عمران خان کی طرف سے پی ٹی آئی فنڈنگ کی اسکروٹنی کا خیر مقدم
- بدھ 05 / جنوری / 2022
- 3230
وزیراعظم عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اسکروٹنی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی فنڈنگ کی بھی اسکروٹنی کے منتظر ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اسکروٹنی کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف سامنے آیا تھا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے فنڈز حاصل کیے، فنڈز کم دکھایا اور درجنوں بینک اکاؤنٹس چھپائے۔
آج ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ میں سمندر پار پاکستانیوں کے عطیات سے ہونے والی پی ٹی آئی کی فنڈنگ پر الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ ہمارے اکاؤنٹس کی جتنی زیادہ جانچ پڑتال کی جائے گی، قوم کے لیے اتنے ہی حقائق کی وضاحت سامنے آئے گی کہ کس طرح پی ٹی آئی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد درست سیاسی فنڈ ریزنگ پر ہے۔
ایک اور ٹوئٹر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی بھی اسی طرح کی اسکروٹنی کا منتظر ہوں۔ اس سے عوام کو درست سیاسی فنڈ ریزنگ اور قوم کے اخراجات پر احسان کے بدلے دوست سرمایہ داروں کے مفادات اور پیسے کی بھتہ خوری میں فرق دیکھنے کو ملے گا۔
الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کی جانب سے بڑی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات بتانے سے انکار اور پی ٹی آئی کے غیر ملکی اکاؤنٹس اور بیرون ملک جمع کیے گئے فنڈز کی تفصیلات حاصل کرنے میں کمیٹی کی بے بسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پارٹی نے مالی سال 10-2009 اور 13-2012 کے درمیان چار سال کی مدت میں 31 کروڑ 20 لاکھ روپے کی رقم کم ظاہر کی۔ سال کے حساب سے تفصیلات بتاتی ہیں کہ صرف مالی سال 13-2012 میں 14 کروڑ 50 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم کم رپورٹ کی گئی۔
یہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے دستخط شدہ سرٹیفکیٹ پر بھی سوالیہ نشان ہے، جسے پی ٹی آئی کے آڈٹ شدہ اکاؤنٹس کی تفصیلات کے ساتھ جمع کرایا گیا تھا۔ یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی جب الیکشن کمیشن نے تقریباً 9 ماہ کے وقفے کے بعد منگل کے روز پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی۔
یہ کیس 14 نومبر 2014 سے زیر التوا ہے اور اس وقت سے لے کر اب تک الیکشن کمیشن اور اسکروٹنی کمیٹی نے 150 سے زائد مرتبہ کیس کی سماعت کی جبکہ پی ٹی آئی نے 54 مواقع پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے اسکروٹنی کمیٹی مارچ 2018 میں تشکیل دی گئی تھی لیکن اسے اپنی رپورٹ ای سی پی کو پیش کرنے میں تقریباً چار سال لگے جو دسمبر 2021 میں جمع کرائی گئی تھی۔
اس سے پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے 26 اکاونٹس ہیں، جس میں سے 8 اکاونٹس فعال نہیں ہیں۔ انہوں نے 4 اکاونٹس سے اظہار لاتعلقی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان دنیا بھر سے فنڈز بھیجتے ہیں، لوگ عمران خان پر اعتبار کرتے ہیں۔ 6 اکاؤنٹس پی ٹی آئی کے نہیں بلکہ وہ ویلفیئر اکاؤنٹس ہیں۔ رپورٹ میں ایک اکاؤنٹ کی ٹرانزیکشن کو ڈبل دکھایا گیا، ایک ٹرانزیکشن 15 کروڑ اور ایک ٹرانزیکشن 16کروڑ کی ہوئی۔