جولائی سے دسمبر تک تجارتی خسارہ 106.4 فیصد بڑھ گیا
- جمعرات 06 / جنوری / 2022
- 3520
پاکستان کا سالانہ تجارتی خسارہ 106.4فیصد اضافے کے بعد 25 ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا جس کی بڑی وجہ درآمدات میں 3 گنا اضافہ ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق مسلسل چھٹے ماہ تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔ اس کی بڑی وجہ برآمدات کا 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے 2 ارب 80 کروڑ کے درمیان رہنا ہے جبکہ زیادہ تر نیم تیار اشیا یا خام مال پر مشتمل درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہؤا ہے۔
مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ کم ہونا شروع ہرگیا ہے۔ دسمبر 2021 کے دوران پاکستان کی درآمدات ایک ارب ڈالر کم ہو کر 6 ارب 90 کروڑ ڈالر ہوگئی تھی جو نومبر 2021 میں 7 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔ دسمبر کے لیے درآمدات کا تخمینہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا۔
دسمبر میں اشیا کی تجارت کا خسارہ سالانہ بنیاد پر 85.38 فیصد بڑھ کر 4 ارب 85 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ درآمدات میں بلند ترین اضافے نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس، وِد ہولڈنگ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے میں مدد ملی۔
سال 2018 میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح 37 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔ تاہم حکومت کے اقدامات سے مالی سال 2019 میں یہ 31 ارب 80 کروڑ ڈالر، مالی سال 2020 میں 23 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک کم ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد مالی سال 2021 یہ خسارہ دوبارہ بڑھ کر 30 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
جون 2022 کے اختتام تک تجارتی خسارہ بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔ جولائی تا دسمبر 2021 کا درآمدی بل 65.94 فیصد بڑھ کر 40 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 24 ارب 45 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔
رواں مالی سال کا آغاز بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے ساتھ ہوا جس سے بیرونی جانب دباؤ پڑا جبکہ حکومت کی جانب سے خام مال کی درآمد کی حوصلہ افزائی سے بھی درآمدی بل بڑھا۔