2030 تک چینی معیشت امریکہ سے آگے نکل سکتی ہے: ماہرین
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- بدھ 05 / جنوری / 2022
- 5810
خیال ہے کہ چین آنے والے عشروں میں اپنی معیشت کو امریکی معیشت سے آگے لے جانے کے لئے برآمدات پر انحصار کے بجائے ملکی سرمایہ کاری، اعلیٰ ٹیکنالوجی اور اندرونِ ملک کھپت پر انحصار میں اضافہ کرے گا۔
برطانیہ میں 'سنٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ' کی پیش گوئی ہے کہ 2025 تک چین کی سالانہ معاشی پیداوار کی شرح5.7% رہنے کا امکان ہے اور پھر اس میں 4.7% سالانہ اضافہ ہوگا۔ اس پیش گوئی میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کی معیشت جو اس وقت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، 2030 میں دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گی۔ یعنی امریکہ سے آگے نکل جائے گی۔ یہی پیش گوئی ایک اور مالیاتی کمپنی 'ایولر ہرمز' نے بھی کی ہے۔
وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ عشرے میں چینی لیڈروں نے فیکٹریوں میں تیار کردہ روایتی برآمدی اشیا کی بجائے اندرونِ ملک بننے والی اشیا پر انحصار کرنے پر زیادہ زور دیا۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی تنازعے اور سال 2020 میں کووڈ19 کی وجہ سے کام بند ہونے کے باعث فیکٹریوں میں اشیا کی تیاری پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
کثیر الملکی بیرونی کمپنیاں چین سے باہر ویتنام جیسے ملکوں میں مال کی تیاری کو ترجیح دے رہی ہیں تاکہ اجرت اور ماحولیاتی تبدیلی کے ضابطوں پر عمل کرنے سے بڑھنے والی لاگت سے بچا جاسکے۔ پھر 2020 میں کووڈ19 کے لاک ڈاؤن میں فیکٹریاں بند ہونے کی صورتِ حال دوبارہ پیدا ہونے کا امکان بھی کم نظر آتا ہے۔
چین کی معیشت گزشتہ بیس برس سے تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ تاہم بہت سے شعبوں میں بہت حد تک سرکاری عمل دخل رہا ہے۔ اب اقتصادی ماہرین توقع کر رہے ہیں کہ بعض کلیدی شعبوں پر سرکاری کنٹرول میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہ 'ایسٹ ویسٹ سنٹر' نامی تھنک ٹینک سینئر فیلو ڈینی روئے کہتے ہیں کہ بیجنگ کے پاس فنڈز بھی ہیں اور اندرونِ ملک بلا رکاوٹ سیاسی طاقت بھی جس کی مدد سے وسیع سرکاری خزانے کو ایسی سرمایہ کاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو چینی قیادت کے قومی اور عالمی منصوبوں میں مدد دے سکے'۔
امکان ہے کہ چینی لیڈر پیداوار میں اضافے کے لئے ٹیکنالوجی کو ترجیح دیں گے۔ ایک چینی ماہر کا کہنا ہے کہ اگر چین ٹیکنالوجی میں خودمختار ہو جاتا ہے اور پھر ٹیکنالوجی کی مصنوعات اور سروسز کی فروخت کے قابل ہو جاتا ہے تو یہ اس کی معیشت کے لئے بہت فائدہ مند ہو گا، کیونکہ امریکی معاشی پیداوار میں یہی کلیدی عنصر ہے۔
میکنزی اینڈ کمپنی نے چینی صارفین سے متعلق 2021 کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سال 2021 سے پہلے جب چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی تنازعے نے دنیا میں چینی اشیا کی تجارت کم کر دی تھی تو چینی پیداوار کا بڑا انحصار اندرونِ ملک خرچ کی گئی رقوم پر تھا۔ اور اسی دوران نہ صرف ترسیلات مستحکم ہوئیں بلکہ مقامی سطح پر جدت میں بھی اضافہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کا درجہ حاصل ہونا بذاتِ خود دوسروں پر کوئی بہت بڑا ہدف نہیں ہے لیکن جو ملک چینی معیشت پر انحصار کرتے ہیں وہ اس کو ضرور دیکھیں گے۔