قومی سلامتی پالیسی

پاکستان کے داخلی اور خارجی مسئلہ کا ایک بنیادی نقطہ قومی سلامتی، خود مختاری اور قومی سیکورٹی پر مبنی ہے۔ عمومی طور پر ہم اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھ کر محض اسے ایک سیکورٹی کے تناظر میں دیکھنے کے عادی ہیں۔ہمیں محسوس یہ ہوتا ہے کہ شاید یہ مسئلہ ایک انتظامی نوعیت سے جڑا ہے اور اس کا بڑا تعلق بھی انتظامی نوعیت کے اداروں کی صلاحیت اور معاملات سے نمٹنے تک محدود ہے۔

 لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاست کی قومی سلامتی یا خودمختاری کسی ایک نقطہ تک محدود نہیں ہوسکتی بلکہ یہ ایک مجموعی جامع پیکج کا حصہ ہے۔ اس عمل میں ہر ادارہ دوسرے ادارہ کے ساتھ جوڑ کر اپنی پالیسی اور حکمت عملی کو وضع کرکے عملدرآمد کے نظام کو مضبوط او رمربوط بناتا ہے۔ یہ ہی سوچ اور فکر عملی طو رپر ریاستی سیکورٹی کو مجموعی طور پر مستحکم کرنے کا سبب بنتی ہے۔حال ہی میں ریاست او رحکومت دونوں کی ایک مشترکہ کوشش سے  قومی سیکورٹی پالیسی 2022-2026کو حتمی شکل دی گئی ہے۔نیشنل سیکورٹی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو اس کے اہم خدوخال یہ ہیں۔ اول یہ پالیسی محض انتظامی یا سیکورٹی مسائل تک محدود نہیں بلکہ اس کا احاطہ کرتے ہوئے سات اہم نکات کو بنیاد بنایا گیا ہے جن میں قومی اہم آہنگی، طرز حکمرانی، معاشی تحفظ، انسانی تحفظ، علاقائی تحفظ، داخلی استحکام او رتحفظ اور خارجہ پالیسی کا استحکام شامل ہیں۔ دوئم یہ پالیسی مختلف نوعیت سے جڑے مسائل او رمعاملات کے بارے میں ایک واضح پالیسی، گائیڈ لائن،حکمت عملی،  اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرتی ہے۔سوئم یہ پالیسی  واضح کرتی ہے کہ ہماری ترجیحات کا ایک مرکزی نقطہ جیو اسٹرٹیجک سے جیو معیشت کی طرف ہوگا۔ چہارم ہمیں خود کو علاقائی تنازعات، جنگ یا ٹکراو میں الجھنے، دوسروں کے معاملات میں بے جا مداخلت یا حصہ دار بننے سے گریز کرنا ہے۔ پنجم علاقائی ممالک بشمول بھارت سے بہتر تعلقات قائم کرنا او رماضی کی تلخیوں میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی طرف پیش رفت کرنا ہوگا۔ششم نیشنل سیکورٹی فریم ورک کا اہم مقصد عام شہریوں کا تحفظ او رعزت و احترام کو یقینی بنانا او را سے معیشت کی ترقی سے جوڑنا ہے۔

بنیادی طور پر جب ہم علاقائی یا عالمی سطح پر موجود چیلنجز سے نمٹنے کی بات کرتے ہیں تو اس کا اہم نقطہ سب سے پہلے خود اپنے داخلی معاملات کا جائزہ یا تجزیہ کرکے اپنے مسائل کی نشاندہی کرکے اس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی اور عملدرآمد کا نظام درکار ہوتا ہے۔ کیونکہ جب تک ہم اپنے داخلی معالات سے جن میں مختلف تضادات پر مبنی پالیسیاں موجود ہوتی ہیں کا موثر، بہتر اور شفاف علاج نہیں کرتے تو پھر ہم کیسے ان علاقائی یا عالمی چیلنجز سے نمٹ سکیں گے، خود بڑا سوالیہ نشان ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے قومی سطح پر موجود تمام فریقین میں یہ اتفاق رائے موجود ہو کہ ہمارے مسائل کیا ہیں۔کیونکہ مسائل کی درجہ بندی کرتے ہوئے جو سیاسی، سماجی، علاقائی تقسیم ہمارے یہاں موجود ہے وہ ہی اتفاق رائے کو پیدا کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔اس لیے داخلی اور خارجی مسائل کے درمیان اہم اہنگی پیدا کرنا اور پھر مشترکہ طور پر ان سے نمٹنا ہی ہمارا مشترکہ چیلنج بھی ہے۔

یہ جو معیشت اور سیاسی استحکام کی بات کی جارہی ہے دونوں کے درمیان باہمی تعلق کو پیدا کرکے ہی ہم سیاسی او رمعاشی استحکام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام جن میں حکومت او رحزب اختلاف کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی یا ایک دوسرے کے سیاسی وجود کو تسلیم نہ کرنا اور معیشت جیسے اہم اور حساس معاملہ میں عدم اتفاق کی پالیسی یا ایک دوسرے پر سیاسی اسکورنگ کی جنگ نے سیاست او رمعیشت کی ترقی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح سول ملٹری تعلقات کی بہتری کا قائم ہونا بھی ناگزیر ہے او راسے حریف کے طور پر دیکھنے کی پالیسی نے  فریقین میں ٹکراو کا ماحول پیدا کیا ہے جس سے فریقین کو باہر نکل کر جمہوری اقدار سمیت اعتماد سازی کے ماحول کو آگے بڑھانا ہوگا۔ان اہم چیلنجز کا اگر ہم نے مقابلہ کرنا ہے تو ہماری اولین ترجیح مختلف اداروں کی سطح پر اصلاحات کے نظا م کو موثر بنانا او ر ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی کو اپنی اہم ترجیحات کا حصہ بنانا ہوگا۔ ادار ہ جاتی عمل یا اصلاحات کو بنیاد بناتے ہوئے افراد کی طاقت کے مقابلے میں ہمیں اداروں کی سطح پر خود مختاری کو قائم کرنا او ران کو افراد کے مقابلے میں قانون کی حکمرانی کے تابع کرنا ہوگا۔

