عارف نقوی کی کمپنی نے 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی فنڈنگ کی تھی

  • جمعرات 06 / جنوری / 2022
  • 3920

کاروباری شخص عارف نقوی کی غیر ملکی کمپنی نے پاکستان تحریک انصاف کو 2013 کے عام انتخابات سے تھوڑا قبل 20 لاکھ ڈالرز کی بھاری رقم ادا کی تھی۔ 

یہ انکشاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کی جانے والی اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے۔ ووٹن کرکٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کی جانب سے دیے جانے والے ڈونیشن کو دیکھا جائےتو یہ شاید کسی بھی غیر ملکی کمپنی کی جانب سے دی گئی رقم ہے جس کی نشاندہی اسکروٹنی کمیٹی نے کی ہے۔ 

پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے مطابق، کوئی بھی پارٹی غیر ملکیوں یا کمپنیوں سے فنڈنگ نہیں لے سکتی اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والی سیاسی جماعت کو تحلیل کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کے سیکشن (3)6 میں لکھا ہے کہ بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی غیر ملکی حکومت، ملٹی نیشنل یا علاقائی سطح پر انکارپوریٹڈ پبلک یا پرائیوٹ کمپنی، فرم، تجارتی یا پروفیشنل ایسوسی ایشن سے فنڈنگ پر پابندی ہے اور جماعتیں صرف افراد سے رقوم یا ڈونیشن لے سکتی ہیں۔ 

سیکشن (4)6 میں لکھا ہے کہ اس قانون کے تحت ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے پر رقم بحق سرکار ضبط کرلی جائے گی۔ غیر ملکیوں سے فنڈنگ لینے کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں سیاسی جماعت کو تحلیل بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

آرڈر کے آرٹیکل 2 سی میں لکھا ہے کہ غیر ملکی مدد سے چلنے والی پارٹی کی تشریح اس انداز سے کی گئی ہے کہ ایسی جماعت جو غیر ملکی مدد، مالی یا کسی اور طرح سے حاصل ذریعے چلائی جا رہی ہو اور یہ مدد غیر ملکی حکومت یا کسی غیر ملک کی سیاسی جماعت کر رہی ہو۔ یا اس کی فنڈنگ کا کچھ حصہ غیر ملکی افراد ادا کر رہے ہوں۔ 

الیکشن کمیشن کی جس اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کی بات کی جا رہی ہے اس کے مطابق مبینہ طور پر کئی غیر ملکی افراد نے پی ٹی آئی کی فنڈنگ کی ہے۔ جہاں تک ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کی بات ہے تو یہ کمپنی 2013 میں عارف نقوی کی ملکیت تھی اور اس کے موجودہ اسٹیٹس کا علم نہیں۔ 

یہ بات بھی معلوم نہیں کہ کمپنی کو کس ملک میں رجسٹر کرایا گیا تاہم اِسی نام سے ایک آف شور کمپنی کو کیمن آئی لینڈز میں رجسٹر کرایا گیا تھا۔ عارف نقوی کے پاس برطانیہ کے آکسفورڈ شائر میں ایک گھر تھا۔ اس علاقے کا نام ووٹن پیلیس تھا۔ پی ٹی آئی کے ڈونر کی حیثیت سے عارف نقوی کا نام شہ سرخیوں میں رہا ہے اور یہ اطلاعات بھی تھیں کہ اگر وہ برطانیہ میں فراڈ کے مبینہ الزامات کے تحت گرفتار نہ ہوتے تو تحریک انصاف کی حکومت میں اُن کے پاس ایک اہم عہدہ ہوتا۔ 

عارف نقوی پر یہ الزامات امریکا نے عائد کیے تھے۔ أبراج گروپ سے قربت رکھنے والے برطانوی مصنف برائن بریواٹی نے لکھا ہے کہ جس وقت عارف نقوی گرفتار ہوئے، اُس وقت عمران خان انہیں وزیر خزانہ مقرر کرنے والے تھے۔

 عارف نقوی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں کچھ مغربی افراد نے سازش کے تحت ہدف بنایا ہے۔ ایک اور پیش رفت میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی رابطہ کاری شہباز گل نے کہا ہے کہ ووٹن کرکٹ لمٹیڈ کا تمام تر ریکارڈ قانونی ہے۔