پرامن و خوشحال جنوبی ایشیا
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 06 / جنوری / 2022
- 4440
’انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز‘ کے زیر اہتمام پچھلے دنوں اسلام آباد میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا موضوع تھا ’پرامن و خوشحال جنوبی ایشیا‘۔ ہمارے میڈیا نے یہاں زیر بحث آنے والے خیالات ، نظریات اور تجاویز کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی اور نہ ہی افتتاحی اجلاس میں پیش کردہ فرمودات کا جائزہ لیاہے جو ایسے شخص کی طرف سے پیش کئے گئے تھے جو بدقسمتی سے اس وقت ہماری اہم ترین ذمہ داری پر براجمان ہے۔
اور اکثر غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرتا پایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک کی ایک طاقتور شخصیت نے کہا تھا کہ ہماری موجودہ دنیا میں تنہا ممالک نہیں بلکہ خطے ترقی کا سفر کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے بھارت اور کشمیر کے حوالے سے اپنی سٹریٹیجی میں کچھ تبدیلیوں کا نقطہ بھی اٹھایا تھا۔ مگر مابعد یوں محسوس ہوا کہ انہوں نے اتنی بڑی بات جیسے تبرکاً کہی تھی ورنہ قومی پالیسی سازی بالخصوص خارجہ امور میں انہیں جو حیثیت حاصل ہے اور بطور ادارہ انہیں ہمیشہ سے جو دسترس حاصل رہی ہے، اس کے پیش نظر انہیں آگے بڑھ کر زیادہ اعتماد کے ساتھ اس کجی کی درستی کروانی چاہیے تھی۔ ان کے پیش رو، جس کے خود معمار رہے ہیں۔ رہ گئی ہماری موجودہ کمزور ترین سیاسی حکومت ، کون نہیں جانتا کہ وہ بیچاری خود جن بیساکھیوں پر کھڑی ہے اب وہ بیساکھیاں بھی ہولے ہولے کھسک رہی ہیں۔
بلاشبہ خارجہ پالیسی میں اس نوع کی بڑی سٹریٹیجک تبدیلی کا بھاری اقدام ایک بھاری عوامی مینڈیٹ رکھنے والی پراعتماد حکومت کو ہی اٹھانا چاہیے مگر ایسی حکومت کیلئے بھی یہ بھاری پتھر اٹھانا تب تک ممکن نہیں ہے جب تک ریاستی طاقتور اس کی پشت پناہی نہ کریں۔ یا کم از کم اس کی مخالفت سے دستکش نہ ہو جائیں اس کا عملی تلخ تجربہ تین مرتبہ منتخب ہونے والے کی قیادت میں ن لیگی حکومت کر چکی ہے۔ پاکستان کی انڈیا کے حوالے سے روایتی سٹریٹیجی میں تبدیلی کا خوبصورت ترین لمحہ اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا تھا، جب بی جے پی حکومت کا پاپولر ترین وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی خود چل کر آپ کے پاس لاہور آیا تھا اور مینار پاکستان کے نیچے کھڑے ہو کرکہہ رہا تھا کہ ہمارے سینے میں اگرچہ بٹوارے کا گھاؤ ہے لیکن ہم ان تلخیوں کو بھولتے ہوئے امن، ترقی اور خوشحالی کے نئے سبھائو کا آغاز کرنا چاہتےہیں۔
اس کو کوئی اگر پاکستان پر مہر کہتا ہے تو وہ میری مہر کے بغیر بھی چل رہا ہے مگر افسوس بدلے میں کارگل ہو گیا اور پھر وہ بھی کیا موقع تھا جب انڈین وزیراعظم نریندرا مودی بنفس نفیس اسی وزیراعظم پاکستان کے گھر لاہور پہنچ گئے مگر بدلےمیں پٹھان کوٹ ہو گیا۔ اور جب پاکستان کا پاپولر ترین وزیراعظم ، انڈین وزیراعظم مودی کی جیت کے حوالے سے سارک ممالک کی قیادتوں کے دوش بدوش تقریب میں شریک ہوا، اس موقع پر بداعتمادی کی تمام تر تلخیوں کو ختم کرتے ہوئے ایک نئی اپروچ کا آغاز ہو سکتا تھا مگر یہاں اسی دو تہائی اکثریت کا بھاری مینڈیٹ رکھنے والی پاپولر شخصیت کے خلاف وہ طوفان بدتمیزی اٹھایا گیا کہ الامان۔ مودی کا جو یار ہے وہ غدار ہے گویا ہمارا قومی نعرہ قرار پایا، اور آج حالت یہ ہےکہ اسی عوامی کرسی پر براجمان شخص بار بار اسی مودی کو فون کرتا ہے اور رونا روتاہے کہ وہ تو میری ایک کال بھی نہیں سنتا۔ دوسری طرف دنیا کی بڑی عالمی طاقت کے صدر سےشکایت ہے کہ وہ تو مجھے ایک فون کال تک نہیں کرتا۔ یعنی ہماری ناعاقبت اندیش پالیسیوں اور قیادت کی نااہلی نے آج ہمیں عالمی تنہائی کی اس کھائی میں لاپھینکا ہے۔ مایوسی کی یہ حالت ہے کہ آج ہماری بڑی ذمہ داری پر براجمان شخص پہ امید اور دعا کرتا پایا جا رہا ہے کہ کاش بھارت میں کوئی ایسی حکومت آ جائے جس کے ساتھ بیٹھ کر ہم خطے کے حالات اور باہمی تعلقات پر بات ہی کر سکیں کیونکہ میں نے بھارت کے ساتھ بات چیت کی پوری کوشش کی ہے۔ نریندرا مودی کو ٹیلی فون بھی کئے لیکن وہ پاکستان کی طرف سے امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھنے لگے ہیں۔ بھارت میں آر ایس ایس کا نظریہ رکھنے والی حکومت ہے اور ایک نظریے کے ساتھ ہمارا مقابلہ ہے اس لئے مشکل ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کوئی بات چیت کرے۔ یاد رہے کہ یہ الفاظ وہ شخص کہہ رہا ہے جس نے انڈین انتخابات کے موقع پر مودی کی جیت کیلئے دعائیں مانگی تھیں۔ اس سے ہماری سیاسی پختگی اور عالمی امور میں تدبر کا اندازہ و ادراک کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ہمالہ جیسے بلند بانگ دعوے ہیں کہ کبھی چائنہ امریکا کشیدگی ختم کروانے کھڑے ہو جاتے ہیں، کبھی سعودی ایرا ن تناؤ کو سلجھاتے پائے جاتے ہیں، کبھی افغانستان کی تعمیر نو کیلئے پوری دنیا کے سامنے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں۔ اندرونی حالت یہ ہے کہ عوام غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں بلک رہے ہیں، کہیں گیس نہیں آ رہی، کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے۔ پچھلوں کے ترقیاتی منصوبوں پر تختیاں لگاتے ہوئےفیتے کاٹ رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا جیسے اپنے قلعہ اور گڑھ میں عوام وہ درگت بنا رہے ہیں کہ ہر روز نئے سے نئے جواز گھڑ رہےہیں مگر بات بنائے نہیں بن رہی۔ اسی شرمندگی میں نظر اٹھاتے ہیں تو سامنے حضرت مولانا مسکراتے دکھائی دیتے ہیں۔ دعویٰ یہ ہے کہ میرے سے زیادہ مغرب کو کوئی نہیں جانتا کیونکہ میں وہاں اپنی جوانی مستانی کے دور میں پورے بیس سال رہا ہوں، وہاں ایلیٹ کلاس سے میرے بڑے تعلقات تھے۔ سارک ممالک اور ان کے حالات پر بھی میں ہنری کسنجر ہوں بلکہ کسنجر تومیرے مقابل کچھ بھی نہیں تھا۔ افغانستان کے اندرونی خلفشار کو بھی میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ حقانی افغانوں کا ایک قبیلہ ہے۔ پختون اگر بچیوں کو تعلیم نہیں دلواتے تو یہ بھی ان کا کلچر ہے جس کا پوری دنیا کو احترام کرنا چاہیے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
دنیا سرد جنگ کی جانب بڑھ رہی ہے بلاکس بن رہےہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ امریکا کو سمجھنا چاہیے، جو بائیڈن کو عقل سے کام لینا چاہیے۔ بھلے مانسو! کسے معلوم نہیں ہے کہ ’پرامن و خوشحال جنوبی ایشیا‘ کا بنیادی تقاضا کیا ہے؟ آپ خود اعتراف کر رہےہیں کہ آپ طاقت ، زور یا جنگ سے کشمیر کو جیت نہیں سکتے تو پھر دشمنی کا ہے کی ڈالے ہوئے ہیں؟ ان کی ایک ریاست اترپردیش پورے پاکستان کے برابر ہے، ایک ارب تیس کروڑ کے ملک کو آپ کیا سبق سکھانا چاہتےہیں۔ اگر آپ پاکستان کی ترقی و سلامتی کا داعیہ رکھتے ہیں تو پھر اس کا راستہ ’پرامن و خوشحال جنوبی ایشیا‘ کے بیچوں بیچ ہے، مسئلہ کشمیر کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ جو ان کا ہے وہ ان کا ہے اور جو ہمارا ہے۔ وہ ہمارا ہے دیگر منافرتوں کو بھول جائیں۔ آج اگر ہمیں وہاں جنونیت دکھتی ہے تو الحمدللہ اس کے معمار ہم خود ہیں۔ اگر آج وہاں آر ایس ایس کا نظریہ ہے تو اس نظریاتی جنگ کا آغاز انہوں نے نہیں خود ہم نے بربادی کی پوری سکیموں کے ساتھ کیاتھا۔
آج اگر ہمیں یہ سمجھ آ گئی ہے کہ اس منافرت اور شدت پسندی کے نتائج ہر دو اطراف کے لئے تباہ کن ہیں تو تائب ہونے میں پہل ہم کریں، وہ خود ہی ہو جائیں گے۔ ہم آگے بڑھ کر دنیا کے تمام بڑے مذاہب ہندو مت، بدھ مت، مسیحی مت اور یہودی مت سے اپنائیت، محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں، تمام سارک ممالک کے باشندوں سے اپنے قدیمی تہذیبی تعلق کو جوڑیں اور خطے کے ان تمام قابل قدر و احترام ممالک سے اپنے سیاسی، سفارتی،مذہبی، تہذیبی، تاریخی اور بالخصوص تجارتی تعلقات کو اس قدر بہتر استوار کریں۔ جیسے یورپی ممالک نے یورپی یونین کی صورت اختیار کر رکھے ہیں۔ ویزے کا خاتمہ ہی نہ کریں، مشترکہ کرنسی اور بھرپورتجارتی سہولتوں تک بڑھاوا دیں اور اسے سنٹرل ایشیا سے جوڑ دیں۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر نہ صرف پاکستان بلکہ پورا جنوبی ایشیا امن و خوشحالی کی منازل طے کر سکتا ہے۔