اسی طرح سے ہمیں ریاستی، حکومتی یا اداروں کی سطح پر قومی سیکورٹی سے جڑے معاملات یا وہ افراد یا ادارے یا گروہ جوکسی بھی سطح پر انتہا پسندی  کو بنیاد بنا کر ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں یا اسے کمزور کرتے ہیں ان پر سمجھوتوں یا پسند و ناپسند کی پالیسی یا کمزوری کا پہلو کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ اس تاثر کی ہر سطح پر نفی ہونی چاہیے کہ ہم بطور ریاست یا حکومت خودہی ایسے عناصر کی بے جا حمایت کرتے ہیں یا ان کے بارے میں ہمدردی کا پہلو رکھتے ہیں جو ریاست کو یرغمال بنانے کو اپنی سیاست کا ایجنڈا سمجھتے ہیں۔قومی سیکورٹی پالیسی کی کامیابی کا ایک بڑی فکر سیاسی او رمذہبی جماعتوں یا اہل دانش یا رائے عامہ بنانے والوں میں ملکیت کا احساس ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہم مختلف نوعیت کی سیکورٹی پالیسی کو بناتے تو ضرور ہیں لیکن سیاسی جماعتیں یا رائے عامہ بنانے والے اس کی قیاد ت کرنے کی بجائے پیچھے کی صف میں کھڑے ہوتے ہیں یا ان میں اعتماد سازی کا فقدان ہوتا ہے۔ اس لیے یہ مطالبہ کافی حد تک وزن رکھتا ہے کہ اس قومی سیکورٹی پالیسی کو بھی پارلیمنٹ سمیت ہر فورم پر بحث کے لیے پیش کیا جائے تاکہ اس دستاویز کی بارے میں لوگوں میں نہ صرف شعور پیدا ہو بلکہ اس کی ملکیت کا احساس بھی مضبوط بنیاد پر استوار ہوسکے۔اس تاثر کی نفی ہونی چاہیے کہ یہ دستاویز محض کسی ایک ادارے کا حصہ ہے او راس کا مقصد دیگر اداروں پر اس پالیسی کو مسلط کرنا ہے۔

سیاست، جمہوریت، پارلیمانی نظام او رقانون کی حکمرانی کا اہم جز ہی اصلاحات او راداروں کی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر یہ ایجنڈ ا کسی ترجیحی سیاست کا حصہ نہ بنے تو قائم کردہ تمام اہم پالیسیوں کے نتائج ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔ اسی طرح اس پالیسی کی نگرانی اور جوابدہی کے نظام کے لیے ہمیں ادارہ جاتی سطح پر ایک مضبوط میکنزئم درکار ہوگا جو تسلسل کے ساتھ اس پالیسی کی بنیاد پر جائزہ، تجزیہ، موازنہ کرکے اس میں شفافیت کے عمل کو قائم کرنا ہوگا۔اس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر قائم کردہ اپیکس کمیٹیاں کو وزیر اعظم اور وزیر اعلی کی صدارت میں قائم ہیں ان کو فعال کرنا ہوگا۔اس پالیسی کی سیاسی ساکھ اورصحت کو قائم کرنے کے لیے ہمیں سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر زیادہ سرگرم ہونا ہوگا او ربھرپور فعالیت کے ساتھ اس پالیسی کی تشہیر کو ممکن بنا کر اپنا سافٹ امیج بھی قائم کر کے اس تاثر کی نفی کرنا ہوگی کہ ہم  کسی تضاد کی بنیاد پر اپنی قومی سیکورٹی پالیسی کو چلار ہے ہیں۔

قومی سیکورٹی پالیسی کا بننا اچھا اقدام ہے لیکن اس سے بھی بڑھ کر اہم کام اس پالیسی کو بنیاد بنا کر اپنی داخلی پالیسیوں او رحکمت عملی سمیت اس پر عملدرآمد کے نظام کو موثر اور شفاف بنانا ہماری ترجیحی سیاست و حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔جب کسی پالیسی پر قوم ساتھ کھڑی ہو او راس کو واقعی یہ احساس ہو یہ ہی پالیسی ہماری سیاسی خود مختاری او ربقا کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے تو وہ اس کا حصہ بن کر خود بھی انفرادی یا اجتماعی سطح پر اپنا موثر کردار ادا کرکے ریاستی نظام کو موثر بناتے ہیں۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی گورننس یا طرز حکمرانی کی مدد سے بہتری پیدا کرکے لوگوں میں اعتماد پیدا کریں کہ ریاست ان کے ساتھ کھڑی ہے او راس کی پالیسی میں کوئی تضاد نہیں۔