ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں: آئی ایس پی آر

  • بدھ 05 / جنوری / 2022
  • 3340

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے ڈیل سے متعلق باتوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیل کے حوالے سے باتیں من گھڑت اور قیاس آرائیاں ہیں۔

میجر جنرل افتخار کی سال 2022 کی پہلی پریس کانفرنس اس وقت سامنے آئی جب دنیا میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا یوم حق خود ارادیت منایا جارہا ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق ڈیل کی خبروں کے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ڈیل سے متعلق سب باتیں بے بنیاد افواہیں ہیں جن پر ہم جتنی کم بات کریں اتنا بہتر ہے۔ ملک میں بات کرنے کے لیے اور بہت اہم ایشوز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ شام کے پروگرامز میں کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کردیا وہ کردیا۔ اسٹیبلشمنٹ کو ڈیل اور اس طرح کی باتوں سے باہر رکھا جائے، ڈیل کے حوالے سے باتیں من گھڑت اور قیاس آرائیاں ہیں۔ ڈیل کی باتیں کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ کون ڈیل کی باتیں کر رہا ہے اور اس کے محرکات کیا ہیں، کیا شواہد ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کچھ عرصے سے پاکستان کے اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے۔ اس مہم کا مقصد عوام اور ریاست کے درمیان دوریاں اور خلیج پیدا کرنا ہے۔ شرپسند لوگ بیرون ملک بیٹھ کر ملک کے خلاف جھوٹی مہم چلا رہے ہیں۔ شرپسند عناصر پہلے بھی ناکام ہوئے اور آئندہ بھی ناکام ہوں گے، ہم ان عناصر کے مذموم عزائم اور مقاصد سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے لنکس سے بھی باخبر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے۔ موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں۔ تنظیم غیر ریاستی عنصر ہے جو پاکستان میں کوئی بڑا حملہ نہیں کر سکی۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندورنی اختلافات بھی ہیں جبکہ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ کے تحت پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا مقصد دونوں ممالک کی سرحدوں اور لوگوں کو محفوظ بنانا ہے۔ باڑ لگانے کا کام 94 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔ یہ امن کی باڑ ہے جسے لگانے کے عمل میں ہمارے جوانوں کا خون شامل ہے جس کو ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مغربی سرحد پر 2021 میں صورتحال تشویشناک رہی۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے اثرات پاکستان کی سیکیورٹی پر پڑے تاہم پاک افغان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے بھارتی مظالم کے حوالے سے کہا کہ بھارتی فوج، دہشت گردی کے نام پر مظلوم کشمیریوں کو شہید کر رہی ہے جبکہ بھارت، لائن آف کنٹرول کے اردگرد بسنے والے لوگوں کو شہید کرچکا ہے۔ ایل او سی پر پورا سال امن رہا۔ بھارت کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ وہاں رہنے والے مقامی لوگوں کی زندگیوں میں بہتری آئی، لیکن ساتھ ہی بھارتی فوجی قیادت کی جانب سے الزام تراشی اور جھوٹا پروپیگنڈا مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے توجہ ہٹانے کے مخصوص ایجنڈے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی مظالم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ اگست 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی محاصرہ جاری ہے۔ 2021 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن کیا گیا اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کیا، طاقت کا استعمال صرف ریاست کا حق ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی گئیں اور 78 تنظیموں کے خلاف ایکشن لیا گیا جبکہ تھریٹ الرٹ کی صورت میں حملے روکنے میں 70 فیصد کامیابی ملی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی شاندار رہی۔ کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی، 2014 میں کراچی ورلڈ کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر تھا، آج کراچی ورلڈ کرائم انڈیکس میں 129ویں نمبر پر ہے۔

پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ معاشی صورتحال کا ہر شعبے میں عمل دخل ہوتا ہے۔ مگر ہمارے معاشی چیلنجز نئے نہیں ہیں اور اللہ کا شکر ہے مسلح افواج نے ملک کے بجٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اس میں اضافہ بھی کیا ہے۔

مہنگائی سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاک فوج کو بھی مہنگائی کا احساس ہے۔ پاک فوج عوام سے الگ نہیں، پاک فوج کا جوان اور افسر بھی ایسے ہی بازار سے جاکر اشیا خریدتا ہے جیسے عوام۔ جس طرح عوام مہنگائی سے متاثر ہوتے ہیں ویسے ہی پاک فوج کا جوان اور افسر بھی مہنگائی سے متاثر ہوتا ہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں مزید توسیع کے امکان سے متعلق سوال میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایسی بےبنیاد قیاس آرائیوں پر زیادہ بات کرنا مناسب نہیں۔