جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کرنے کی سفارش کردی
- جمعرات 06 / جنوری / 2022
- 3710
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ اب یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے ججوں کی تقرری کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اجلاس جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوا۔ اس اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج تعینات کرنے سے متعلق تھا۔
جسٹس عائشہ ملک کا نام دوسری مرتبہ کمیشن کے سامنے رکھا گیا تھا۔ اُن کا نام چیف جسٹس گلزار احمد نے تجویز کیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کے بعد وزیر قانون فروغ نسیم نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کے پانچ ارکان نے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی حمایت اور چار نے مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے تعیناتی کی حمایت کی۔ پاکستان بار کونسل کے سینیارٹی سے متعلق موقف پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس موضوع پر موجود ہیں جس میں واضح کیا جا چکا ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کی سپریم کورٹ میں تقرری پر سینیارٹی کا اصول مطلق نہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظر ثانی کرائے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آج تک کوئی خاتون جج تعینات نہیں ہوئیں۔ گذشتہ برس بھی جسٹس عائشہ ملک کا نام تجویز ہوا تھا تاہم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے ارکان کے چار چار ووٹ برابر ہونے کی وجہ سے اُن کی تعیناتی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔
پاکستان بار کونسل سمیت ملک بھر کی وکلا تنظیموں کا ایک دھڑا جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ جج نامزدگی کو ’سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے اس تجویز کی مخالفت کر رہا تھا۔ جبکہ خواتین وکلا کی تنظیم کا مؤقف ہے کہ سپریم کورٹ میں سینیارٹی کی بنیاد پر ججوں کی تعیناتی ابھی تک ایک معمہ ہے اور اس حوالے سے نہ تو ملکی آئین میں لکھا گیا ہے کہ سینیارٹی کو مدنظر رکھا جائے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی قانونی رکاوٹ ہے۔
گزشتہ اجلاس میں کمیشن کے رُکن اور سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج دوست محمد نے سنیارٹی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کی تھی اور وکلا کے موقف کی تائید کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد کی بطور ممبر کمیشن دو سال کی مدت پوری ہونے کے بعد اُن کی جگہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سرمد جلال عثمانی کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے جسٹس عائشہ ملک کی تقرری کی حمایت کی۔