اور مجھے رکھا گیا اس میں حلال کھانے کا تصور تک نہیں تھا۔ یہ ریمانڈ سینٹر تھا جہاں ہم نے سبزی پر گزارا کیا۔ جب ہمیں بڑی جیلوں میں منتقل کیا گیا تو ہمیں ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ ریمانڈ میں بھی ہم الگ الگ سیلوں میں تھے۔  مجھے انگلینڈ کی ایک دور دراز جیل فرینک لینڈ میں منتقل کیا گیا۔

پاکستانی قیدیوں کو مجھے دیکھنے کا بہت شوق تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ نہ تو میری  سلطان راہی کی طرح بڑی پونچھیں ہیں اور نہ بھڑکیں تو میں ان کے نزدیک صفر ہو گیا۔ لوگ حقیقت کو بھول کر آپ کے بارے قائم تاثر کے مطابق آپ کے ساتھ برتاؤ کرتے ہیں۔ میں پاکستانیوں کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہیں چاہتا تھا لیکن امیج بحال کرنا ضروری تھا۔  میں نے پاکستانیوں کو تجویز دی کہ داروغوں کی پٹائی کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں تنگ کرتے ہیں، تو وہ تتر بتر ہو گئے۔ بعد میں انہیں بلا کر میں نے کہا کہ میں انہیں صرف آزمانا  چاہتا تھا کیونکہ آپ میرا شریفانہ رویہ دیکھ کر جو ریمارکس دیتے رہے ان سب کا مجھے علم ہے۔  میں نے انہیں بتایا کہ بدمعاش اور حریت پسند میں فرق ہوتا ہے۔ 

ہم سب نے مل کر جیل کے اندر حلال کھانے کی مہم چلائی۔ ہمیں حلال گوشت ملنے لگا مگر انگریز جیل افسران جس جمچے کے ساتھ حرام گوشت ڈالتے اسی کے ساتھ حلال گوشت ڈال کر حلال اور حرام کا فرق مٹا دیتے۔  جب ہم نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کا کھانا لگ رکھا جائے تو یہودی قیدیوں نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔  گورنر نے کہا مختلف مذہب کے  قیدیوں کے لیے مختلف باورچی رکھنا میرے لیے ممکن نہیں، اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ پوری جیل کا گوشت حلال قصاب سے منگوایا جائے کیونکہ غیر مسلموں کے لیے مسلم حلال گوشت   کھانے  میں کوئی امر مانع نہیں۔  جیل گورنر نے از راہ تفنن اسے ’جیل میں مسلم انقلاب‘ قرار دیا۔